ڈھائی سو روپے کا کیبل!

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیبل ٹی وی سے پہلے عدالت ِ عالیہ کی جانب سے ازخود نوٹس لینے کی روایت خال خال نظر آتی تھی۔

گزشتہ دو ہفتے کے دوران پاکستان میں جو کچھ بھی ہوا ہے اس کے بعد نظر یہ آتا ہے کہ اس ملک کو پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج سمیت کوئی ادارہ بحران سے نہیں نکال سکتا سوائے آل پاکستان کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے۔۔۔

ذرا آنکھیں بند کرکے خود کو دس برس پیچھے لے جائیں، جب اس ملک میں صرف سرکاری ٹی وی اور ریڈیو تھا۔ آج دن بھر جو کچھ ہوا اس کی تفصیلی خبر کل صبح کے اخبار میں ملتی تھی۔ چنانچہ اخبار نویس اور قاری کو افواہ اور حقیقت الگ الگ کرنے کے لئے چوبیس گھنٹے کا وقت مل جاتا تھا۔

لیکن پھر رئیل ٹائم نیوز کا صوتی و بصری سیلاب آگیا اور اس سیلاب کو کنٹرول کرنے کے لئے کیبل آپریٹرز کا ادارہ وجود میں آیا۔ رفتہ رفتہ اس ادارے نے وہ طاقت حاصل کرلی جو کسی زمانے میں اخباری ہاکرز کے پاس تھی۔ جس طرح کوئی بھی اخبار ہاکرز کی مخاصمت مول لے کر زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح کوئی بھی چینل حکومت یا پیمرا سے تو ٹکرا سکتا ہے مگر کیبل آپریٹرز سے پنگا نہیں لے سکتا۔

جب سے ڈھائی سو روپے کا کیبل کنکشن ہر محمود و ایاز کی دسترس میں آیا تب سے دنیا ہی بدل گئی۔

لوگوں نے ایک دوسرے سے غیر ضروری میل ملاپ ترک کردیا کیونکہ کسی کو فلاں ٹاک شو پسند ہے تو کسی کو فلاں پروگرام دیکھنا ہے۔

سیاستداں اور عوام میں آمنے سامنے کا رابطہ تقریباً ختم ہوگیا۔ ہر شام اسکرین پر بتیانے کی سہولت نے جلسوں، کارنر میٹنگز، کچہریوں اور براہ راست عوامی مسائل سے آگہی کی مشقت سے نجات دلا دی۔ عام آدمی اور اس کے نمائندے کے درمیان شیشے کی سکرین حائل ہوگئی۔

اب احتجاج کرنے والے کسی کاز سے زیادہ کیمرے کی آنکھ کے لئے نعرے لگاتے اور شعلہ بیانی کرتے ہیں۔ انقلابی رہنما بڑے چینلز کے کیمرے دیکھنے کے بعد ہی گرفتاری دیتے ہیں۔ ٹائر جلانے یا دھرنا دینے والا ہجوم کیمرہ دیکھنے کے بعد ہی اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے۔ گویا احتجاج بھی شو بزنس کی شاخ بن گیا ہے۔

قبل از کیبل دور میں عدلیہ، حکومت اور فوج والے حقیقتِ حال معلوم کرنے کے لئے ایک دوسرے سے رابطہ کرکے اپنی رائے ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کے بعد مرتب کرتے تھے۔ اب یہ ادارے اکثر چینلز پر نشر ہونے والے مواد کی بنیاد پر ایک دوسرے کے بارے میں خوش گمانی و بدگمانی میں مبتلا ہو کر فوری ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔

جس زمانے میں میمو گیٹ کا معاملہ گرم تھا۔ اس دور میں آئی ایس پی آر کے کئی پریس ریلیز اور حکومت کے کئی اقدامات محض چینلوں پر نشر ہونے والی خبروں اور مباحثوں سے پھیلنے والے تاثر کی روشنی میں سامنے آتے رہے۔

یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ڈھائی سو روپے کے کیبل نے عدلیہ کو کس قدر متاثر کیا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کیبل ٹی وی سے پہلے ازخود نوٹس لینے کی روایت خال خال نظر آتی تھی۔ لیکن گذشتہ چند برسوں سے ایک ٹھیلے والا بھی جانتا ہے کہ سو موٹو کسے کہتے ہیں۔ اگرچہ دل یہ بات نہیں مانتا کہ عدلیہ بھی ان مقدمات پر زیادہ وقت صرف کرنے لگی ہے جن کی سماعت چٹ پٹی سرخیوں، فوری عوامی مقبولیت اور واہ جی واہ کے ڈونگروں کا سبب بن سکے لیکن بھارت کے ایک موقر سینئر جج جسٹس ( ریٹائرڈ ) مارکھنڈے کاٹجو کی یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں عدالتی ایکٹو ازم شاید جوڈیشل پاپولرازم کی حدوں میں داخل ہورہا ہے۔

انگریز دور میں جج عام ملاقاتیوں، تقریبات، صحافیوں ، سرکاری عہدیداروں، غیر ضروری رشتے داروں اور احباب سے دور رہتا تھا۔ عدالت سے گھر اور گھر سے عدالت اس کا معمول تھا۔ گویا وہ ایسا سنیاسی تھا جو صرف اور صرف قانون دیکھتا تھا، قانون سنتا تھا، قانون کہتا تھا اور قانون پیتا تھا۔ اسی لئے یہ مثال دی جاتی تھی کہ جج نہیں بولتے، ججوں کے فیصلے بولتے ہیں۔

تو کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن جی ایچ کیو، ایوانِ صدر و وزیرِ اعظم، تمام گورنر اور چیف منسٹر ہاؤسز اور جوڈیشل کالونیز کو کیبل فری ایریا قرار دے دے اور ڈھائی سو روپے ماہانہ کا نقصان ہم سے تین سو روپے ماہانہ کیبل چارجز وصول کرکے پورا کرلے۔

ویسے بھی قومی مفاد کے سامنے پچاس روپے کی کیا حیثیت ہے۔۔۔

اسی بارے میں