کراچی بے بسوں کا شہر ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی بے بسوں کا شہر ہے جہاں لوگ، سیاسی جماعتیں اور ادارے سب ہی بے بس نظر آتے ہیں، یہ کراچی کے ایک سینیئر صحافی کا تبصرہ ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے کراچی سے رپورٹنگ کر رہے ہیں مگر وہ اپنے یہ خیالات اخبار میں تحریر کرنے سے کتراتے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا صحافی بھی بے بس ہیں انہوں نے اس سے اتفاق کیا۔

کراچی میں سیاسی، فرقے اور لسانی بنیادوں پر مخالفین کے قتل کا سلسلہ تو تقریباً ایک دہائی سے جاری ہے، مگر انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ہمیشہ عام شہریوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو بعد میں کسی سیاسی جماعت کے ہمدرد قرار دیے جاتے ہیں۔

حالیہ واقعات سے پہلے کراچی میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر نظر آئیں، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان نے جلسہ منعقد کیا، جہاد پر یقین رکھنے والی جماعتوں کے اتحاد دفاع پاکستان نے یہاں جلسہ کر کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اپنی ناراضگی سے آگاہ کیا، سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف نے بھی اپنی واپسی کا اعلان کراچی کے جلسے میں کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے شعبۂ خواتین کا غیر معمولی اجتماع منعقد ہوا اور مارچ کے آخر میں جئے سندھ قومی محاذ نے فریڈم مارچ کا انقاد کر کے سندھ میں بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاسی کی، یہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے فکر اور نقطہ نظر میں مختلف تھیں، جس سے کراچی کے عام شہری کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ اب شہر میں سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔

مگر حالات میں بہتری نیوز چینلز پر خبروں کے دوران اچانک آنے والے ٹائم چیک کا وقفہ ثابت ہوا۔ وہ ہی آگ اگلتی ہوئی کلاشنکوف اور پستول، سڑکوں پر چیختی چلاتیں ہوئی ایمبولینس اور سیاسی جماعتوں کے اشتعال انگیز بیانات سب کچھ ویسے کا ویسے ہی ہے۔

حالیہ واقعات کی ابتدا متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کی ہلاکت سے ہوئی، جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کو قتل کیا گیا، ان واقعات سمیت تیس افراد ہلاک ہوئے، پچاس گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا سوگ اور ہڑتالوں کے باعث تاجروں کو تقریباً بیس ارب روپے کا نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی صدر زرداری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ملزمان کے خلاف سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کارروائی کی ہدایت کی، وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کراچی پہنچ گئے اور صورتحال میں بہتری کے آثار نظر آئے، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے بھی پولیس سے ہڑتالوں اور ہلاکتوں کی وضاحت طلب کی ہے۔

گزشتہ چار برس سے حکمران پیپلز پارٹی کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کو جمہوریت اور اتحادی جماعتوں کے خلاف ایک سازش قرار دیتی رہی ہے مگر حیرت انگیز طور پر حکومت اس عرصے میں ان مبینہ سازشوں کا خاتمہ کر سکی اور نہ ہی سازش کرنے والوں کو بے نقاب۔ اس لیے ہی نقاد حکومت پر مفاہمت کے بجائے مصالحت پرستی کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی اس سے پہلے اخباری بیانات تک کراچی کی صورتحال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہراتی تھیں مگر اب تو یہ الزامات ایوان بالا سینیٹ تک میں سنے گئے ہیں۔

کراچی میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے جو اقدامات ہر مرتبہ سامنے آتے ہیں، وہ اب ہر شہری کو ہی زبانی یاد ہیں یعنی اسلحہ کی نمائش اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی، رینجرز اور پولیس کے گشت میں اضافہ، امن کمیٹیوں کا قیام۔ اگر صورتحال شدید خراب ہوجائے تو پھر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان، جس پر کبھی عمل نہیں ہو سکا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے گزشتہ سال کراچی صورتحال کا از خود نوٹس لینے کے بعد کئی حقائق جو دبے رہتے ہیں سامنے آئے، جس کے تحت بھتہ خوری میں کئی سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملوث ہیں، جو مختلف صورتوں میں اس کی وصولی کرتی ہیں، پولیس رپورٹس کے مطابق سیاسی جماعتوں نے اپنے مسلح گروہ بنائے ہوئے ، پولیس میں تیس فیصد اہلکار سیاسی وابستگیاں رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت اور فیصلے کے بعد کچھ عرصے کے لیے ان گروہوں کی بندوقیں ٹھنڈی رہیں مگر انہیں زنگ آلودہ ہونے نہیں دینے کے عزم نے دوبارہ کراچی کو بدامنی کی لپیٹ میں لے لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سینیٹ کے انتخابات کے فوراً بعد ایم کیو ایم کی ناراضگی سامنے آئی، بھتہ خوری پر احتجاج کے دوران سندھ اسمبلی کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسمبلی کے باہر جمع ہوگئی۔

ان دنوں مقامی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کا مطالبہ ہے کہ ایم کیو ایم حقیقی پر پابندی لگائی جائے اور نو منتخب سینیٹر مصطفیٰ کمال کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا جائے۔ متحدہ کی جانب سے ان خبروں کی تردید سامنے نہیں آئیں۔

ایم کیو ایم حقیقی، کالعدم امن کمیٹی اور عوامی نیشنل پارٹی میں رابطے ہیں جس بعض تجزیہ نگار غیر اعلانیہ اتحاد قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دراصل، اردو ، پشتو، بلوچ اور سندھی بولنے والوں کا اتحاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اگر متحرک اور فعال ہوتا ہے تو متحدہ قومی موومنٹ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے حقیقی پر پابندی کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔

سینیٹر مصطفیٰ کمال کو وفاقی وزیر بنانے کے سامنے عوامی نیشنل پارٹی دیوار بن گئی ہے۔ اے این پی کی جانب سے نو منتخب سینیٹر اور پارٹی کے سندھ کے صوبائی صدر شاہی سید کو وزیر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس صورتحال کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچے گا جو پہلے اس حوالے سے دباؤ میں آ سکتی تھی

اسی بارے میں