بگڑا ہوا لاڈلا

بلوچستان کے لاپتہ لوگ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اگر پاکستانی پارلیمان میں ایک مرتبہ بھی بلوچستان میں مسلسل لاپتہ ہونے والے افراد اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے معاملے پر تشویش کی متفقہ قرار داد منظور ہوجاتی تو شاید امریکی کانگریس میں بلوچستان کے حالات پر سماعت کا ڈرامہ نا ہوتا اور نا ہی وہ قرارداد ایوانِ نمائندگان میں پیش ہوتی جس کی علامتی کے سوا کوئی قانونی اہمیت نہیں۔

لیکن اگر آپ چاہیں تو اس خامخواہ کی قرارداد کو میمو گیٹ کی طرح ملک کا نمبر ون مسئلہ فرض کرکے جہاں تک لے جانا چاہیں لے جا سکتے ہیں۔

فرض تو کوئی بھی کچھ بھی کرسکتا ہے۔جیسے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی ایکشن نہیں ہو رہا۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے محض غیرملکی مداخلت اور سازش کا نتیجہ ہے اور یہ بلوچ بمقابلہ بلوچ لڑائی ہے۔

جیسے یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں باغی نواب نوروز خان زرکزئی کو قرآن کا واسطہ دے کر پہلے پہاڑوں سے اتارا گیا۔ پھر ان کے ایک بیٹے سمیت پانچ عزیزوں کو سکھر جیل میں بغاوت کے جرم میں پھانسی دے دی گئی اور نوروز خان کوہلو جیل میں مرگئے۔ یہ سارا ڈرامہ کینیا کی حکومت نے کھیلا تھا تاکہ ایوب خان کی مارشل لاء انتظامیہ بدنام ہوجائے ۔

سن تہتر میں بلوچستان میں مینگل بزنجو منتخب قوم پرست حکومت کی برطرفی کے پیچھے دراصل حکومتِ سویڈن کی سازش تھی تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کی گردن پھنس جائے۔ بعد ازاں نواب خیر بخش مری اور عطا اللہ مینگل وغیرہ کے حامیوں نے عراق کے بہکاوے میں آ کر ہتھیار اٹھا لئے مگر اس بغاوت کو رضا شاہ پہلوی کے دستوں نے کچلا اور ایک ایرانی عدالت نے حیدرآباد جیل میں بلوچ لیڈروں پر پاکستان سے غداری کا مقدمہ بھی چلایا۔

نواب اکبر بگٹی کو جاپانی کمانڈوز نے پہاڑوں میں گھیر کر ہلاک کیا تاکہ پرویز مشرف کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوجائے۔

یہ کہنے میں بھی کیا حرج ہے کہ ایک جانب کوئٹہ کی ہزارہ کیمونٹی کو امریکی نسل پرست تنظیم کوکلس کلان کے دھشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری جانب ہزارہ کیمونٹی کو یہ کہہ کر بہکایا جارہا ہے کہ ان ہلاکتوں کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ کالعدم تنظیموں کا ہاتھ ہے۔

خروٹ آباد چیک پوسٹ پر ایک منگولیائی نیم فوجی دستے نے بھارتی بندوقیں استعمال کرتے ہوئے ایک نہتے ازبک خاندان کو گولیوں سے بھون دیا تاکہ کٹہرے میں مقامی پولیس اور فرنٹیر کور کو کھڑا کردیا جائے۔

صوبے بھر میں گزشتہ دس برس سے جو سینکڑوں سیاسی کارکن لاپتہ ہورہے ہیں اور ان میں سے کچھ کی مسخ شدہ لاشیں روزانہ سڑک یا بیابان میں پڑی مل جاتی ہیں۔ بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کام ایم آئی یا آئی ایس آئی یا انکے حمایت یافتہ ڈیتھ سکواڈ کا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں دراصل ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ایجنٹ آمنہ مسعود جنجوعہ کی مدد سے اغوا اور ہلاک کررہے ہیں ۔

بلوچستان کی تمام شاہراہوں پر جتنی بھی چیک پوسٹیں ہیں ان پر پرتگالی نیم فوجی دستے متعین ہیں اور جتنے عقوبت خانے ہیں انکا کنٹریکٹ بلیک واٹر کے پاس ہے۔

شمشی ایربیس پاکستان نے بھائی بندی میں متحدہ عرب امارات کے حوالے کیا ۔امارات کے تلور بازوں نے اسے چپکے سے امریکہ کو کرائے پر دے دیا۔جیسے ہی پاکستان کو اس چالاکی کا علم ہوا اس نے امریکیوں سے شمشی ایربیس خالی کرا لیا۔

یہ حقیقت بھی تو فرض ہوسکتی ہے کہ وفاقِ پاکستان اور اس کے یونٹوں نے ہمیشہ بلوچوں کو اپنا لاڈلا چھوٹا بھائی سمجھا ہے۔ہر گاؤں میں پینے کے صاف پانی کے پلانٹ اور ہر قصبے میں انگلش میڈیم سرکاری سکولوں کا جال بچھا ہے۔ جیسی اچھی سڑکیں بلوچستان میں ہیں شاید ہی کسی اور پاکستانی صوبے میں ہوں۔

قدرتی وسائل کی آدھی آمدنی کے مالک اہلِ بلوچستان ہیں۔ وفاقی بیورو کریسی میں ہر تیسرا سیکرٹری بلوچستانی ہے۔آغازِ حقوقِ بلوچستان کے انقلابی پیکیج کے تحت بے روزگاری ایسے ختم ہوگئی کہ اب یہ حالت ہے کہ سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں لیکن انہیں بھرنے والا کوئی مقامی دستیاب نہیں۔

چنانچہ ایسی شاندار ترقی کے سبب پاکستان کے تمام ہمسائیہ ممالک میں آباد پسماندہ چھوٹی قومیتیں بھی اب بلوچستان کی طرز پر ترقی کا مطالبہ کررہی ہیں ۔لہذا مارے حسد و خوف کے بھارت ، ایران اور افغانستان سمیت سب علاقائی طاقتیں امریکہ کی مدد سے بلوچستان کو جنت نظیر سے جہنم نظیر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

مگر ایسے نادان بلوچوں کا کیا علاج جو نہیں جانتے کہ ان کا دشمن کون ہے اور دوست کون؟ لاڈلا بچہ بھی اگر بے شعوری میں آگ سے کھیلنے پر بضد ہو تو والدین دو چانٹے رسید کر ہی دیتے ہیں۔اس میں بھلا اہلِ محلہ کو واویلا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

بات یہ ہے کہ جتنی توجہ گزشتہ چونسٹھ برس سے فرضی و حقیقی غیرملکی سازشوں کی جانب مبذول کرانے پر دی جارہی ہے اس سے آدھی توجہ میں وفاقِ پاکستان کے قومیتی مسائل بہت پہلےحل کئے جاسکتے تھے۔

لیکن مسئلے اگر اتنی آسانی سے حل ہونے لگیں تو حکمرانی اور سیاست کا پھر کیا فائدہ۔

اسی بارے میں