ایڈیٹر کا انتخاب

میرا پورا ہفتہ انتہائی مصروف گزرا لیکن آپ لوگوں کا شکریہ کہ آپ برابر مجھے لکھتے رہے۔ ڈاکٹر عبدالجبار کے خط پر بھی بہت سے پڑھنے والوں نے رائے دی۔ کچھ ان سے متفق تھے، کچھ نہیں۔ بی بی سی اردو کا کالم آپ کی رائے اب دوبارہ شروع ہونے ہی والا ہے، بس چند دنوں کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ کی رائے ہم اپنے تمام قارئین تک باقاعدگی سے پہنچا سکیں گے۔

مجھے منٹو کی سوویں سالگرہ پر ہماری کوریج سے متعلق کافی خط ملے۔ ہر سلسلہ بہت سراہا گیا، خاص طور پر آئیے منٹو سنتے ہیں جو آپ کے لیے کراچی میں محمد حنیف اور شرجیل بلوچ نے تیار کیا۔ منٹو پر ہماری تمام تر کوریج اب منظر نامے پر موجود ہے۔

اور ہاں، ایسا نہیں کہ سب نے واہ واہ ہی کی ہو۔ منٹو کے کچھ مداحوں کو ہمارے کچھ ساتھیوں کی منٹو بننے کی کوشش یا خواہش ذرا نہ بھائی۔ طاہر اصغر صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ نے منٹو کے ساتھ وہی کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈیا کے ساتھ کیا تھا۔ اس کے برعکس، شاید ہماری اسی کاوش سے خوش اسلام آباد سے امجد قمر نے کہا کہ بی بی سی اردو پر ایک ادبی صفحہ بہت ضروری ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

ہمارے پاس یہ جاننے کی سہولت ہے کہ روزانہ ہماری کونسی کہانی کتنی پڑھی جاتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کو بھی اس سے باخبر رکھوں۔ اگلے ہفتے کوشش کروں گا کہ روزانہ آپ کو بتاتا رہوں کہ بی بی سی اردو سروس کے لاکھوں قاری کیا پڑھ رہے ہیں۔

اور اب یاسر نقوی کا یہ خط جو شاید کسی نہ کسی طرح سے ہر پاکستانی کی آپ بیتی ہے۔ ہے یا نہیں، فیصلہ آپ کیجئیے۔

ایڈیٹر صاحب،

کہتے ہیں انسان کی زندگی میں نیند یا کہہ لیجیے کہ پرسکون نیند ایک لازمی جُزو ہے لیکن پاکستان میں یہ کام انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کل سوچا کہ آج جلدی، یا کم از کم کراچی کے لیے جلدی، یعنی بارہ بجے سو جائیں۔ ابھی نیند آنے ہی کو تھی کہ لائٹ چلی گئی۔ اماں کی آواز آئی ’بیٹا آج لوڈ شیڈنگ کا ٹائم بدل گیا ہے شاید، 12 سے 2 بجے تک لائٹ جائے گی۔‘

نیند کے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کچھ دیر پسینے میں لیٹنے کے بعد بھائی نے انتہائی شفقت سے کہا کہ اس کمرے میں آ جاؤ، یو پی ایس کی بیٹری انتی پاور فل نہیں کہ وہاں کا بھی لوڈ سنبھال سکے۔ تکیہ بغل میں دبائے دوسرے کمرے میں پہنچے تو کمرہ 1947 کے کسی مہاجر کیمپ کا حال بیان کر رہا تھا۔ ہر انسان ایک الگ ہی زاویے پر سو رہا تھا۔ سو ہم نے بھی ایک کونا پکڑا اور لیٹ گئے۔

ابھی شاید آنکھ لگی ہی ہوگی کہ ایک مچھرجو اپنی آزادی پر شدید خوش تھا اس نے کان کے پاس آ کر سرگوشی کی۔ آہ ہاہ! ایک ٹھنڈی آہ بھری اور زمانہ طالب علمی کی ایک حسین رات جو لندن میں گزری تھی یاد آ گئی۔ ایک رات لندن کے فلیٹ میں سوتے سوتے آنکھ کھلی اور ایسا لگا کے پیر پر کوئی چیز کاٹ رہی ہے۔ خوش خوش اٹھا کہ آج برطانیہ میں بھی مچھر سے ملاقات ہوگئی۔ اب پاکستان جا کر سینہ تان کر کہیں گے کہ ’لندن میں بھی مچھر ہوتے ہیں‘۔ لیکن دیکھا تو پاجامے کا دھاگہ پاؤں پر لگ رہا تھا۔

خیر جناب یہی چیز سوچتے سوچتے لائٹ آنے کا ٹائم ہو گیا لیکن لائٹ نہیں آئی۔ اٹھا اور سوچا کہ آج ہیلپ لائن فون کر کے پوچھتے ہیں کہ یہ مشکل کب آسان ہوگی۔ فون کیا تو پتا چلا کہ ترقیاتی کام ہو رہا ہے اس لیے بہت جلد ترقی ہونے والی ہے۔

اس ہی سوچ بچار میں ایک آواز گونجی اور وہ تھی اللہ اکبر اللہ اکبر۔ آواز کا سننا تھا کہ فوراً ہی رب کا شکر کیا کہ ہر رات کی صبح بھی ہے۔ کلمہ پڑھ کر اٹھے اور نماز پڑھ کر حکومت کے دن پورے ہونے اور ملک کی سلامتی کی دعا کی۔

خدا کو ہماری یہ بات پسند آئی اور لائٹ آ ہی گئی۔ لیکن ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ برابر کی گھڑی نے کہا کہ اٹھنے کا وقت ہو گیا۔ یوں ہم اٹھے اور چل دیے واش روم کی طرف۔ واش بیسن کا نل کھولا تو پانی نہیں تھا۔ نیم بیہوشی میں منہ سے نکلا یا خدا پانی کہاں گیا؟

دل تو چاہ رہا تھا کہ کاش چلو بھر پانی مل جائے لیکن وہ بھی نہ مل سکا۔ انتہائی بے بسی سے ناشتے کی ٹیبل پر پہنچے تو اماں نے کہا بیٹا گیس میں پریشر ہی نہیں اس لیے چائے بس ایسی ہی بنی ہے۔ میں نے اماں سے کہا اماں لائٹ ، پانی، گیس نہیں ہے تو کیا لیکن اماں پاکستان کھپے، پاکستان کھپے، پاکستان کھپے۔۔۔

پھر ملاقات ہو گی۔

ہم تک اپنی رائے اور مشورے پہنچانے کے لیے آپ ہمیں ای میل کر سکتے ہیں۔ ای میل کرنے کا پتہ ہے۔

askbbcurdu@bbc.co.uk

مجھے آپ کی جانب سے رابطے کا انتظار رہے گا۔