کراچی کے مسئلے پر اختلافات لیکن اتحاد برقرار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 21 نومبر 2012 ,‭ 21:20 GMT 02:20 PST

پاکستان کے سینیٹ نے کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے لیے گزشتہ پیر قرار داد پاس کی ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان قائم کیے جانے کے معاملے پر حکمراں اتحاد میں ایک دفعہ پھر اختلافات اور دراڑیں تو نظر آ رہی ہیں مگر اتحاد میں شریک کوئی بھی جماعت حکومت سے باہر آنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی ہے۔

خود وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی کراچی کی بدامنی کے معاملے پر بے بس دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کی جانب سے کھلی مخالفت پر بھی معذرت خواہانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

تازہ اختلافات اس وقت سامنے آئے جب وفاقی حکومت میں شریک جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی عدیل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ عدالت نے کراچی میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سندھ حکومت کو جو ہدایات دی تھیں، ان پر عملدرآمد نہ کرنے پر سندھ کی صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کی جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل بشیر جان نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کراچی کو غیر ضروری اسلحے سے پاک کرنے، نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اور روزانہ کی صورتحال سے عدالت کو آگاہ کرنے کی جو بھی ہدایات سندھ حکومت کو جاری کیں، حکومت نے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔

"’تو جب عدالت احکامات پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم کو گھر بھیج سکتی ہے، تو جو لوگ عدالت کے کراچی کے بارے میں احکامات نہیں مانتے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے"

بشیر جان صوبائی سیکرٹری جنرل عوامی نیشنل پارٹی سندھ

’تو جب عدالت احکامات پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم کو گھر بھیج سکتی ہے، تو جو لوگ عدالت کے کراچی کے بارے میں احکامات نہیں مانتے، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ایک جانب وفاق میں حکمراں اتحاد میں شریک اے این پی دوسری جانب اپنی ہی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف عدالتوں سے کارروائی کا مطالبہ اس لیے کر رہی ہے کہ امن و امان مکمل صوبائی معاملہ ہے، صوبائی حکومت بے حس ہو چکی ہے، ہم نے اسی لیے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہم کراچی کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو فرض سمجھتے ہیں۔ سیاسی اتحادی وہ مرکز میں ہیں ہم صوبے میں ان کے خلاف عدالت میں گئے ہیں۔

اسی دوران خود پیپلز پارٹی کے رہنما اور وفاقی وزیر خورشید شاہ نے بیان دیا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایسی کارروائی (آپریشن) کی جانی چاہیے جو صدیوں یاد رہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی سندھ اور وفاق میں حکومت کی اتحادی جماعت ہے۔ کراچی میں آپریشن کے معاملے پر ایم کیو ایم کا فوری ردعمل یہ آیا کہ ایک وفاقی وزیر آپریشن کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن اور کراچی کے سابق ناظم سینیٹر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم تو چار برس سے کہہ رہی ہے کہ شہر میں بھتہ مافیا، اغوا کار، دہشت گرد، دوسری جگہوں سے آئے ہوئے عناصر جمع ہیں، شہر کے ہر دکاندار کو پرچی آ چکی ہے، کوئی تاجر نہیں جس کو پرچی نہیں ملی، کوئی پولیس اہلکار ایسا نہیں جسے نہیں پتہ ہوگا کہ کون پرچی بھیج رہا ہے، کون تاوان لے رہا ہے کون جرم کر رہا ہے۔

’ہم تو پہلے دن سے ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان افراد کو گرفتار کرنا چاہیے۔ اب اس کو آپ آپریشن کا نام دیں، لیکن خورشید شاہ کا بیان بھی شاید غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے، ہماری جماعت نے ان کا نام نہیں لیا‘۔

"’ہم تو پہلے دن سے ان جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان افراد کو گرفتار کرنا چاہیے۔ اب اس کو آپ آپریشن کا نام دیں"

مصطفیٰ کمال سینیٹر متحدہ قومی مومنٹ

اے این پی کےرہنما بشیر جان کہتے ہیں کہ کراچی کے مسئلے کا حل مضبوط آپریشن ہے۔ مگر وہ کسی قوم، سیاسی جماعت یا مسلک کے خلاف نہ ہو، انیس سو بانوے کے آپریشن کی ہم نے مخالفت کی تھی۔ ہم بھی کہہ رہے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اسی ہفتے جب اے این پی نے سینیٹ میں کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے قرار داد پیش کی تو ایم کیو ایم نے اس کی مخالفت کی اور جب ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کر کے پورے ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا تو باقی اتحادیوں نے تو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا مگر اے این پی سمیت مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف نے مخالفت کی۔

ایم کیو کی جانب سے اسلحے کے خلاف پورے ملک میں کارروائی پر بشیر جان نے کہا کہ ہم تو پوری دنیا میں اسلحے کے خلاف ہیں ہم تو باچا خان کے عدم تشدد کے پیروکار ہیں لیکن کراچی کا معاملہ اہم ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ کراچی اسلحے سے پاک ہو، مگر کرے گا کون، کیا نیٹو کی فوج بلوائیں گے یا آپ کی فوج کرے گی، کیا آپ کی فوج اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ ایسا کرسکے۔ کر بھی لیا تو جب پورے ملک سے اسلحہ آ رہا ہے، ہر جگہ اسلحہ فروخت ہو رہا ہے تو کراچی کتنے دن کتنی دیر اسلحے سے پاک رہے گا؟ کراچی میں تو نہیں بنتا اسلحہ، تو ملک بھر کو اسلحے سے پاک کیا جائے۔ مرض کو جڑ سے اکھاڑیں۔ اوپری علاج نہ کریں۔

بشیر جان کا کہنا ہے کہ کراچی میں اسلحہ درّہ آدم خیل یا قبائلی علاقے کا نہیں۔ جدید ترین اسحلہ ہے۔ نیٹو کے کنٹینرز بھی غائب ہو چکے ہیں۔

فائل فوٹو، کراچی

کراچی میں حالیہ دنوں ایک بار پھر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے

مصطفیٰ کمال کہتے کہ سیاسی جماعتیں خود کارروائی نہیں کر سکتی صرف مطالبہ کر سکتی ہیں۔ اس حکومت میں ہم شریک ضرور ہیں مگر ہمارا کوئی اختیار نہیں، ہم صرف جمہوریت کی خاطر اس میں شامل ہیں۔

اے این پی کے رہنما بشیر جان کہتے ہیں کہ ان کی جماعت بھی جمہوریت کی بقاء کے لیے اس حکمراں اتحاد کا حصہ ہے، موجودہ حکومت جو دہشت گردی کے خلاف عمل کر رہی ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان ہم نے اٹھایا۔ ہم یہ جنگ پختونوں یا پاکستان کے لیے نہیں پوری دنیا کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اتحادیوں ہی کی جانب سے مخالفت پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کہتے ہیں کہ کوئی بھی جا کے عدالت سے اپیل کر سکتا ہے مگر حکومت نے کوئی کوتاہی نہیں کی بلکہ امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا ہے۔ اور یہ سب اتحادی بھی جانتے ہیں۔

لیکن بالآخر شرجیل میمن نے تسلیم کر ہی لیا کہ وہ اس نازک وقت میں جب آئندہ انتخابات کا معاملہ شروع ہوگیا ہے، کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتے جو اتحادیوں کو ناگوار گزرے۔

سیاسی جماعتوں کے اس روّیے پر عوامی حلقوں میں یہی تاثر ہے کہ سیاسی جماعتیں زبانی جمع خرچ کرتی ہیں، انتخابات کے قریب نعرے بازی کرتی ہیں مگر امن و امان کے لیے کارروائی کرنے پر نہ حکومت تیار نظر آتی ہے، نہ ان کی حامی و مخالف جماعتیں ساتھ دینے پر رضامند دکھائی دیتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔