شہادت پروف کنٹینر اور کمرہ نمبر ایک

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 12:07 GMT 17:07 PST

’کیا قادری زدہ اسلام آباد میں آج ہی یہ عدالتی فیصلہ آنا ضروری تھا‘

ایک ایسے وقت جب ہزاروں لوگ پارلیمنٹ سے محض پانچ سو گز دور دھرنا دیے بیٹھے ہوں اور ڈاکٹر طاہر القادری حکومت ِ وقت کو سابق کرپٹ حکومت کہہ کر مخاطب کررہے ہوں اور اس انقلابی تقریر کے عین بیچ میں طاہر القادری کے ’شہادت پروف کنٹینر‘ سے لگ بھگ نو سو گز کے فاصلے پر ایستادہ سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک سے یہ خبر آجائے کہ سپریم کورٹ نے رینٹل پاور گھپلہ کیس میں وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کی آج کے آج گرفتاری کا حکم دے دیا ہے تو اسے کم لوگ محض حسنِ اتفاق اور بہت سے لوگ شطرنج کی بساط پر شہ مات کی آخری سے پہلی چال سمجھیں تو حیران و پریشان ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں۔

کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ آج کی سپریم کورٹ خدانخواستہ کسی بالائے آئین گٹھ جوڑ میں شریک ہے یا رینٹل پاور کیس سمیت کرپشن کرنے والے کسی چور کو نہیں پکڑا جانا چاہیے۔ سب کو اطمینان ہے کہ آئین کے آرٹیکل چھ کی تفصیلی تشریح کا ایک سے زائد بار اعادہ کرنے والی سپریم کورٹ آئندہ کسی ماورائے آئین سازش کو ماضی کی طرح مقدس پانی سے بپتسمہ نہیں دے گی اور آئین کی روحانی و جسمانی محافظ بنی رہے گی مگر جو چیز پریشان کن ہے وہ بس یہ کہ کیا قادری زدہ اسلام آباد میں آج ہی یہ عدالتی فیصلہ آنا ضروری تھا۔

کیا یہ ممکن تھا کہ یہ فیصلہ بھی کئی دیگر فیصلوں کی طرح محفوظ کر لیا جاتا اور ایک ہفتے بعد سنا دیا جاتا۔

کیا یہ ممکن تھا کہ اگلے چند ہفتے میں بننے والی نگراں حکومت آتے ہی اس فیصلے کو ریلیز کرکے راجہ رینٹل اور ہمنواؤں کے وارنٹ جاری ہو جاتے۔

کیا یہ ممکن تھا کہ جس طرح یوسف رضا گیلانی کی سبکدوشی کے بعد ایفی ڈرین سکینڈل میں ماخوذ وزارتِ عظمی کے متبادل امیدوار مخدوم شہاب الدین کے لیے عین اس وقت اینٹی نارکوٹکس فورس کے ٹریبونل نے وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے جب مخدوم صاحب کاغداتِ نامزدگی جمع کروا رہے تھے ۔اسی طرح نیب راجہ پرویز اشرف کا رینٹل پاور کیس میں ریمانڈ حاصل کرلیتی اور یوں ان کا وزیرِ اعظم بننے کا راستہ رک جاتا۔

اب کیا ہوگا ؟ اس وقت اسلام آباد کے ریڈ زون کی جو کیفیت ہے اس میں پارلیمنٹ نیا وزیرِ اعظم منتخب کرنے کے لیے اپنا اجلاس کب اور کہاں منعقد کرے گی اور پھر مجمع کو بے قابو ہونے پر کسی کے بھی اکسانے میں کتنی دیر لگے گی؟

اگر دھرنا جاری رہے

اگر یہ دھرنا نگراں حکومت کی تشکیل فوج اور عدلیہ کے مشورے سے دینے کے مطالبے پر بضد رکھا جاتا ہے تو پھر ایسی نگراں حکومت کی قانونی پوزیشن کیا ہوگی جس کی تشکیل میں فوج اور عدلیہ کے کردار کو آئین تسلیم نہیں کرتا اور صرف حکومت، پارلیمانی حزبِ اختلاف اور الیکشن کمیشن کی مشاورت کو نگراں حکومت کی تشکیل کا قانونی مجاز قرار دیتا ہے۔

اگر صدر زرداری اور ان کے اتحادی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اب مناسب یہی ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں تحلیل کر کے نگراں حکومت تشکیل دے دی جائے تو ایسی صورت میں وارنٹ زدہ وزیرِاعظم کی قانونی پوزیشن کیا ہے۔کیا وہ آج کی تاریخ میں ملزم ہیں یا مجرم ؟

کیا ملزم وزیرِ اعظم اسمبلی توڑنے کی آئینی ایڈوائس دینے کی پوزیشن میں ہے ؟ اگر نہیں تو کیا صدر کو یہ اختیار ہے کہ وہ ازخود اسمبلی توڑ کر نگراں حکومت تشکیل دے سکے ؟

اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو ایوانِ صدر سے آٹھ سو گز دور پچاس ہزاری دھرنا صدارتی یا حکومتی فیصلے کو تسلیم کر لے گا یا اپنے پرامن انقلاب کی کامیابی کی آسمانی نشانی سمجھ کر ذرا سا اور آگے بڑھ جائے گا ؟

اور اگر یہ دھرنا نگراں حکومت کی تشکیل فوج اور عدلیہ کے مشورے سے دینے کے مطالبے پر بضد رکھا جاتا ہے تو پھر ایسی نگراں حکومت کی قانونی پوزیشن کیا ہوگی جس کی تشکیل میں فوج اور عدلیہ کے کردار کو آئین تسلیم نہیں کرتا اور صرف حکومت، پارلیمانی حزبِ اختلاف اور الیکشن کمیشن کی مشاورت کو نگراں حکومت کی تشکیل کا قانونی مجاز قرار دیتا ہے۔

اور آج کے بعد اگر کوئی ایسا آئینی، انتظامی خلا پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں صورتِ حال اتنی بگڑ جاتی ہے کہ پورا قالین ہی لپٹ جاتا ہے تب سپریم کورٹ اس کے تدارک کے لیے کیا کرے گی ؟ بصورتِ دیگر تاریخ کی عدالت کیا کرے گی ؟؟؟

کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ چند برس بعد ریٹائرڈ منصف مصنفین ہر ایک کو پکڑ پکڑ کر بتارہے ہوں کہ دورانِ دھرنا عدالتی فیصلہ محض حسنِ اتفاق تھا۔ بات دراصل یہ تھی کہ۔۔۔

( اس سے زیادہ نکات و خدشات فی الحال ذہن میں نہیں آ رہے کیونکہ میرا ذہن سعادت حسن منٹو کے ایک افسانے کی اس آخری لائن میں خوامخواہ الجھ کر رہ گیا ہے

’سوری ! مشٹیک ہوگیا۔۔۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔