تیسری قسم کی ریاست !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption روہیفہ بی بی کو تین غائب ہونے والے بیٹوں میں سے ایک کی لاش ملی ہے

اب تو رشک آتا ہے ان پر جو طبعی موت مرتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بیماری میں مبتلا ہو کر ہم سے جدا ہوجاتے ہیں۔

مجھے حسد ہے ان لوگوں سےجو کسی ٹریفک حادثے کی نذر ہو گئے۔ کتنے اچھے ہیں وہ جو کسی کے فوری غصے کا شکار ہو کر آناً فاناً قتل ہو رہے ہیں۔ محاذ پر دشمن کی گولی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ کسی مارکیٹ میں بم پھٹنے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پولیس مقابلے میں لٹا دیے جاتے ہیں۔ طیارہ پھٹتے ہی فضاء میں بکھر جاتے ہیں۔ پانی میں ڈوب کر مچھلیوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

ان میں سے کوئی بھی مصدقہ موت نعمتِ خداوندی سے کم نہیں۔ کیونکہ ایسی کسی بھی موت کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بن سکتا ہے جو زندوں کے کام آتا ہے۔ مرنے والا بھلے گناہ گار ہو کہ بے گناہ، معصوم ہو کہ مجرم، شریف ہو کہ بدمعاش، ظالم ہو کہ مظلوم۔ بلوچ ہو کہ پٹھان، سندھی ہو کہ پنجابی یا کشمیری۔

زیادہ تر کو کفن، کاندھا، قبر نصیب ہو ہی جاتی ہیں۔ ورثاء کو چند روزہ دکھ کے بعد صبر کی دولت میسر آجاتی ہے اور ان کی زندگی آسودہ ذہن کے ساتھ رفتہ رفتہ معمول پر آتی چلی جاتی ہے۔

گو ان کا پیارا تو نہیں رہتا البتہ بطور نشانی قبر ضرور چھوڑ جاتا ہے۔ اس قبر پر آپ کتبہ لگا سکتے ہیں، پانی چھڑک سکتے ہیں، لپائی کرسکتے ہیں، پھول بکھیر سکتے ہیں، مرنے والے کا قصیدہ کہہ سکتے ہیں، برسی منا سکتے ہیں۔ خاص دنوں، تہواروں یا فرصت کے لمحات میں حاضری دے سکتے ہیں، مقبرہ کھڑا کر سکتے ہیں۔ اس کے سرہانے تنہا بیٹھ کر باتیں کرسکتے ہیں۔ جاتے جاتے پیچھے مڑ کے دیکھ سکتے ہیں اور پلٹ کر آ بھی سکتے ہیں۔

اگر آپ اب بھی ایک مصدقہ موت جیسی نعمت کی قدر و قیمت پر قائل نہیں تو کوئی بات نہیں۔ کوہاٹ کی روہیفہ بی بی بھی آپ کی طرح قائل نہیں تھیں۔ لیکن جب سے انہیں اپنے تین غائب ہونے والے بیٹوں میں سے ایک کی لاش ملی ہے وہ بہت ہی بے صبری ہوگئی ہیں۔اس قدر اتاولی کہ انہوں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کر دیا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو حکم دیا جائے کہ ان کے باقی دو بیٹوں کو بھی جلد از جلد مار کر کہیں پھینک دیں تاکہ ان کی شکل تو دکھے۔ ان کی تدفین تو ہو سکے۔

اردو کے ایک سرکردہ شاعر جمال احسانی نے اپنے ایک دیباچے میں لکھا کہ میں نے اپنی ماں کو اگر کوئی سکھ دیا تو یہ کہ ان کی زندگی میں نہیں مرا۔ جمال احسانی انیس سو اٹھانوے میں طبعی موت کا لطف لینے کے بجائے اگر آج زندہ ہوتے تو مجھے یقین ہے کہ اپنے ہاتھوں یہ جملہ لکھتے کہ میں نے اپنی ماں کو اگر کوئی سکھ دیا تو یہ کہ ان کی زندگی میں اغواء ہو کر لاپتہ ہونے سے بچ گیا۔

پولٹیکل سائنس کے طلباء اب تک یہی پڑھتے آئے ہیں کہ کسی بھی عام شہری کے لیے ریاست کی دو قسمیں ہوتی ہے۔ چارہ گر ریاست اور بے چاری ریاست۔ مگرسپریم کورٹ میں روہیفہ بی بی کی پیٹیشن بتاتی ہے کہ ریاست کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے۔ یعنی ایسی ریاست جس کا تعلق تیسری جنس سے ہو۔

اسی بارے میں