کراچی شمالی وزیرستان میں ہے ؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 28 اکتوبر 2012 ,‭ 21:36 GMT 02:36 PST

کسی بھی جرائم پیشہ مافیا کا تذکرہ ہو اور کراچی کسی کے ذہن میں نا آئے ؟ کیا یہ ممکن ہے؟

کبھی آپ نے سوچا کہ روانڈا کیوں یاد ہے؟ اس لیے کہ وہاں ایک سال میں آٹھ لاکھ افراد کا قتلِ عام ہوا؟ بوسنیا کیوں یاد آتا رہتا ہے ؟ کیونکہ وہاں ڈھائی برس کی خانہ جنگی میں دو لاکھ افراد مارے گئے ؟ الجزائر کیوں نہیں بھولتا ؟ کیونکہ وہاں بھی دس برس کے دوران دو لاکھ سے زائد لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

سری لنکا کی خانہ جنگی کیوں عالمی لاشعور کا حصہ ہے؟ شائد ڈھائی لاکھ لوگوں کے مرنے کی وجہ سے۔۔۔اور کشمیر کیوں نہیں بھولتا ؟ کیونکہ وہاں بھی دس برس کے دوران ستر ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں۔ اور لبنان ؟ کیونکہ پندرہ برس کے عرصے میں ہر ایک نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی؟ شام مسلسل عالمی میڈیا کی سرخی کیوں ہے؟ کیونکہ ڈیڑھ برس کے دوران وہاں بیس ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں اور اس وقت بھی روزانہ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ مر رہے ہیں۔لیکن یہ تمام مثالیں تو ملکوں کی ہیں۔کسی ایک شہر کی تو نہیں۔

اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت دنیا کا سب سے لاوارث، بے حس اور خونی شہر کراچی ہے۔بلکہ شہر کیا ہے ایک رستا ہوا زخم ہے تو کیا آپ مان لیں گے؟

ظاہر ہے فوری طور پر یہ ایک ناقابلِ یقین اور انتہائی مبالغہ آمیز دعویٰ لگے گا کہ دو کروڑ آبادی کا وہ شہر جو پاکستان کو ساٹھ فیصد کے لگ بھگ ریونیو فراہم کرتا ہو اور پاکستانی معیشت کی ٹرین کا انجن سمجھا جاتا ہو۔جو واحد مصروف بندرگاہ بھی ہو ۔بری فوج کی پانچویں کور، فضائیہ کی جنوبی کمان اور بحریہ کا آپریشنل ہیڈ کوارٹر اور نیم فوجی رینجرز کا اہم ترین مرکز ہو۔ وہ بھلا اتنا لاوارث، خونی اور بے حس شہر کیسے ہو سکتا ہے؟ چلئے یہ معمہ سمجھنے کے لیے کچھ پیچھے چلیں۔

یہ بات ہے اب سے ستائیس برس پہلے کی جب اپریل انیس سو پچاسی میں وسطی کراچی کی ایک کالج طالبہ بشری زیدی سڑک پار کرتے ہوئے ایک مسافر وین کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئی۔تب سے کراچی نےسکھ کا دن نہیں دیکھا۔تشدد کے طریقے بدلتے رہے مگر تشدد نا بدلا۔پہلے نسلی، پھر مذہبی، پھر گروہی، پھر مافیائی، پھر اجتماعی، پھر انفرادی، پھر نسلی، پھر مذہبی، پھر مافیائی، پھر۔۔۔غرض کہ عزرائیل نے اس شہر کو مستقل ٹھکانا بنا لیا۔

پاکستان میں جس جس ادارے ، تنظیم، گروہ یا فرد کو اپنا نشانہ پکا کرنا ہو، زاتی، نظریاتی یا سیاسی بدلہ لینا ہو، ڈاکے اور دہشت گردی کی مشق کرنا مقصود ہو ۔اس کے لیے کراچی سب سے بہترین اکیڈمی اور فائرنگ رینج ہے۔

ستائیس برس پہلے

یہ بات ہے اب سے ستائیس برس پہلے کی جب اپریل انیس سو پچاسی میں وسطی کراچی کی ایک کالج طالبہ بشری زیدی سڑک پار کرتے ہوئے ایک مسافر وین کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئی۔تب سے کراچی نےسکھ کا دن نہیں دیکھا۔تشدد کے طریقے بدلتے رہے مگر تشدد نا بدلا۔پہلے نسلی، پھر مذہبی، پھر گروہی، پھر مافیائی، پھر اجتماعی، پھر انفرادی، پھر نسلی، پھر مذہبی، پھر مافیائی، پھر۔۔۔غرض کہ عزرائیل نے اس شہر کو مستقل ٹھکانا بنا لیا۔

بات شائد اب بھی واضح نہیں ہوئی۔چلئے میتھمیٹکس سے کچھ مدد لیتے ہیں۔کراچی میں انیس سو پچاسی سے دو ہزار بارہ تک کے ستائیس برس کا اوسط نکالا جائے تو یہاں روزانہ دس پرتشدد اموات ہوتی ہیں۔گویا ایک ماہ میں تین سو ساٹھ اور ایک سال میں چار ہزار تین سو بیس اور ستائیس سال میں ایک لاکھ سولہ ہزار چھ سو چالیس تشدد یافتہ لاشیں۔کیا آپ کے ذہن میں دنیا کا کوئی شہر ہے جہاں پچھلے ستائیس برس سے روزانہ دس کے اوسط سے پرتشدد اموات ہو رہی ہوں؟

کراچی میں انیس سو پچاسی میں ایک نیا قبرستان مواچھ گوٹھ بھی بنایا گیا۔اس قبرستان کا انتظام و انصرام معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کا ادارہ کرتا ہے۔کراچی کے دیگر قبرستانوں کا رقبہ ناجائز قبضوں کے سبب مسلسل گھٹ رہا ہے ۔لیکن مواچھ گوٹھ قبرستان مسلسل بڑھ رہا ہے۔آج یہ دس ایکڑ سے بڑھ کے تیس ایکڑ میں پھیل گیا ہے۔

کراچی میں روزانہ اوسطاً بائیس سے تئیس لاوارث لاشیں پڑی ملتی ہیں۔ان میں طبعی و غیر طبعی موت سمیت ہر طرح کی لاشیں شامل ہیں۔اس اعتبار سے کراچی میں سالانہ آٹھ ہزار چار ایسی لاشیں ملتی ہیں جن کا کوئی دعویدار نہیں ہوتا۔یہ سب لاشیں مواچھ گوٹھ کے قبرستان میں دفن کی جاتی ہیں ۔قبر کے سرہانے نام نہیں ہوتا بس ایک نمبر ہوتا ہے۔گذشتہ ستائیس برس کے دوران دو لاکھ سے زائد لاوارث لاشیں اس قبرستان میں دفن کی جا چکی ہیں۔کیا دنیا کے کسی اور شہر میں لاوارث لوگوں کا اتنا بڑا قبرستان ہے؟؟؟

پاکستان کی سب سے بڑی قبضہ مافیا، بھتہ مافیا، سٹہ مافیا سمیت کسی بھی جرائم پیشہ مافیا کا تذکرہ ہو اور کراچی کسی کے ذہن میں نا آئے؟ کیا یہ ممکن ہے ؟؟؟

سب کہتے ہیں ملک میں امن و امان کی ابتری کا بڑا سبب قبائلی علاقوں میں حکومت کی رٹ نا ہونا ہے۔

تو کیا کراچی بھی شمالی وزیرستان میں ہے ؟؟؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔