سب ماموں بن گئے !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جنہیں متنازع میمو کے نتیجے میں مستعفی ہونا پڑا

جو حقانی۔اعجاز میمو اس وقت راولپنڈی سے واشنگٹن تک رائتے کی طرح پھیلا ہوا ہے اس کے بارے میں ایڈمرل ریٹائرڈ مائک مولن نے یہ تصدیق تو کردی کہ انہیں موصول ہوا لیکن اس کے متن پر مائک مولن کا تبصرہ آج تک سامنے نہیں آسکا۔

دن، تاریخ اور حوالے سے پاک میمو کی ابتداء میں ہی ایڈمرل مولن کو یہ کہہ کر خوش کرنے کی کوشش کی گئی کہ چونکہ جنرل کیانی صرف آپ کی بات پر کان دھرتے ہیں لہذٰا آپ ان سے اور جنرل پاشا سے براہ راست کہیں کہ وہ سویلین ڈھانچے کو الٹ پلٹ کرنے سے باز آجائیں۔

جب وہ باز آجائیں گے تو پھر ہم آپ لوگوں کے مشورے سے ایک نئی سیکورٹی ٹیم تشکیل دیں گے۔اس ٹیم میں کون سی سابق فوجی اور سویلین شخصیات شامل ہوں گی ان کے بارے میں میمو بھیجنے والا آپ سے بالمشافہ ملاقات میں گفتگو کر لے گا۔

اور جب نئی سیکورٹی ٹیم سویلین حکومت کی بھرپور تائید سے اپنا کام شروع کردے گی تو پھر نائن الیون کمیشن کی طرز پر ایک آزاد کمیشن آپ لوگوں کی مشاورت سے تشکیل دیا جائے گا اور اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دینے والوں کا تعین کرے گا جو سویلین، فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار ذمہ دار ثابت ہوئے انہیں برطرف کردیا جائے گا۔

نیشنل سیکورٹی ٹیم ایمن الظواہری، ملا عمر اور سراج الدین حقانی جیسے لوگوں کو آپ کے حوالے کردے گی یا پھر انہیں پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے امریکہ کو گرین سگنل دیا جائے گا۔ حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کرنے والے آئی ایس آئی کے ایس سیکشن کو تحلیل کرنے کے بعد افغانستان سے تعلقات ڈرامائی طور پر بہتر ہوجائیں گے۔

پاکستان کے جوہری اثاثوں کو ایک شفاف اور جوابدہی والے نظام کے تحت لانے کی کوشش کی جائے گی۔ نیشنل سیکورٹی ٹیم ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پورا تعاون کرے گی اور اس بابت کسی کے بارے میں ٹھوس ثبوت ملے تو اسے تفتیش کے لیے بھارت کے حوالے کردیا جائے گا۔

نو یا دس مئی کو یہ میمو جس مائک مولن کے حوالے کیا گیا وہ خود بیچارا ساڑھے چار ماہ بعد تیس ستمبر کو ریٹائر ہونے والا تھا اور اس بات کا بھی شاکی تھا کہ جس جنرل کیانی کو وہ اپنا دوست سمجھتا رہا وہ ایک دوہری شخصیت ثابت ہوا۔ اب اسے اگر میں فون بھی کروں تو کیا فائدہ ؟

مائک مولن اس پر بھی حیران ہوا ہوگا کہ حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ تو سی آئی اے کا شعبہ ہے میرا کیا لینا دینا۔ آخر لیون پنیٹا کے بجائے مجھے یہ میمو کیوں بھیجا گیا؟ اور پنیٹا تو خود چند روز میں سی آئی اے کی سربراہی سے سبکدوش ہونے والا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی نژاد امریکی شہری منصور اعجاز، جنہوں نے متنازع میمو کا انکشاف کیا

اور میمو میں جس نئی مافوق الفطرت نیشنل سکیورٹی ٹیم کا تذکرہ ہے اس میں ایسے کون سے امریکہ نواز ٹارزن ہوں گے جو فوج کے حاضر سروس جرنیلوں اور آئی ایس آئی سے بھی زیادہ طاقتور ہوں۔

جو کام بھلا امریکہ پچھلے دس سال میں اربوں ڈالر کی امداد اور خرچے کے باوجود نہ کرسکا وہ یہ سیکورٹی ٹیم کیسے کرلے گی۔ یقیناً یہ ٹیم مسمریزم کی ماہر ہو گی۔ وہ جنرل کیانی اور پاشا کو کہے گی تم سو رہے ہو۔۔۔تم سو رہے ہو اور جب وہ سو جائیں گے تو پھر چپکے سے آئی ایس آئی کا ایس ونگ بھی ٹوٹ جائے گا۔ ایمن الظواہری اور سراج الدین حقانی کو بھی جال پھینک کر پکڑ لیا جائے گا۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جہاں آج تک کوئی سویلین پر نہیں مار سکا، سویلین ہاتھوں میں آجائے گا۔

اور مجھے یہ پیش کش آخر کیوں کی گئی کہ ممبئی حملوں کے ملزم بھارت کے حوالے کردیے جائیں گے۔ امریکہ کا اس دو طرفہ معاملے سے کیا لینا دینا۔ کہیں ایسا ہی میمو نئی دلی میں کسی کو نہ بھیجا گیا ہو ؟ اور کٹ پیسٹ کے دوران یہ پیش کش غلطی سے مجھے بھیجے جانے والے میمو میں بھی شامل ہو گئی ہو۔

مولن نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ میمو لکھنے کے تین روز بعد تیرہ مئی کو جنرل کیانی اور پاشا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوئے۔ جنرل پاشا نے استعفٰی دینے کی بھی پیش کش کی۔ حکومت اور پارلیمنٹ نے اس موقع سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ جوکام وہ نہ کرسکے میں کیسے کرسکتا ہوں۔

یقیناً کسی نے مجھے جاتے جاتے ماموں بنانے کی کوشش کی ہے۔ مگر میں اکیلا تھوڑی ہوں۔ پاکستانی جرنیل، عدلیہ، میڈیا اور سیاستداں سب ماموں بن گئے ہیں ۔۔۔ ہشت۔۔۔ منصور اعجاز۔۔۔ شریر کہیں کا ۔۔۔

اسی بارے میں