کس نے کسے بیچ ڈالا !

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption شام میں سخت کارروائیوں کے باجود حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے

تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور بحرین میں گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں تو فرق ہوسکتا ہے لیکن مسئلے کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں۔

پانچوں ممالک میں لوگ جاری آمریت سے جان چھڑانا چاہتے تھے یا ہیں۔

تیونس میں عوام جلد ہی زین العابدین کی آمریت سے چند سو ہلاکتوں کی قیمت دے کر چھٹکارا پانے اور جمہوری انتخابات کروانے میں کامیاب ہوگئے۔

مصر میں جزوی کامیابی ہوئی اور مبارک آمریت کی جگہ چلمن میں بیٹھی فوجی آمریت نے لے لی۔ مصر میں پارلیمانی انتخابات تو کامیابی سے ہوچکے ہیں لیکن جب تک صدارتی انتخابات اور آئین سازی کا عمل آزادانہ طور پر مکمل نہیں ہوجاتا مصر کے جمہوری مستقبل کے گرد سرخ دائرہ ہی رہے گا۔

لیبیا میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور عرب لیگ کی مدد سے آنے والی تبدیلی ہنوز مشکوک ہے۔ لیبیا قذافی کی خاندانی آمریت کے ملبے سے نکل کر کسی مغرب نواز آمریت کا کمبل اوڑھ لےگا یا وہاں کے عام آدمی کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کی اجازت ملےگی۔ جواب کے لیے کم ازکم ایک سے دو برس درکار ہیں۔

یمن میں اگرچہ علی عبداللہ صالح نےخاصی خونریزی کے بعد کرسی اپنے نائب کے حوالے کردی ہے لیکن پرانا نظام اپنی جگہ برقرار ہے اور القاعدہ کا اثرونفوز روکنے کی آڑ میں یمنی عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کا خواب کچھ عرصے تک نامکمل رہے گا۔

بحرین میں تبدیلی کی خواہش اتنی ہی شدید ہے جتنی کسی اور عرب ملک میں۔ مگر بحرین کے انقلاب کو فی الحال مغربی تائید سے سعودی کمبل میں لپیٹ کر پیٹا جارہا ہے۔

شام میں گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران تبدیلی کے خواہش مندوں کی جتنی ہلاکتیں ہوچکی ہیں اتنی کسی اور عرب ملک میں نہیں ہوئیں۔ لیکن وہاں ایران، چین اور روس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔کیونکہ صدر بشار الاسد فی الوقت ایران کے واحد عرب دوست اور لبنان میں حزب اللہ کے ذریعے ایرانی اثرو رسوخ کی تنہا ضمانت ہیں۔

اسی طرح روس کا ملک سے باہر واحد بحری اڈہ شام میں ہے اور شام کو روس سوویت یونین کے ترکے سے ملنے والا اکیلا عرب دوست ہے۔ چین کے شام میں تجارتی مفادات کے علاوہ کوئی براہ راست مفادات نہیں لیکن چین اور روس شام میں تبدیلی کی مزاحمت کر کے امریکہ اور دیگر مغربی ویٹو طاقتوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہر دفعہ اور ہر جگہ صرف آپ کی من مانی نہیں چلے گی۔ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔

چین اور روس کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر لیبیا کی طرح مغرب کو شام میں کھلی مداخلت کی اجازت دے دی گئی تو پھر اگلا ہدف ایران ہوگا جو روس اور چین کے لیے اقتصادی، سیاسی و جغرافیائی طور پر شام سے زیادہ اہم ملک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین اور روس کو خدشہ ہے کہ اگلا ہدف ایران ہوگا

اگرچہ شام میں جاری موت کے کھیل کے پس منظر میں روس اور چین کی جانب سے ویٹو کا استعمال ایک افسوسناک عمل ہے لیکن جو ممالک اس ویٹو پر روس اور چین کی مذمت کررہے ہیں ان کا اپنا دامن بھی مفادات کی خونی ہولی سے کتنا پاک ہے۔ بقولِ امریکہ روس اور چین نے شامی عوام کو اپنے ویٹو کے ذریعے بیچ دیا ہے۔ لیکن خود امریکہ نے فلسطینیوں کے ساتھ کیا کیا؟

انیس سو بہتر سے آج تک امریکہ نے فلسطینیوں کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں بیالیس مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کیا۔گزشتہ بائیس برس میں امریکہ نے جو بارہ ویٹو استعمال کیے ان میں سے دس اسرائیل کی حمایت میں ہیں۔

سلامتی کونسل میں اب تک سابق سوویت یونین اور روس ایک سو چوبیس، امریکہ بیاسی، برطانیہ بتیس، فرانس اٹھارہ اور چین سات مرتبہ ویٹو کا حق استعمال کرچکے ہیں۔ ہر مرتبہ یہ ویٹو کسی نیک مقصد کے لیے نہیں بلکہ کچھ بیچنے اور کچھ خریدنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔

ایسی دنیا میں بھی اگر کوئی گروہ، طبقہ اور ملک اپنے خواب پالیتا ہے تو سلام ہے ایسے گروہ، طبقے اور ملک کو۔

اسی بارے میں