’فاروق ایچ نائیک جو دوبارہ منتخب نہیں ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو ہزار نو میں سینیٹ کے انتخابات میں محمد میاں سومرو چئیرمین سینیٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے

فاروق ایچ نائیک گزشتہ چار دہائیوں میں پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں جنہوں نے اس عہدے پر سب سے کم عرصہ گزرا اور انہیں دوسری مرتبہ کے لیے چیئرمین سینیٹ نہیں چنا گیا۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک مارچ دو ہزار نو میں سینیٹ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور مارچ دو ہزار بارہ میں اس عہدے سے سبکدوش ہوگئے۔

آئین کے تحت تو چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر کسی بھی سینیٹر کا انتخاب تین برس کے لیے ہوتا ہے لیکن اس عہدے پر فائز رہنے والے سینیٹرز کو ایک سے زیادہ مرتبہ چیئرمین سنینٹ منتخب کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ کے منصب پر ایک سے زیادہ مرتبہ ایک ہی سینیٹر کے چنے جانے کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنا پرانا یہ عہدہ ہے۔

آئین کے تحت چیئرمین سینیٹ ملک کے صدر کی عدم موجودگی میں قائم مقام صدر کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کے منصب پر ایک سےزائد بار ایک ہی سینیٹر کے چنے جانے کی روایت اس وقت پڑی جب سینیٹ کے پہلے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ حبیب اللہ خان مروت کو ان کے عہدے کی معیاد مکمل ہونے پر دوبارہ تین سال کے لیے چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔

تاہم ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کی وجہ سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے حبیب اللہ خان مروت اپنے عہدے کی دوسری مدت کی معیاد مکمل نہ کر سکے۔

ملک میں مارشل لاء کے خاتمے کے بعد جب پارلیمان کو بحال کیا گیا تو فوجی حکومت کے وزیر خزانہ غلام اسحاق خان کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا گیا اور ان کے عہدے کی مدت ختم ہونے پر انہیں دوبارہ تین برس کے لیے چیئرمین سینیٹ چنا گیا تاہم وہ فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت کے بعد صدر بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاروق ایچ نائیک کے سبکدوش ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے سید نیئر بخاری تین برس کے لیے سینیٹ کے نئے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں

وسیم سجاد واحد سینیٹر ہیں جو طویل ترین عرصے تک چیئرمین سینیٹ رہے اور چار مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ ہوتے ہوئے صدر پاکستان کے منصب کے لیے انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لیا تاہم وہ اپنے مدمقابل اس وقت کے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار فاروق احمد خان لغاری سے ہار گئے۔

بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کو جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا اس وقت وسیم سجاد سینیٹ کے چیئرمین تھے اور فوجی اقدام کی وجہ سے وہ اپنے عہدے کی معیاد پوری نہ کر سکے۔

فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد مارچ دو ہزار تین میں محمد میاں سومرو کو چیئرمین سینیٹ بنایا گیا اور مارچ دو ہزار چھ میں انہیں تین برس کے لیے اسی عہدہ پر دوبارہ منتخب کیاگیا۔

جنرل پرویز مشرف نے محمد میاں سومرو کو چیئرمین سینیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ نگران وزیراعظم بھی نامزد کر کے ایک نئی روایت ڈال دی۔

دو ہزار نو میں سینیٹ کے انتخابات میں محمد میاں سومرو چئیرمین سینیٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے اور پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائیک اس عہدے کے لیے چنے گئے۔

فاروق ایچ نائیک کے سبکدوش ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے سید نیئر بخاری تین برس کے لیے سینیٹ کے نئے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں اور اس طرح تیسری مرتبہ پیپلز پارٹی کے حصے چیئرمین سینیٹ کا عہدہ آیا ہے۔

مجموعی طور چیئرمین سینیٹ کے عہدہ پر پنجاب، سندھ اور خیبر بختوانخوا سے دو دو سینیٹر منتخب ہوئے اور یہ عہدہ زیادہ تر پیپلز پارٹی کی مخالف سیاسی جماعتوں کے پاس رہا۔

اسی بارے میں