پاکستان میں موروثی سیاست کا نمایاں رنگ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان میں سیاست صوبائی سطح کی ہو یا قومی سطح کی، عام انتخابات ہوں یا پھر کسی سیاسی جماعت کے عہدیداروں کا چناؤ ان میں موروثی سیاست کا رنگ نمایاں ہے۔

حالیہ ضمنی اور سینیٹ کے انتخابات میں کہیں بیٹا تو کہیں والد رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور کہیں بھائی کے حصہ سیاسی جماعت کا عہدہ آیا۔

وزیر اعظم سے لیکر وزرائے اعظم تک سب کے قریبی رشتہ دار مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔

باپ، بیٹے اور بھائی کے بیک وقت اسمبلی کا رکن ہونے کی بات ہو تو وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا نام سر فہرست ہے۔

ان کے ایک بیٹے عبدالقادر گیلانی اور بھائی احمد مجتبیٰ گیلانی پہلے ہی پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں اور اب ان کے ایک اور بیٹے سید علی موسیٰ گیلانی بھی ضمنی انتخاب میں کامیاب ہو کر اپنے والد کے ساتھ رکن قومی اسمبلی بن گئے ہیں۔

وزیر اعظم کے علاوہ وفاقی وزیر منظور وٹو اور ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو کو ایک ہی وقت میں رکن اسمبلی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ان کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سپیکر قومی اسمبلی فمیہدہ مرزا کے بیٹے حسنین مرزا بھی ضمنی انتخابات میں ہی سندھ اسمبلی کے رکن چنے گئے۔ حسنین مرزا اپنے والد ذوالفقار مرزا کی خالی ہونے والی نشست پر کامیاب ہوئے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں ہی مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدر اور رکن پنجاب اسمبلی مخدوم احمد محمود کے بیٹے مخدوم مصطفیٰ محمود بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

وفاقی کابینہ کے مزید تین وزراء کے بیٹے بھی رکن صوبائی اسمبلی ہیں ان میں مخدوم امین فہیم وفاقی کابینہ کے وزیر جبکہ ان کے بیٹے مخدوم جمیل الزمان سندھ کابینہ کا حصہ ہیں۔ سینیئر وفاقی وزیر چودھری پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ اور وفاقی وزیر انور چیمہ کے بیٹے عامر سلطان چیمہ پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ انور چیمہ کی بہو تنزیلہ چیمہ بھی اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں۔

جہاں سیاست دانوں کے بیٹے اپنے والد کی موجودگی میں اسمبلی تک پہنچے ہیں وہیں ایسی سیاسی شخصیات بھی ہیں جن کے والد سینیٹ کے انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختنوانخو کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے والد اعظم خان ہوتی سینیٹر بن گئے۔ اسی طرح سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور موجودہ صوبائی وزیر دوست محمد کھوسہ کے والد سردار ذوالفقار کھوسہ بھی سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سینیٹ کے انتخابات میں اے این پی کے نو منتخب سینیٹر الیاس بلور کے ایک بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر اور دوسرے بھائی بشیر بلور سینئر صوبائی وزیر ہیں۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ان بھائی مولانا عطاء الرحمان ڈیرہ اسماعیل خان سےجبکہ مسلم لیگ نون کے راجہ صفدر اور راجہ اسد جہلم کے دو حلقوں سے بیک وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ قاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور ان کے بھائی چودھری وجاہت حسین بھی بیک وقت پارلیمان کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے ہی خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی کے رکن ہیں جبکہ ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistans Commerce Ministry

قومی اسمبلی میں ایسے دو بہن بھائی بھی ہیں جو بیک وقت دو مختلف جماعتوں سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ یاسمین رحمان کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ ان کے بھائی پرویز ملک مسلم لیگ نون کی طرف رکن اسمبلی سے ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو جماعت کا صوبائی سربراہ چنا گیا ہے ان کے مدمقابل کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔

مسلم لیگ نون پنجاب کے نومنتخب نائب صدر جعفر اقبال کی اہلیہ عشرف جعفر قومی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ ان کی بیٹی زیب جعفر کے پاس پنجاب اسمبلی کی رکنیت ہے۔

اسی بارے میں