قرار دادِ پاکستان کیا ایسی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’منٹو پارک لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ عظیم الشان اجلاس سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں ایسا کوئی آئینی انتظام کارآمد یا مسلمانانِ ہند کو قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ جس کی بنیاد مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں پر نہ رکھی گئی ہو۔

یہ کہ برطانوی ہند کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کو ضروری تبدیلیوں کے ساتھ ایسے مسلمان اکثریتی خطے کی شکل دی جائے جس میں شامل یونٹ آزاد و خود مختار ہوں۔

تاہم مسلمان اکثریتی خطے کی تشکیل کے بعد اگر قومی مفاد میں آئینی، قانونی، انتظامی و جغرافیائی ضرورت محسوس ہوئی تو خطے میں شامل آئینی یونٹوں کو آپس میں ضم کیا جاسکے گا یا حسبِ ضرورت ان یونٹوں کے جغرافیائی ڈھانچے میں تبدیلی و تغیر بھی ہوسکے گا۔ اگر قومی مفاد کا تقاضا ہوا تو ان یونٹوں کی آئینی خود مختاری غیر معینہ مدت کے لیے ایک مضبوط مرکزی ڈھانچے کے تابع رکھنے کی بھی گنجائش ہوگی۔

خود مختار اکثریتی خطہ معروضی حالات وضروریات کی روشنی میں وقتاً فوقتاً صدارتی، پارلیمانی یا مارشل لائی طرزِ حکومت اپنانے یا مسترد کرنے کا بھی مجاز ہوگا۔ اور یہ کہ مرکز اور یونٹ کے درمیان کسی اختلاف کی صورت میں مرکز کا فیصلہ حتمی تصور ہو گا اور یہ کہ ایسے فیصلے کے خلاف کسی ایسی سیاسی، جغرافیائی یا معاشی مزاحمت سے قرار واقعی نمٹا جاسکے گا جو مرکز کے خیال میں خطے کی عمومی یکجہتی پر اثرانداز ہو رہی ہو۔

اور یہ کہ نو تشکیل شدہ خطے میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی مشاورت سے ان کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے موثر، مناسب اور لازمی آئینی تحفظات فراہم کئے جائیں۔ اسی طرح کی لازمی قانون سازی ہندوستان کے ان خطوں میں بھی کی جائے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔

تاہم مسلمان اکثریتی خطے کی تشکیل کے بعد قانون سازی کا سرچشمہ شریعت کو قرار دینے کی صورت میں اگرچہ مذہبی و نسلی اقلیتوں کو بنیادی آئینی و قانونی حقوق کی مناسب ضمانت تو یقیناً حاصل رہے گی لیکن ان اقلیتوں کو یہ زہن نشین کرنا ہوگا کہ اپنے قول و فعل سے دانستہ یا نادانستہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں جو اکثریت کی دل آزاری کا سبب بن جائے اور الٹا ان اقلیتوں کے لیے قلیل یا طویل المعیاد عرصے میں سماجی و سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو۔

آل انڈیا مسلم لیگ کا عظیم الشان سیشن پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ مذکورہ بنیادی اصولوں کی روشنی میں ایسے آئینی ڈھانچے کا خاکہ وضع کرے جس کے تحت تمام خطے دفاع، امورِ خارجہ، مواصلات، محصولات اور دیگر ضروری امور میں با اختیار ہوں۔

تاہم اگر اکثریتی خطے کی تشکیل کے بعد اس میں شامل کسی آئینی یونٹ نے دفاع، امورِ خارجہ، مواصلات، محصولات وغیرہ میں سے کوئی اختیار اپنے لیے طلب کیا تو ایسے کسی بھی مطالبے کو قومی یکجہتی و سالمیت کے لیے بنیادی خطرہ تصور کرتے ہوئے قومی مفاد میں ضروری انتظامی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔‘

ظاہر ہے تئیس مارچ انیس سو چالیس کو منٹو پارک میں جو قرار دادِ لاہور المعروف قرار دادِ پاکستان منظور ہوئی وہ ایسی تو نہ تھی جیسی میں نے بیان کی۔ لیکن اس قرار داد کی بنیاد پر بننے والے ملک کے حکمرانوں نے اس قرار داد کو جس طرح سمجھا کیا وہ اس سے مختلف ہے جو آپ نے ابھی ابھی پڑھا؟

اسی بارے میں