قومی اتفاقِ رائے کا گرم آلو

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 14:32 GMT 19:32 PST

دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز مربوط جنگ کا فیصلہ کرنے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ریتیلی بوریوں کے پیچھے پناہ کیوں لی جا رہی ہے۔

پچھلے دس برس کے دوران دہشت گردی میں مرنے والے پینتیس سے چالیس ہزار سویلینز کا کیا ذکر۔ اس سے زیادہ تو ہر سال سڑک کے حادثات ، پیٹ کی معمولی بیماریوں ، زچگی اور جعلی ادویات وغیرہ سے مر جاتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اب تک پانچ ہزار سے زائد فوجی اور پولیس والے دہشت گردی سے نبرد آزمائی میں مارے جا چکے ہیں۔ اتنے تو انیس سو اڑتالیس کی جنگِ کشمیر ، انیس سو پینسٹھ کے پاک بھارت معرکے ، انیس سو اکہتر کی لڑائی اور انیس سو ننانوے کی کارگل مڈھ بھیڑ کے دوران بھی ہلاک نہیں ہوئے۔

پھر بھی مسلسل اس پر زور دیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن عسکری و انتظامی کارروائی کے لیے قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ یعنی جب تک تمام سیاسی قوتیں اس نکتے پر متفق نہیں ہوتیں کہ دہشت گردی پاکستان کی بقا کے لیے سب سے بڑا اور بنیادی خطرہ ہے تب تک کوئی بھی فیصلہ کن کارروائی سودمند نہیں ہوگی۔

اس موقف سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردی وہ گرم آلو ہے جسے سیاسی و عسکری قیادت اپنی اپنی ہتھیلیاں جلنے سے بچانے کے لیے مسلسل ایک دوسرے کی طرف اچھال رہی ہیں۔ حالانکہ آگ پاکستان کی دونوں ٹانگوں سے اوپر پہنچ چکی ہے اور اب تو ناک پر کپڑا رکھنے والوں کو بھی گوشت جلنے کی بو آ رہی ہے۔

بھلا اس سے بڑا قومی اتفاقِ رائے اور کیا ہو کہ موجودہ پارلیمنٹ ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ یہ مینڈیٹ دے چکی ہے کہ دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے حکومت اور مسلح افواج ہر اقدام کی مجاز ہیں۔ نیز یہ کہ پارلیمنٹ ہر تین ماہ بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کی افادیت کا اپنی قرار دادوں کی روشنی میں جائزہ لے گی۔

لیکن حسبِ توقع یہ سہ ماہی جائزہ ایک دفعہ بھی بوجوہ نہیں لیا جاسکا اور اب تو خود پارلیمنٹ بھی عمر کے آخری حصے میں داخل ہو چکی ہے ۔

"سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پچاس کی دہائی میں سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنتے ہوئے ، امریکہ کو بڈھ بیر کا فضائی اڈہ دیتے ہوئے ، کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کرتے ہوئے ، مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کرتے ہوئے ، چار مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے ، پاکستان کو افغان جنگ میں جھونکتے ہوئے ، ایم آر ڈی کی تحریک کچلتے ہوئے ، بنیادی جمہوریت ، پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام ، غیر جماعتی نظام نافذ کرتے ہوئے ، آئین میں آٹھویں ترمیم کرتے ہوئے ، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنتے ہوئے ، بلوچستان میں پانچ فوجی ایکشن کرتے ہوئے اور چیف جسٹس کو ہٹاتے ہوئے قومی اتفاق ِ رائے کو گھاس نہیں ڈالی گئی اور تمام مذکورہ اقدامات کو ’اہم قومی مفاد‘ کی ٹوپی پہنا دی گئی تو اب دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز مربوط جنگ کا فیصلہ کرنے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ریتیلی بوریوں کے پیچھے پناہ کیوں لی جا رہی ہے۔"

وسعت اللہ خان

ویسے تو اب بھی کوئی کھٹکا نہیں مگر دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ کم ازکم اگلے نو مہینے تک انہیں قطعاً کوئی دھڑکا نہیں کیونکہ تین ماہ نگراں حکومت رہے گی جس کی ساری توجہ انتخابی عمل پر ہوگی اور دائیں بائیں کی تمام سیاسی جماعتیں ’ہر قیمت پر ہر ایک کا ووٹ بٹورو مہم‘ میں مصروف ہوں گی۔

اس کے اگلے تین ماہ بعد جو بھی حکومت آئے گی وہ حالات کو سمجھنے میں تین ماہ لگا دے گی۔ یوں نو ماہ بعد حالات اس جگہ پہنچ جائیں گے جہاں دہشت گردی کا پہاڑ ہمالیہ میں ڈھل چکا ہوگا اور ہمالیہ سے کون لڑ سکتا ہے بھلا۔

قومی اتفاقِ رائے بڑی اچھی چیز ہے مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب پچاس کی دہائی میں سیٹو اور سینٹو کا حصہ بنتے ہوئے ، امریکہ کو بڈھ بیر کا فضائی اڈہ دیتے ہوئے ، کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کرتے ہوئے ، مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کرتے ہوئے ، چار مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے ، پاکستان کو افغان جنگ میں جھونکتے ہوئے ، ایم آر ڈی کی تحریک کچلتے ہوئے ، بنیادی جمہوریت ، پارلیمانی نظام ، صدارتی نظام ، غیر جماعتی نظام نافذ کرتے ہوئے ، آئین میں آٹھویں ترمیم کرتے ہوئے ، دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنتے ہوئے ، بلوچستان میں پانچ فوجی ایکشن کرتے ہوئے اور چیف جسٹس کو ہٹاتے ہوئے قومی اتفاق ِ رائے کو گھاس نہیں ڈالی گئی اور تمام مذکورہ اقدامات کو ’اہم قومی مفاد‘ کی ٹوپی پہنا دی گئی تو اب دہشت گردی کے خلاف نتیجہ خیز مربوط جنگ کا فیصلہ کرنے کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی ریتیلی بوریوں کے پیچھے پناہ کیوں لی جا رہی ہے۔

بقولِ ونسٹن چرچل اصولوں کی قربانی دیتے ہوئے دشمن کو مسلسل راضی رکھنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے آپ مگرمچھ کو اس امید پر کھلاتے چلے جائیں کہ آخر میں وہ آپ کو نہیں کھائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔