میرے اتنے سارے دشمن !

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کو پاکستانیوں کی شکل میں اور پاکستان کو ہندو بنیئے کی صورت میں ایک زبردست دشمن ہاتھ آ گیا!

جب میرے والد جودھپور ریلوے سٹیشن کی بھگدڑ میں استعمالی کپڑوں کا ایک چھوٹا سا سفری صندوقچہ کھونے کے بعد ٹرین کے ڈبے کے ڈنڈے سے لٹکے لٹکے پاکستان میں داخل ہوئے تو محمد علی جناح کی طرح میرے والد بھی اس گمان میں تھے کہ چند دنوں میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور نفرت کی دھول بیٹھ جائے گی تو پاکستان اور بھارت نارمل ملکوں کی طرح ہو جائیں گے۔

پھر پتا یہ چلا کہ بھارت کو پاکستانیوں کی شکل میں اور پاکستان کو ہندو بنیئے کی صورت میں ایک زبردست دشمن ہاتھ آ گیا اور پھر دونوں ملکوں کے بالادست طبقے نے اس دشمنی کو اربوں ڈالر کی انڈسٹری بنا ڈالا ۔

جب میں تقسیمِ برِ صغیر کے لگ بھگ پندرہ برس بعد پیدا ہوا تو ورثے میں نہ صرف بھارت کی دشمنی منتقل ہوئی بلکہ یہ بھی بتایا گیا کہ ملحد ، کیمونسٹ، سوشلسٹ سرخے نہ صرف دین بلکہ انسانیت اور ملک و قوم کے اتنے بڑے دشمن ہیں کہ یہود و نصارٰی کا بغض تو ان کے آگے کچھ بھی نہیں۔

پھر اس نظریے میں یہ ترمیم ہوئی کہ سب کیمونسٹ برے نہیں ہوتے۔ سوویت کیمونسٹ برے اور چینی کیمونسٹ اچھے ہوتے ہیں۔ یہ تب کی بات ہے جب برے اور اچھے طالبان کی پیدائش میں پینتیس چالیس برس باقی تھے۔

جب میں سیکنڈری کلاس میں پہنچا اور اچھے برے کی کچھ تمیز ہونے لگی تو ایک دن اسکول سے واپسی پر اچانک میرے والد نے سرگوشی کی کہ ناصر کے گھر مت جایا کرو۔ بس رسمی سی علیک سلیک رکھو ۔اس سے کھانے پینے کی چیزیں بھی لے کر نہ کھایا کرو کیونکہ وہ قادیانی ہے۔ آج سہ پہر سے یہ لوگ سرکاری طور پر غیرمسلم اور ایک سازشی اقلیت ہوگئے ہیں۔ رفتہ رفتہ ناصر کے گھر والوں سے محلے والوں کی بول چال کم سے کم ہوتی چلی گئی اور ایک دن ناصر لوگ محلہ ہی چھوڑ گئے۔

کالج کے زمانے تک میرے دشمنوں کی فہرست میں بھارت، کیمونسٹ اور قادیانی ہی تھے کہ ایک دن قریبی مسجد میں دو گروہوں میں لٹھ بازی اور جوتم پیزار ہوگئی۔ یا رسول اللہ کہنے والوں کو رسول اللہ کہنے والوں نے زیادہ پیٹا کیونکہ ان کے خیال میں ’یا‘ کا لفظ صرف اللہ کے لیے ہے اور یا رسول اللہ کہنے والے مشرک اور بدعقیدہ ہوتے ہیں۔

کچھ عرصے تک قصبے کی دیواروں پر ایک دوسرے کے خلاف چاکنگ بھی ہوتی رہی۔ ’بت پرست بریلوی مردہ باد‘، ’’اولیا دشمن دیوبندی ہائے ہائے‘۔ تب مجھ پر کھلا کہ دشمنی کے گیٹلاگ میں اب دیوبندی یا بریلوی میں سے بھی کسی ایک کو شامل کرنا ہے۔

پھر میں صحافت میں آگیا اور پھر ایک دن نائن الیون ہوگیا اور پھر دورِ ضیاء کا روسی کتا ہائے ہائے کا نعرہ مشرف با امریکی کتا ہائے ہائے ہوگیا۔ مسلمان اور پاکستان دشمنی کا کام رفتہ رفتہ کے جی بی سے را، موساد اور سی آئی اے کی ناپاک تکون کے سپرد ہوگیا ۔

یہی وہ تکون ہے جو این جی اوز اور مقامی عیسائیوں کی مدد سے ہمیں اور آپ کو مغرب زدہ اور نام نہاد لبرل بنا کر کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے تاکہ اسلام کے واحد ایٹمی قلعے میں اندر سے شگاف ڈالا جاسکے۔

یوں چالیس بیالیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے میرے داخلی و خارجی مذہبی اور قومی دشمنوں کی فہرست جو کبھی صرف بھارت تک محدود تھی لمبی ہوتے ہوتے درجن سے بھی آگے نکل گئی۔

اور پھر کل کا دن بھی آگیا جب پریس کلب میں میرے ایک کلین شیو بہی خواہ نے اپنا منہ کان کے قریب لاتے ہوئے کہا ’یہ شیعہ لابی کچھ زیادہ ہی پر پرزے نہیں نکال رہی ۔۔آپ کیا کہتے ہیں‘۔

اسی بارے میں