آبادی زیادہ اقلیتیں کم

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption ہندو عددی اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی غیرمسلم اقلیت ہیں

پاکستان بننے کے بعد انیس سو اکیاون میں جب پہلی مردم شماری ہوئی تو موجودہ پاکستان کی تین کروڑ چالیس لاکھ آبادی میں سے پانچ فیصد نفوس غیر مسلم تھے۔

مگر آج اٹھارہ کروڑ شہریوں میں شامل غیرمسلموں میں احمدیوں کی شمولیت کے باوجود غیر مسلم پانچ فیصد سے گھٹ کے لگ بھگ ساڑھے تین فیصد رہ گئے ہیں۔ ایسا کیسے اور کیوں ہوا؟

کہا جاتا ہے انیس سو سینتالیس میں کراچی اور پشاور میں تقریباً ڈیڑھ ہزار یہودی آباد تھے۔ اگلے پانچ برس کے دوران سو فیصد پاکستانی یہودی اسرائیل منتقل ہوگئے۔

تقسیم کے وقت کراچی اور لاہور میں دس ہزار سے زائد پارسی موجود تھے۔ آج لاہور میں پینتالیس پارسی بھی نہیں جبکہ کراچی میں زیادہ تر ساٹھ برس سے اوپر کے پارسی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی نئی نسل بدلتے ہوئے مقامی حالات کے سبب یورپ اور امریکہ منتقل ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے۔

انیسویں صدی میں گوا سے کراچی میں بسنے والے رومن کیتھولک گوانیز کی آبادی تقسیم کے وقت بیس ہزار سے زائد تھی۔ یہ گوانیز تعلیم، دفتری کام ، میوزک اور کھانا پکانے کے ماہر تھے۔ سرِ شام سینکڑوں گوانیز خواتین و حضرات صدر کے علاقے میں سکون سے ٹہلتے تھے۔ مگر پینسٹھ برس میں یہ گوانیز بیس سے چالیس ہزار ہونے کے بجائے دس ہزار ہو گئے۔ اور یہ دس ہزار بھی پونے دو کروڑ آبادی کے کراچی میں جانے کہاں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکھوں کے لیے پاکستان کے مسلم معاشرے میں نسبتاً نرم گوشہ پایا جاتا ہے

حالانکہ ہندو عددی اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی غیرمسلم اقلیت ہیں۔ لیکن ہندوؤں کے مقابلے میں سکھوں کے لیے پاکستان کے مسلم معاشرے میں نسبتاً نرم گوشہ پایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ایک عام مقامی مسلمان کا برتاؤ دلچسپی اور تجسس والا ہوتا ہے۔

اگرچہ دو برس قبل خیبر ایجنسی میں طالبان کے ہاتھوں چار مقامی سکھوں کے اغوا اور ان میں سے دو کے سر قلم کیے جانے کے بعد لگ بھگ بیس ہزار پاکستانی سکھوں میں سراسیمگی پھیل گئی تھی۔ لیکن عمومی طور سے پاکستانی سکھوں کو اپنی املاک پر اکثریتی لوگوں کے قبضے کی اکادکا شکایات کے سوا بظاہر کوئی بڑی شکایت نہیں۔ سکھوں کی اکثریت خیبر پختونخوا اور ننکانہ صاحب میں رہتی ہے۔ زیادہ تر سردارانِ گرامی حکمت، کاشتکاری اور کریانے و بزازی وغیرہ میں مگن ہیں۔ اور کچھ تو میڈیا کے پوسٹر بوائز بھی ہیں۔

جب بھی کسی چینل کو مذہبی رواداری پر ویڈیو رپورٹ بنانی ہوتی ہے تو پروڈیوسر کی کوشش ہوتی ہے کہ رکنِ پنجاب اسمبلی کلیان سنگھ کلیان یا لاہور ٹریفک پولیس کے پہلے سکھ وارڈن گلاب سنگھ یا پاکستانی آرمی میں شامل پہلے سکھ ہرچرن سنگھ کا کوئی فوٹیج شامل ہوجائے یا پاپ سنگر جسی لائل پوریے کی میوزک البم کا ہی کوئی کلپ میسر آجائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں یہودیوں کا قبرستان میوہ شاہ میں واقع تھا

پاکستان میں مردم شماری کے آنکڑوں کے حساب سے ہندوؤں کی تعداد لگ بھگ تیس لاکھ اور پاکستان ہندو کونسل کے مطابق ستر لاکھ ہے۔ بہرحال تعداد جو بھی ہو چورانوے فیصد ہندو سندھ میں بستے ہیں۔

پارٹیشن کے بعد سے ہندو کمیونٹی کو اب تک چار مرتبہ موجودہ پاکستان میں رہنے یا نہ رہنے کے دوراہے پے آنا پڑا۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے زمانے میں دس ہزار کے لگ بھگ ہندو املاک چھوڑ چھاڑ کر بھارت چلے گئے۔ انیس سو اکہتر کی جنگ کے دوران اور فوراً بعد تھرپارکر میں بھارتی فوج کے زیرِ قبضہ علاقے سے تقریباً نوے ہزار ہندو باشندے راجھستان کے پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل ہوئے۔ سنہ اٹھہتر تک انہیں کیمپوں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان میں سے بہت سے پاکستان لوٹنا چاہتے تھے لیکن بھٹو حکومت نے اپنا علاقہ واپس لے لیا مگر مکین واپس لینے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ نہ ہی کسی بھارتی حکومت نے ان کی واپسی پر زور دیا۔

پھر انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے انہدام کا پاکستان میں جو ردِ عمل ہوا اس کے نتیجے میں اگلے پانچ برس کے دوران تقریباً سترہ ہزار پاکستانی ہندو بھارت منتقل ہوئے۔ اس مرتبہ زیادہ تر نقلِ مکانی کرنے والوں کا تعلق پنجاب سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تقسیم کے وقت کراچی اور لاہور میں دس ہزار سے زائد پارسی موجود تھے

پینسٹھ اور اکہتر میں پاکستان سے جانے والے ہندوؤں کو تو بالآخر دو ہزار چار میں بھارتی شہریت مل گئی لیکن بابری مسجد کے ردِ عمل کے بعد منتقل ہونے والے پاکستانی ہندوؤں کو اب تک شہریت نہیں مل سکی۔ آج بھی تقریباً ایک ہزار ہندو خاندان بھارتی پنجاب میں پاکستانی پاسپورٹ پر رہ رہے ہیں اور شہریت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اب ایک بار پھر بلوچستان میں بدامنی اور شمالی سندھ میں اغوا کی بڑھتی وارداتوں، جائیدادوں پر قبضے، مذہبی شدت پسندی میں اضافے اور نوجوان ہندو لڑکیوں میں اسلام سے اچانک بڑھتی ہوئی رغبت نے ہندو کمیونٹی کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

جہاں تک ہندوؤں کے بعد پاکستان کی دوسری بڑی اقلیت یعنی عیسائیوں کا معاملہ ہے تو سرکاری اندازے کے مطابق لگ بھگ پونے دو فیصد پاکستانی باشندے عیسائی ہیں۔ پاکستان کرسچن کانگریس نامی تنظیم کے سربراہ نذیر بھٹی نے تین دن پہلے لگ بھگ ڈھائی سو ہندوؤں کی بھارت روانگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو بھارت جاسکتے ہیں۔ ہم کہاں جائیں۔۔۔

اسی بارے میں