سالے منٹو بننا چاہتے ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کہ ایک سو ایک ویں سالگرہ ایسی جگہ مناؤں جہاں میرے سوا کوئی نا ہو

برخوردار خوش رہو،

بہت شکریہ کہ تم نے مجھے ایک سوویں سالگرہ پر یاد رکھا۔کچھ دیر پہلے ہی افتخار عارف یہ بتانے آیا تھا کہ اس نے حکومتِ پاکستان کو تحریری سفارش کی ہے کہ مجھے بھلے دیں نہ دیں مگر وصی شاہ، صالح ظافر اور سعادت حسن منٹو کو ضرور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیں۔ میں نے اس احسانِ عارفانہ کا شکریہ ادا کرکے سنی ان سنی کر دی۔

تم نے پوچھا ہے کہ شب و روز کیسے گذر رہے ہیں تو میاں برخوردار مجھ جیسے ٹچے ادیب کے شب و روز کیسے گذر سکتے ہیں ؟ کچھ کرنے کو ہے نہیں، نہ سوچنے کو ہے۔ جتنا کچھ شروع کے بیالیس برس میں کر لیا اس کا ایک تہائی بھی بعد کے سڑسٹھ برس میں نہ ہو پایا۔

آج سو برس کا ہونے پر یہ سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ وہی منٹو ہے جو ایک سگریٹ کی راکھ جھاڑنے سے پہلے کہانی جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا تھا۔جس کا کوئی بھی ریڈیو پلے، سکرین پلے یا کیری کیچر آدھی بوتل کی مار تھا۔جس کے حاسد بھی کہتے تھے کہ منٹو کے پیروں میں نہیں بلکہ قلم پر بلیاں بندھی ہوئی ہیں۔

مگر آج میری زندگی میں اگر کوئی لفظ بچا ہے تو وہ ہے کاش۔ کاش میری صفیہ سے شادی نہ ہوئی ہوتی۔ہو بھی جاتی تو کاش وہ پہلے لاہور پہنچ کر مجھے وہاں آنے پر مجبور نہ کرتی۔ مجبور کر بھی لیتی تو میری بات مان کر بمبئی دوبارہ جانے پر رضامند ہو جاتی۔لیکن جب نہ چاہتے ہوئے ایک جغرافیے کے دو بدحواس ٹکڑے ہو جائیں۔ان بدحواس ٹکڑوں کی کگر پر کھڑے میاں بیوی بھی یہ طے نہ کر پائیں کہ انہیں رہنا کہاں ہے اور اس دوران نزہت، نگہت اور نصرت بھی پیدا ہو جائیں تو کاش کا لفظ بھی اس مکے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو ہارنے کے بعد اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیے۔

مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نہ ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا۔ کوئی اور صفیہ تو دکھاؤ جو مجھ جیسے آگ کے گولے کو اپنی ہتھیلیوں میں چھپا لے۔کیا صابر عورت تھی ؟ کہاں طعنوں اور نشے سےچور پچیس روپے کا ایک کہانی فروش اور کہاں صفیہ ۔۔۔یہ دس روپے آپ کی بوتل کے، یہ پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس ۔۔۔اس میں گھر کا خرچہ چل جائےگا۔آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔میں ہوں نہ ۔۔۔

مگر میں آج تک اس سوال کے بھنور میں ہوں کہ صفیہ مجھے اسلامی جمہوریہ پاکستان آخر کیوں لائی۔ میرا یہاں کیا کام تھا؟ بھلا چمڑے کے بازار میں عطرفروشی اور نابینا سماج میں شمع فروشی کیونکر ممکن ہے۔ سنہ چالیس اور پچاس کے عشروں میں تو میں نے سماج کے ساتھ اور سماجی ٹھیکیداروں نے میرے ساتھ جو کیا سو کیا لیکن دورِ ایوبی میں تو الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب اینڈ کمپنی کے خوشامدی ناشروں نے میرے مسروقہ ایڈیشنز تک شیلف سے ہٹا دیے ۔مگر اس دوران بنگلہ رسالوں میں میری کہانیوں کے ترجمے خوب چھپے۔اس وقت تو میں سمجھ نہیں پایا کہ بنگالیوں کو میری کہانیوں میں ایسا کیا نظر آگیا مگر اکہتر میں یہ بھی میری سمجھ میں آ گیا۔

جب دور بدلا تو مولانا کوثر نیازی کی مہربانی سے دہن کی پیاس تو بجھتی رہی پر ذہن کی پیاس کا مداوا تب بھی نہ ہوسکا۔ لیکن حسرت موہانی کے بعد یہ دوسرے مولانا ہیں جو مجھے زندگی میں اچھے لگے۔ ایک بات میں نے آج تک کسی کو نہیں بتائی تمہیں پہلی دفعہ بتا رہا ہوں۔ ہوا یوں کہ ایک دفعہ مولانا جب مجھ سے رات گئے ملنے آئے ( وہ ہمیشہ رات گئے ہی آتے تھے) تو میں نے ان سے کہا کہ کرنے کو کچھ نہیں ہے۔کم از کم مساوات میں ادبی پرچہ ہی ایڈٹ کر لوں تو تشفی ہوجائے گی۔ مولانا نے پہلے تو مجھے ٹکٹکی باندھ کر منٹ بھر دیکھا۔پھر ہنس پڑے جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنا دیا ہو۔کہنے لگے منٹو صاحب مولوی پہلے ہی ہمارے خون کے پیاسے ہیں۔ایسی خطرناک فرمائشیں نہ کیا کریں۔ان کے جانے کے بعد میں نے ایک کہانی لکھی ’منافقستان۔‘ مگر رسالے کے مدیر نے (مرحوم کا نام لینا مناسب نہیں ) کہانی چھاپنے کے بجائے مولانا کو پوسٹ کر دی۔اس کے بعد مدیر اور مولانا سے مرتے دم تک ملاقات نہیں ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انیس سو ستتر میں دو سانحے ہوئے۔میری صفیہ کا اس جہان سے جانا اور ضیا الحق کا آنا

لیکن میاں برخوردار سال انیس سو ستتر میری ڈھلتی زندگی کے سینے پر دھرا ایسا پتھر ہے جس کا بوجھ قبر کے سوا کوئی ہلکا نہیں کرسکتا۔ انیس سو ستتر میں دو سانحے ہوئے۔میری صفیہ کا اس جہان سے جانا اور ضیا الحق کا آنا۔ ایک واقعہ نے مجھے یکسر تنہا کر دیا اور دوسرے نے اس تنہائی کو منجمد کر دیا۔ میں آج پینتیس برس بعد بھی یہ طے نہ کر پایا کہ دونوں میں سے کون سا المیہ زیادہ سنگین تھا۔

جب انیس سو تراسی میں ایک فوجی عدالت نے میرے افسانے ’ایک بھینگے کی سرگذشت‘ پر پانچ کوڑوں کی سزا سنائی ۔اس کے بعد سے تم تو جانتے ہی ہو کہ میں نے مشہور کر دیا کہ اب لکھنے پڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔مگر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔چپکے چپکے لکھ لکھ کر دراز میں رکھتا جاتا ہوں۔ لیکن سنانے یا شائع کرانے کی خواہش مر چکی۔مگر آج کل یہ فکر لاحق ہے کہ اس فضول پلندے کا کیا کروں، کس کے سپرد کروں۔کیونکہ میں جہاں رہتا ہوں وہاں تو صرف کاغذ کے لفافے بنانے کا رواج ہے۔

برخوردار، سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے کیسا بدل گیا۔ یہاں آنے کے بعد قاسمی کو دوست سمجھتا تھا ۔وہ نوکری پیشہ رجعتی ترقی پسندوں، مقدمے باز تخلیقی نامردوں اور پیٹ میں داڑھی چھپا کر سونگھنے گھومنے والے ادبی و اخباری مولویوں سے قدرے مختلف لگتا تھا۔ لیکن پھر وہ بھی میرے ضمیر کا پیش امام بن گیا اور پھر یہ پیش امام بھی سمجھوتے کے تابوت میں بند ہو کر رخصت ہوا۔ عصمت جب بھی پاکستان آتی تھی ضرور ملتی تھی۔ پھر اس جیسا طعنہ زن بھی نہ رہا۔ مجھے یقین ہے کہ خدا اسے اوپر بلا کر پچھتا رہا ہوگا۔اور علی سردار جعفری۔۔۔ہائے کیا آدمی تھا۔اب تو گمان ہوتا ہے کہ سب ہی چلے جائیں گے۔ رہ جائے گا تو ایک لال بیگ اور دوسرا سعادت حسن منٹو۔

شائد اس گمان کا سبب یہ ہو کہ اب جو حالات و کردار میرے سامنے ہیں ان سے نمٹنا تو کجا انہیں سمجھنا ہی مجھ جیسوں کے بس سے باہر ہے۔ نگہت، نزہت، نصرت اور ان کے بچے میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ بس اس سوال پر کبھی کبھار ان سے تلخ ہو جاتا ہوں کہ بابا آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے۔انہیں میں کیسے کہوں کہ بابا تو اپنے ساتھ نہیں رہ پا رہے کسی اور کے ساتھ کیا رہیں گے۔

ہاں کبھی کبھار ایک نوجوان عدنان نیفے میں اڑس کر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی عجیب و غریب برانڈ لے آتا ہے۔ مگر منٹو پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ اب ایک کے بعد دوسرا گلاس پورا خالی نہیں کر سکتا۔یہ عدنان بھی خوب لڑکا ہے۔خود کو علامتی کہانی کار کہتا ہے۔ میں اسے اکثر چڑاتا ہوں کہ پستان کو گلدان، گھوڑے کو گدھا اور قاتل کو مقتول کہا۔۔۔لو جی ہوگئی عدنان صاحب کی علامتی کہانی۔ جو سمجھے اس کا بھی بھلا نہ سمجھے اس کا بھی بھلا۔۔۔خدا نے اس لڑکے کو قلم تو دے دیا ہے۔عقل بھی دے دے تو کتنا اچھا ہو۔۔۔مگر ہے بڑا سعادت مند بچہ۔۔۔

گذرے سال جب میں ننانوے برس کا ہوا تو عدنان مجھے دو ہزار پانچ میں میری سالگرہ پر چھپنے والا سرکاری ڈاک ٹکٹ فریم کروا کر ایک موبائل فون سمیت تحفتاً دے گیا ۔فریم تو میں نے لٹکا دیا مگر موبائل فون ویسے کا ویسا ڈبے میں بند ہے۔ بھلا میرے کس کام کا ؟ میں کسے فون کروں؟ ساتھ کے دوست دشمن سب ہی تو مرگئے۔ایک دن عدنان نے بتایا کہ آج میری ویب سائٹ بنا دی ہے۔ایک دن کہہ رہا تھا کہ فیس بک پر میرا پیج بنا دیا ہے۔ مجھے تو اس کی باتیں پلے نہیں پڑتیں۔ بس ہوں ہاں کرتا رہتا ہوں۔

تنہائی اور بڑھتی عمر ویسے بھی انسان کو بزدل بنا دیتی ہے۔ کبھی کبھار ادب سے شغف رکھنے والے کچھ سنکی سے بچے کہیں سے پتہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر پہنچ جاتے ہیں۔ مگر سب کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ آج کا نوجوان سعادت حسن منٹو کیسے بن سکتا ہے؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ شرم کرو اور شکر کرو تم میں سے کوئی منٹو نہیں ۔کیا عبرت کے لیے ایک کافی نہیں۔

میں ان بچوں کی حوصلہ شکنی کے خیال سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ منٹو ونٹو کے چکر میں نہ پڑو۔ اس سماج میں رہنا ہے تو سرجن نہیں قصائی بنو، باغی نہیں دلال بنو، دل کو تالا لگا دو، کھوپڑی میں بھوسہ بھر لو اور مغز فرائی پیٹ بھر کے کھاؤ۔ پینی ہے تو ٹرانسپیرنٹ پئیو اور منرل واٹر کی بوتل میں پئیو تاکہ پرہیزگاری سے بو نہ آئے۔

مگر یہ سالے منٹو بننا چاہتے ہیں!!! دیکھتے نہیں کہ میں ہی وہ منحوس ہوں جس نے اپنی زندگی میں ہی اس زمین اور سماج کو’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘ بنتے دیکھ لیا بلکہ اس ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ’نیا قانون‘ تو کجا جنگل کا قانون تک نہیں۔سڑک پر چلتے آدمی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب’ٹھنڈا گوشت‘ بن گیا۔آپ نے کسی سے مذہبی و سیاسی اختلاف کیا نہیں کہ آپ کی شلوار اتری نہیں۔بھلے اس کا رنگ کیسا ہی ہو۔

وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ منٹو تیس منٹ میں کہانی لکھ مارتا تھا۔ آج یہ حالت ہے کہ تین برس سے تین کہانیوں پر کام کر رہا ہوں۔لیکن تینوں کی تینوں نامکمل حالت میں فرمے پر چڑھی ہیں۔

Image caption گھر کیا ہے۔ایک بنگلے کے پچھواڑے میں دو کمروں کی اینکسی میں رہتا ہوں

ایک کہانی غائب لوگوں کے پس منظر میں ہے اور اس کا عنوان میں نے ’سائے کا سایہ‘ سوچ رکھا ہے۔ ایک کہانی خودکش حملے میں دونوں ٹانگیں گنوانے والے ایک ڈھائی سالہ بچے کی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا عنوان میں نے’بدصورت خوبصورتی سوچا ہے۔ تیسری کہانی ایک ایسی عورت کے بارے میں ہے جوسینتالیس میں بطور لڑکی، اکہتر میں بطور علیحدگی پسند کی بیوی اور پچاسی میں اپنے پوتے کے ایک گناہ کی سزا میں ریپ ہوئی۔اس کا عنوان میں’ہیٹ ٹرک‘ رکھنا چاہتا ہوں۔ چوتھی کہانی صرف ذہن میں ہے۔ یہ قبر کھول کر عورتوں کی لاشیں نکال کر کالے علم کا کاروبار کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ مگر میں اب کسی ننگی لاش کا تذکرہ تو کجا اس بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہوں۔

برخوردار اب کب لاہور آنا ہوگا۔اس دفعہ لکشمی مینشن کی طرف مت جانا۔اسے لالچی پلازوں نے گھیر لیا ہے۔سیدھے کلمہ چوک آجانا جہاں کالٹیکس والے میرے گھر کا پتا بتا دیں گے۔گھر کیا ہے۔ایک بنگلے کے پچھواڑے میں دو کمروں کی اینکسی میں رہتا ہوں۔اب تو بس ایک ہی خواہش ہے کہ ایک سو ایک ویں سالگرہ ایسی جگہ مناؤں جہاں میرے سوا کوئی نہ ہو۔

فقط، تم جیسوں کا

سعادت حسن منٹو۔

اسی بارے میں