لائف انسورنس کیا ہووے ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی رعایا کو ہمیشہ ان کے فائدوں کی بات سمجھانی پڑتی ہے۔

ایک انشورنس ایجنٹ نے کسی جاٹ بستی میں لائف انشورنس کے فوائد پر ایک لمبی تقریر کی کہ اگر آپ مجھ سے صرف دس ہزار روپے سالانہ پریمیم پر دس لاکھ روپے کی انشورنس پالیسی خرید لیں اور کل کلاں خدانخواستہ آپ کی موت ہو جائے تو آپ کے وارثوں کو فوراً دس لاکھ روپے مل جائیں گے اور مزید پریمیم بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا۔

مگر بستی والوں کی سمجھ میں ککھ نہیں آیا کہ انشورنس پالیسی کا کیا مطلب ہے۔ ہر کوئی ایک ہی سوال کررہا تھا کہ اسے اس پالیسی کا ذاتی فائدہ کیا ہوگا ؟ انشورنس ایجنٹ نے بے چارگی کے عالم میں سرپنچ کی طرف مدد کے لئے دیکھا۔ سرپنچ نےاسے دلاسہ دیا کہ بیٹے تیں پھکر نا کر! میں ان لوگوں کو اپنی بھاسا میں سمجھاتا ہوں۔

سرپنچ نے کہا کہ دیکھو بھئی یہ جو انسورنس پالسی ہووے ہے نا، یوں سمجھو کہ تھاری بھین بیٹی کی طرح ہووے ۔ جب تم ان کا بیاہ کرو ہو تو یہ دوسرے گھر کے کام ہی آوے ہیں ۔تھاری بس بھین بیٹیاں ہی کہلاوے ہیں۔آئی سمجھ میں۔اب پالسی لینی ہے تو لو ورنہ اپنی۔۔۔۔۔

انشورنس ایجنٹ بے چارہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔

بےچارے انشورنس ایجنٹ کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی پچھلے ساٹھ پینسٹھ برس سے اپنی رعایا کو کئی لائف انشورنس پالیسیاں پیش کرچکی ہے۔لیکن رعایا کی سمجھ میں کدو نہیں آرہا کہ سوائے جان و مال اور عزت و آبرو کی شکل میں پریمیم ادا کرنے کے ان پالیسیوں کا اسے کیا فائدہ ہوا یا ہوگا ؟

شروع شروع میں ہر پاکستانی کو یہ انشورنس پالیسی بیچی گئی کہ بھارت سے اگر بچنا ہے اور صنعتی و زرعی ترقی کرنی ہے تو امریکہ کی چھتری تلے آنا ضروری ہے۔لیکن اس پالیسی کا فائدہ یہ ہوا کہ امریکہ نے آنے والے برسوں میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر خوب سواری گانٹھی اور اسٹیبلشمنٹ نے اس کے عوض اپنے سیاسی و عسکری چراغ تیل سے بھر لئے۔عام لوگ صرف اچھے کل کی آس کا پریمیم دیتے رھ گئے۔

پھر یہ کہا گیا کہ کوئی کسی کا تحفظ نہیں کرتا ، آدمی خود اپنا تحفظ کرتا ہے۔چنانچہ ایٹم بم سے بڑی لائف انشورنس کوئی نہیں ہوسکتی ۔ہر سوال کا ایک ہی جواب تھا کہ اگر آپ یہ انشورنس خرید لیں تو پھر احساسِ تحفظ کے ہالے میں ہم اطمینان سے آپ کے بنیادی مسائیل کے حل کی جانب توجہ دے سکیں گے۔( آج حالت یہ ہے کہ پالیسی ہولڈر کو اپنی پالیسی بچانے سے زیادہ ایٹم بم کے تحفظ کی فکر ہے ) ۔

پھر یہ کہا گیا کہ اگر آپ سوویت یونین کو افغانستان سے نکالنے میں تعاون کریں تو ہمیں ایک دوست افغانستان کی شکل میں سٹریٹیجک ڈیپتھ مل جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کشمیر آزاد کرانے کی اضافی پالیسی بھی فری میں خرید لیں تو دونوں مسئلے حل ہونے کے بعد ہر ماجھے ساجے کو دودھ اور شہد مفت میں دستیاب ہوگا۔یہ انشورنس پالیسیاں بھی لوگوں نے کسی نا کسی طرح حلق سے اتار لی ، مگر ہوا یہ کہ پالیسی بیچنے والے تو کھربوں پتی مافیا بن گئے اور ہیروئن ، کلاشنکوف اور انتہا پسندی کا پریمیم پالیسی خریدنے والوں کے گلے آ گیا۔

پھر نائن الیون لائف انشورنس کی اشتہاری مہم شروع ہوئی۔ بس ایک بار یہ کڑوی گولی نگل لو تو امریکہ اور ناٹو والے اپنی مجبوری میں ڈالروں اور یورو کی بوریوں کے منہ کھول دیں گے۔ایک دن جب ناٹو اس علاقے سے دفعان ہوجائے گا تو افغان محبوب ہمارے قدموں میں ہوگا۔پھر ہم یہاں کے چوکیدار ہوں گے اور سب مل کے ترقی کی بارش میں نہا رہے ہوں گے۔ خرید لو خرید لو پھر یہ موقع ہاتھ نا آئےگا۔۔۔۔

نائن الیون لائف انشورنس خریدنے والے آج تک پینتیس ہزار سے زائد جانیں ، اربوں روپے کا تعمیراتی و ریاستی ڈھانچہ ، قومی مورال ، علاقائی شک اور بین الاقوامی بدنامی بطور پریمیم دے چکے ہیں ۔پھر بھی انشورنس پالیسی کے مزے سوائے پاکستاینوں کے امریکہ ، ناٹو، حامد کرزئی ، طالبان ، بھارت ، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں سمیت سب ہی لوٹ رہے ہیں۔

لیکن انشورنس ایجنٹ ہمت نہیں ہارا۔وہ آج بھی اس سرپنچ کے انتظار میں ہے جو بستی کے لوگوں کو اپنی بھاشا میں ایک بار پھر سمجھا سکے کہ لائف انسورنس یوں سمجھو تھاری بھین بیٹی کی طرح ہووے ہے۔۔۔۔۔۔

اسی بارے میں