’قبائلی صحافی کے لیے صحافت کرنا مشکل ہی رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

آج یکم مارچ دو ہزار بارہ ہے اور بی بی سی میں میرے دس سال پورے ہوگئے ہیں۔ ان دس سالوں میں قابل ساتھیوں کی رفاقت نصیب ہوئی ہے جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور ان ہی خوشگوار لمحات میں وہ لمحے بھی شامل ہیں جب ایوارڈ کی صورت میں لندن میں میری پذیرائی کی گئی۔

یہاں اگر میں ان چند تلخ لمحات کا ذکر نہ کروں جو میری زندگی پر ہمیشہ حاوی رہیں گے تو میں اپنے سننے اور پڑھنے والوں کے ساتھ نا انصافی کروں گا۔

ان تلخ لمحوں میں ایک لمحہ وہ تھا جب خفیہ ایجنسی کے اہلکار مجھے اٹھا کر لے گئے تھے۔ پھر ایک ایسا وقت بھی آیا جب ہماری گاڑی پر کیے گئے ایک حملے میں میرے ہمراہ دو صحافی دوست اللہ نور اور امیر نواب ہلاک ہو گئے۔

یہ سنہ دو ہزار دو کی بات ہے جب میں جنوبی وزیرستان ایجنسی کے صدر مقام وانا میں رہائش پذیر تھا۔ نجی سطح پر اپنے ایک چھوٹے سے سکول اور مختصر خاندان اور چند دوستوں پر مشتمل میری کُل کائنات تھی۔ میں بُہت سادہ زندگی گُزار رہا تھا اور جانتا تھا کہ غربت کے سائے صحافت سے مٹ جانے والے نہیں لیکن پھر بھی شوق تھا۔

ایک بار میری جیب میں صرف دس روپے کا نوٹ تھا اور کڑیکوٹ سے وانا بازار تک کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ ایسا اس لیے کیا کہ دس روپے کا نوٹ اخبار کوخبر فیکس کرنے کے لیے بچا سکوں۔

افغانستان سے طالبان کی قبائلی علاقوں میں آمد کے بعد مقامی صحافیوں کے آمدن کے ذرائع بڑھ گئے۔ ایک تو مقامی صحافیوں کے رابطے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے اداروں سے ہونے لگے اور دوسرا ان کی خبروں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔

جب میرا رابطہ بی بی سی کے حکام سے ہوا تو شروع میں اکثر پروڈیوسر مجھ سے صرف مقامی حکام کے نمبر مانگ لیا کرتے تھے یا انہیں کسی سے رابطہ کرنا ہوتا تو میں ان کی مدد کردیا کرتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس کے بعد ایک روز راجا ذوالفقار نے فون کر کے کہا کہ وانا میں امریکہ کے خلاف مظاہرہ ہوا ہے اور اس کی رپورٹنگ آپ کر دیں۔ اگرچہ یہ سن کر میں بے حد خوش ہوا لیکن ساتھ میں مجھے یہ خوف بھی تھا کہ آیا میں یہ کام کر بھی سکوں گا یا نہیں؟ بہرحال اللہ پر یقین تھا اور میں نے اس سمندر میں چھلانگ لگا دی اور اب تک غوطے کھا رہا ہوں۔

پہلے روز رپورٹنگ کے لیے میرے پاس کوئی باقاعدہ ریکارڈنگ مشین نہیں تھی اس لیے ایک چھوٹے ٹیپ ریکارڈر پر میں نے آوازیں ریکارڈ کیں۔ یہ آوازیں میں اکثر ٹیلیفون کے ذریعے لندن منتقل کر دیا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ کوئی دو سال تک جاری رہا لیکن آج جب وہ دن یاد کرتا ہوں تو اپنی سادگی اور بے حالی پر ہنسی بھی آتی ہے اورخوشی بھی ہوتی ہے۔

اس کے بعد ایک دن عامر احمد خان وانا آئے۔ اگرچہ ان دنوں وہ بی بی سی کی انگلش سروس کے لیے کام کرتے تھے لیکن ان کا رویہ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوستانہ رہا ہے اس لیے وانا میں بھی ان کے ساتھ دوستانہ ماحول میں کام کیا۔

عامر احمد خان نے میرے کام کا طریقہ اور محدود وسائل دیکھے تو جاتے جاتے اپنا قیمتی لیپ ٹاپ میرے حوالے کر گئے اور یہ کہہ گئے کہ ’دلاور تم اس لیپ ٹاپ سے کام کرو کیونکہ ایک ٹوٹے ٹیپ ریکارڈر سے تم کام صحیح نہیں کر پاؤ گے۔‘

وہ ایک لمحہ میرے ذہن میں ایسا نقش ہوا کہ میں آج بھی وہ وقت یاد کرتا ہوں۔

لیپ ٹاپ ملنے کی اتنی خوشی تھی کہ میں ساری رات سو نہیں سکا اور بار بار سرہانے سے گردن اٹھا کر لیپ ٹاپ کے بیگ کی طرف دیکھتا کہ کہیں میں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا۔ عامر احمد خان کا وہ لیپ ٹاپ میرے پاس دو سال رہا اور اسی لیپ ٹاپ پر میں نے ریکارڈنگ، ایڈیٹنگ اور اردو ٹائیپنگ سیکھی تھی۔ یہ لیپ ٹاپ میں نے دو سال کے بعد انہیں واپس کر دیا کیونکہ اس وقت بی بی سی نے مجھے نہ صرف لیپ ٹاپ بلکہ دیگر سامان بھی فراہم کر دیا۔

ایک قبائلی صحافی کے لیے صحافت کرنا تب بھی مشکل تھا جب یہاں طالبان کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ قبائلی روایات بھی آزاد صحافت کی راہ میں کافی رکاوٹ ہیں۔ میں کیمرہ ساتھ لے کر جاتا تو راہ گزرتے لوگ مجھے حقارت کی نظروں سے دیکھتے کیونکہ قبائلی معاشرے میں کیمرہ پردے کی توہین سمجھاجاتا ہے۔ ایک صحافی کی خبر کسی کے خلاف جائے یا اگر کسی کو پسند نہ آئے تو قبائلی علاقے میں عدالت سے رابطہ نہیں کیا جاتا بلکہ بندوق کی نوک پر ہی حساب کتاب کر دیا جاتا ہے۔

بی بی سی میں کام کرتے ہوئے مجھے دس سال پورے ہو گئے ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابھی کل ہی کی بات ہے جب سنہ دو ہزار تین میں کراچی میں منعقد کی گئی ایک ٹریننگ میں تمام ساتھیوں سے میری ملاقات ہوئی۔ سب ہوائی جہاز پر کراچی پہنچے اور میں ڈیرہ اسماعیل خان سے بس میں چوبیس گھنٹے کا سفر طے کرکے کراچی پہنچا تھا۔

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب دسمبر دو ہزار چھ میں، میں لندن گیا تھا۔ لندن میں بش ہاؤس اور پھر بش ہاؤس میں کام کرنا، تمام راستوں کو یاد رکھنا، لوگوں سے ملنا اور ان کے ساتھ اپنی باتیں کرنا، سب بہت اچھا لگا۔

یقین جانیے مجھے اب بھی ایسا نہیں لگتا کہ بی بی سی میں آئے ہوئے مجھے دس سال پورے ہو گئے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ عمر بڑھتی جاتی ہے لیکن بی بی سی میں کام کرتے ہوئے مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی نوجوان ہوں اور ہر لمحے ہر طرح کی رپورٹنگ کے لیے تیار ہوں۔

اسی بارے میں