پاکستان میں ہندو ہونا آسان نہیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 21:30 GMT 02:30 PST

’دو سو ہندو یاتری بن کر ہمیشہ کے لیے بھارت نقل مکانی کرگئے ‎ہیں اور مزید جانے کی تیاریوں میں ہیں‘

میرا دوست اور ہم جماعت رمیش کچھ ماہ ہوئے کہ پونا (ہندوستان) میں مرگيا۔ رمیش انیس سو نوے کی دہائی میں سندھ سے بھارت منتقل ہوگیا تھا جب اس کے ابا کے خلاف بازار میں فائر کریکر چلنے پر دھماکے کا جھوٹا مقدمہ قائم کردیا گیا تھا۔

اس کا ابا پاکستان کے ایک فوجی جنرل کے بھائی کا بزنس پارٹنر تھا لیکن باوجود اس کے اسے خفیہ ایجینسی والے تنگ کرتے، اسکے چھوٹے بھائی کو صرف سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید سے ملاقات کے لیے ان کے گاؤں سن جانے کی بنا پر ایجینسوں اور اخبار والوں نے تنگ کیا اور وہ کسی طرح امریکہ چلا آیا۔

کچھ روز قبل وہ مجھے بتارہا تھا کہ اب اس کے بھائی کے گھر حیدرآباد میں لاکھوں روپے کی چوری ہوئی لیکن پولیس ایس ایس پی نے انہہں بتایا کہ اسے معلوم ہے کہ چور کون ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا کہ چوروں کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اگر وہ چوروں کو گرفتار کرے بھی تو مٹیاری شہر میں ہڑتال ہو جائے گی اور ان کی سیاسی پشت پناہی کرنے والے انہیں چھڑوا لیں گے۔

اسی طرح میرا ایک اور دوست درشن لال تھا جو اب اپنے خاندان کے ہمراہ کئي برس ہوئے کہ تب ہندوستان چلا گیا تھا جب اس کے والد سیٹھ پہلاج مل کو زمین ہتھیانے کیلیے کوش قبیلے کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا۔ اس سے قبل انیس اکہتر کی جنگ میں سیٹھ پہلاج مل کو فوج کے ایک کرنل نےگھر پر چھاپہ مار کر اس الزام میں گرفتار کر لیا تھا کہ ان کے گھر سے مبینہ طور’وائرلیس سیٹ‘ برآمد ہوا تھا جس پر وہ ہندوستان کی فوج سے رابطے میں تھا۔

پاکستان میں اور پھر سندھ میں ہندو ہونا اور ہو کر رہنا کوئی آسان زندگی نہیں۔ بچپن میں ہوش سنبھالتے ہی زندگی کی آخری گھڑیوں تک ہندو کو پاکستان میں رہنے کی بڑی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ پرائمری اسکول کے ہی زمانے میں میرے ہندو ہم جماعتیوں کو سکول میں ان کے مسلمان طالب علم ساتھی طرح طرح سے تنگ کرتے۔’تم ہندو ہو، سور کھاتے ہو، ہم گائے کھاتے ہیں‘۔

بچے اپنے ہم جماعتی ہندو بچوں یا سکول سے باہر ہندو بڑوں کو دیکھ کر ’گائے کا گوشت‘ کہہ کر چڑاتے۔ استاد میرے ایک ہم جماعت نند لال کو ڈانٹتا اور کہتا تم نے ’سور کا دانت کیوں پہنا ہوا ہے؟‘

ہندو بچہ ہراساں ہوئے بغیر اپنے راستے سے گزر ہی نہیں سکتا تھا۔ ’ہندو کافر ہیں۔ بزدل ہیں، ہندوستان کے ایجنٹ ہیں‘۔یہ تذليل سے بھرے لفظ ہر چھوٹے بڑے ہندو کو اکثر مسلمانوں کے منہ سے سننے کو ملتے اور شاید آج بھی ملتے ہوں۔

سندھ میں برصغیر کی تقسیم

سندھ کے اکثر حصوں میں گویا برصغیر کی تقسمیم تب تک نہیں ہوئی تھی جب تک بابری مسجد کے واقعے کی آڑ میں سندھ میں ہندوؤں پر حملے نہیں ہوئے۔ دوسری بار سندھ کے ہندوؤں کے لیے تقسیم تب ہوئی جب ان کی بیٹیوں کا زبرستی مذہب تبدیل کروانے کی وارداتیں بڑھنے لگیں یا پھر ان کے شیرخوار بچوں کو بھی اغوا برائے تاوان کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

سندھی ڈاکوؤں کی تمام جوانمردی کے قصے ہندوؤں کی حویلیوں، گھروں اور دکانیں لوٹنے سے بھرے ہوتے ہیں لیکن یہ سندھ کا صوفی منش ہندو جو کہ ہندو مت کے ساتھ ساتھ سکھ پنتھ اور تمام مسلمان اولیاؤں اور بزرگوں، مسجدوں اور امام بارگاہوں یا درگاہوں میں یقین رکھتا تھا جب بھی کسی مسجد کے پاس سے گزرتا تو وہ لازمی سمجھتا کہ مسجد کی دیوار یا مٹی کو ہاتھ لگا کر اپنے ماتھے سے لگائے۔

کئي ہندو اپنی مرغی اور بکری مسلمان کے ہاتھوں تکبیر دلوا کر ذبح کرواتے۔ میں نے سندھ کے عظیم صوفی شاہ عنایت کی جھوک کی درگاہ میں ان کے مسلمان اور ہندو مریدوں کو مسجد میں نماز کی صف میں ایک ساتھ کھڑے دیکھا ہے۔ شاہ عنایت کے کئي ہندو مرید اپنے مرنے والے پیاروں کو شاہ عنایت کی درگاہ کے قبرستان میں دفن کرتے ہیں جبکہ سانگھڑ اور کئی شہروں قصبوں میں ہندو محرم کی عزاداری بھی کرتے ہیں۔

سندھ کے اکثر حصوں میں گویا برصغیر کی تقسمیم تب تک نہیں ہوئی تھی جب تک بابری مسجد کے واقعے کی آڑ میں سندھ میں ہندوؤں پر حملے نہیں ہوئے۔ دوسری بار سندھ کے ہندوؤں کے لیے تقسیم تب ہوئی جب ان کی بیٹیوں کا زبرستی مذہب تبدیل کروانے کی وارداتیں بڑھنے لگیں یا پھر ان کے شیرخوار بچوں کو بھی اغوا برائے تاوان کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

مجھے رنکل کماری کے ماموں راج کمار نے بتایا کہ ہندو سندھ کی دھرتی پر رہنے کی بھاری بھرکم قیمت ادا کر کے بھی رہ رہے تھے لیکن ’یہ سب کچھ تب برداشت سے باہر ہوگیا جب ہماری بیٹیوں کو مسلح افراد کے پہروں اور ہزاروں کے جلوسوں میں گلیوں میں مارچ کروائے گئے‘۔

مجھے بذریعہ ای میل ہندو کمیونٹی کے رہنماؤں نے تصدیق کی ہے کہ ضلع گھوٹکی اور جیک آباد سے حال ہی میں دو سو ہندو یاتری بن کر ہمیشہ کے لیے بھارت نقل مکانی کرگئے ‎ہیں اور مزید جانے کی تیاریوں میں ہیں۔

ہندو ہیں کہ بقول امر فنکار ماسٹر چندر ، باغوں کو پرندوں کی طرح چھوڑ کر اڑ ے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔