انگریزی تدریس کی طرزِ نو

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 15:48 GMT 20:48 PST

کتاب:

Handbook of Functional English

مصنف: شکیل چوہدری

پبلشر: فیروز سنز 60 مال روڈ لاہور

صفحات: 360

قیمت: 695 روپے

اس بات میں تو شک کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ انگریزی زبان دنیا بھر کی لِنگوا فرانکا یعنی رابطے کی زبان بن چکی ہے، اور اس زبان کو سیکھے بغیر عالمی علوم و فنون کے دروازے آپ پر نہیں کھل سکتے۔

انگریزی سکھانے کے لیےمارکیٹ میں یوں تو کئی طرح کی کتابیں ہمیشہ موجود رہی ہیں اور’دو ماہ میں انگریزی سیکھیے‘ سے لے کر جدید انگریزی قواعد تک ہر نوع کا مواد مارکیٹ میں مِل جاتا ہے لیکن ہمارے خطے کی مخصوص ضرورتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انگریزی تدریس کی کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آتی۔

ماضی میں کچھ انگریز مِشنریوں نے مقامی ضرورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے انگریزی کے اسباق مرتب کیے تھے لیکن وہ مواد اب بالکل آؤٹ آف ڈیٹ ہوچکا ہے۔ اِن حالات میں شکیل چوہدری نے انگریزی تدریس کو جدت سے روشناس کرانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔

شکیل چوہدری نے لندن سکول آف اکنامکس سے میڈیا کی ڈگری حاصل کی اور اِس سے قبل انھوں نے اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کی تھی۔ جن دِنوں وہ لاہور کے روزمانہ نیوز میں نائب مدیر تھے، اکثر اُن کی ڈاک موصول ہوتی جس میں کسی انگریزی لفظ کے محلِّ استعمال پر بحث ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے ایک مرتبہ اُن کا پیغام آیا کہ ہم لوگ سر پہ پہننے والی ٹوپی کے لیےانگریزی میں ’ کیپ‘ کا جو لفظ استعمال کرتے ہیں وہ درست نہیں کیونکہ آج کی انگریزی میں اس کےلیے’ہیٹ‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے جبکہ کیپ کا مطلب’ڈھکنا‘ہے جیسے پین کی کیپ ہوتی ہے۔

برسوں تک اپنے ساتھی صحافیوں، انگریزی کے اُستادوں اور غیر ملکی ماہرین سے بحث و تمحیص کے بعد انھوں نے جو نوٹس تیار کیے ہیں وہ بالآخر ایک کتاب کی شکل میں نمودار ہو گئے ہیں۔

انگریزی سیکھیے

انگریزی سکھانے کے لیے مارکیٹ میں یوں تو کئی طرح کی کتابیں ہمیشہ موجود رہی ہیں اور ’دو ماہ میں انگریزی سیکھیے‘ سے لے کر جدید انگریزی قواعد تک ہر نوع کا مواد مارکیٹ میں مِل جاتا ہے لیکن ہمارے خطے کی مخصوص ضرورتوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انگریزی تدریس کی کوئی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آتی

Handbook of Functional English اس لحاظ سے ایک بالکل نئی کتاب ہے کہ اس میں درسی اور امتحانی کتابوں کی طرح محض لفظوں کی فہرستیں یا گرامر کے اصول درج نہیں کیے گئے بلکہ استدلال کو اس طریقے سے آگے بڑھایاگیا ہے کہ قاری خودبخود انگریزی زبان کے بنیادی ڈھانچے میں دلچسپی لینے لگتا ہے اور جنوبی ایشیا کا باشندہ ہونے کے ناطے جو غلطیاں اسکی گھُٹی میں پڑی ہیں اُن کے بارے میں بھی خبردار ہو جاتا ہے۔

روزمرہ زندگی میں جس جس طرح کی صورتِ حال بھی کسی کو پیش آسکتی ہے، اسے سامنے رکھ کر ہر پہلو کو سادہ اور بامحاورہ انگریزی میں بیان کرنے کی مشق کرائی گئی ہے۔ وہ لوگ جنہیں اُستاد کی سہولت حاصل نہیں، اس کتاب کی مشقوں سے اکیلے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور جب اس بنیادی علم کا کسی استاد کی موجودگی میں اعادہ کیا جائے تو گویا سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا۔

امریکہ کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کے پیشِ نظر امریکی انگریزی پر خاص توجہ دی گئی ہے اور جہاں جہاں برطانوی انگریزی سے اسکا اختلاف ہے وہ مقامات واضح کیے گئے ہیں۔

ایک زمانے تک امریکی طرزِ بیان کو شدید نفرت سے’امیرِکن ازم‘ کہہ کر مسترد کیا جاتا رہا اور انگریز مصنفین کی لکھی ہوئی قواعد کی کتابوں میں اِس امریکی بِدعت سے بچنے کی تلقین ہوتی رہی، لیکن شکیل چوہدری نے ایک حقیقت پسندانہ نقطہِ نگاہ اپناتے ہوئے امریکی اندازِ بیان کو بھی برابر کی اہمیت دی ہے اور امریکی انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کے طریقے بھی بتائے ہیں۔

یہ کتاب نہ صرف کالج اور یونیورسٹی کی سطح کے طالب علموں کے لیےایک مفید دستاویز ہے بلکہ اخبارات و رسائل میں کام کرنے والے صحافیوں، سکولوں میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ اور دفتروں میں سکیرٹری یا پی اے کے فرائض انجام دینے والے نوجوانوں کے لیے بھی ایک انتہائی مفید ہدایت نامہ ہے، جسکے ذریعے وہ انگریزی زبان کے روزمرے اور محاورے سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔

پبلشر نے شاید قیمت کم رکھنے کے لیےبہت اچھے کاغذ کے استعمال سے گریز کیا ہے، لیکن اب جبکہ اس کتاب کی افادیت منظرِ عام پر آچکی ہے، اچھے کاغذ پر چھپا ہوا ایک اضافی ایڈیشن خاص طور پر لائبریریوں اور دفتروں کے لیےشائع کرنا عین مناسب ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔