ایڈیٹر کا انتخاب

اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان

گزشتہ دو ہفتوں سے میں آپ کی آرا پڑھ رہا ہوں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ ہماری ویب سائٹ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر آتے تو ضرور ہیں لیکن بہت مختصر وقت کے لیے۔ ظاہر ہے آجکل کے مصروف دور میں ہر کسی کے وقت پر روز مرہ زندگی کے تقاضے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے بہت سے قارئین نے کسی نہ کسی طریقے سے یہ سوال ضرور اٹھایا کہ آخر بی بی سی ایسا کیا پیش کرتی ہے جو باقی کے خبر رساں ادارے نہیں کر پاتے۔

آپ کے انہیں سوالوں کے مد نظر آج سے میں روزانہ یہ کالم اپ ڈیٹ کروں گا اور اس میں آپ کے خطوط کے علاوہ خصوصی طور پر ان مضامین یا تحریروں کا ذکر بھی کروں گا جو میری رائے میں بی بی سی کو دوسرے اداروں کے مقابلے میں منفرد بناتی ہے۔

شروع کرتے ہیں سائنس سے جہاں ہماری ویب سائٹ پر موجود دو مضامین اس سمت کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو ہمارا مستقبل بھی ہے، تشویشناک بھی لیکن ساتھ ہی حوصلہ افزا بھی۔

انٹرنیٹ پر چھڑی جنگ میں آپ پڑھیں گے کہ مستقبل کی جنگیں کیا رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ ان میں نہ تو آپ کو فوجی دکھائی دیں گے نہ ہی گولہ باردو کی گھن گرج سنائی دے گی۔ لیکن ان کے نتیجے میں کسی بھی ترقی یافتہ ملک کے مواصلاتی و برقی نظام یا ذرائع آمد و رفت درہم برہم ہو سکتے ہیں۔ یعنی جس ٹیکنالوجی کے استعمال نے ان ممالک کو جن بلندیوں پر پہنچایا اب اس سے بچاؤ کی تدابیر بھی چاہیں۔

میرا آج کا دوسرا انتخاب بھی ٹیکنالوجی سے ہی متعلق ہے۔ بیکٹیریا کمپیوٹر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں انسانی علم و مہارت میں ارتقا کا وہ مرحلہ ہے جو شاید کئی صدیوں تک دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرتا رہے۔ بہت سے مفکروں کی رائے میں حیاتیاتی کمپیوٹر ناگزیر ہیں اور ان کی ایجاد ایک ایسی سمت ہے جس کے بارے میں ہماری سائنس فکشن انڈسٹری اب تک جتنی پر امید رہی ہے اتنی ہی پرخوف بھی۔

مولانا نصیب کا بدلہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بی بی سی کے نمائندوں کا تجزیہ ہے۔ صحافت کے لیے اس خطے کا شمار شاید دنیا کے خطرناک ترین علاقوں میں ہوتا ہے لیکن ہمارے نمائندوں نے ہمیشہ آپ کو بدلتے حالات اور ہر نئی پیش رفت سے باخبر رکھا ہے۔ یہاں وہ ایک انتہائی اہم سوال اٹھاتے ہیں۔ ضرور پڑھیے گا۔

کراچی میں دس مطلوب ملزمان پر لاکھوں کا انعام مقرر کرنے پر سندھ پولیس کی حکومت سے سفارشات پر رپورٹ ہے۔ پولیس نے حکومت سے کہا ہے کہ ان لوگوں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر انعام مقرر کیا جائے۔ اسے میں یہاں اس لیے شامل کر رہا ہوں تاکہ میں اس معاملے پر آپ کی رائے جان سکوں۔ کیا کسی بھی شخص کو اپنا قانونی دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر مجرم قرار دینا جائز ہے؟ مجھے اپنی رائے ای میل ضرور کیجیے گا۔

اور اب آخر میں ایک درخواست۔ ہمارے بہت سے پڑھنے والوں نے مجھے ’ان پیج‘ میں لکھ کر بھیجا۔ میں یہ فائلیں اپنے بی بی سی کمپیوٹر پر نہیں کھول سکتا لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے ایسی کوئی اٹیچمنٹ نہ بھیجیں۔

کل پھر ملاقات ہوگی۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے۔

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔