پھانسی کی سیاست

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST

سنیچر کی صبح بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے انتہائی ٹھہرے ہوئے اور مطمئن انداز میں بھارتی قوم کو ٹیلی ویژن پراچانک اطلاع دی کہ پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم محمد افضل گرو کو آج صبح دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی ۔

افضل گرو کو پھانسی اتنی رازداری کے ساتھ دی گئی ہے کہ افضل کے گھر والوں کے مطابق ان کی اہلیہ اور بچے تک کو بھی اس کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

پھانسی کے بعد افضل گرو کی لاش تہاڑ جیل میں ہی دفن کر دی گئی ہے ۔ ان کے ورثا نے مطالبہ کیا ہے کہ افضل کی لاش ان کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ انہیں اپنے آبائی گاؤں مین دفن کر سکیں ۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ افضل کے باقیات کبھی ان کے ورثا کے جوالے کیے جائیں گے ۔

بھارتی پارلیمنٹ پر جملہ دسمبر 2001 میں ہوا تھا اور سپریم کورٹ نے افضل کو سزائے موت دینے کی توثیق 2005 میں کی تھی اور اس وقت سے انہیں زندگی اور موت کے درمیان معلق رکھا گیا تھا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے روز سے افضل کو پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ افضل نے عدالت میں سارے قانونی راستے ختم ہونے کے بعد صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی تھی جو پچھلے چھ برس سے صدر کے یہاں کسی فیصلے کے بغیر پڑی ہوئی تھی ۔

بی جے پی کا کہنا تھا کہ کانگریس کی حکومت ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کی وجہ سے افضل کو پھانسی دینے میں دانستہ طور پر تاخیر کرتی رہی ہے یعنی کہ بی جے پی بالواسطہ طور پر یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ حملہ آور سے بھارتی مسلمانوں کو ہمدردی ہے اور کانگریس اس لیے انہیں پھانسی نہیں دے رہی کیونکہ اس سے بی جے پی کی سوچ کے مطابق مسلمان ناراض ہو جا ئیں گے ۔

بھارت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت افضل گرو کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے میں یہ انتہائی قابل اعتراض بیان دوہراتی رہی لیکن کسی بھی مرحلے پر بی جے پی کو کسی نے اس کے بیان کے لیے چیلنج نہیں کیا ۔

بی جے پی کیا کرے گی؟

ممبئی پر حملے کے مجرم محمد اجمل قصاب کے بعد اچانک محمد افضل گرو کو بھی پھانسی دیے جانے سے ایک اہم موضوع بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ساتھ ہی ہندو دہشت گردی کے حوالے سے اس نے شندے اور حکومت کے خلاف جو جارحانہ مہم چلا رکھی تھی وہ بھی کند ہو گئی ہے۔

پھانسی میں تاخیر کے لیے کانگریس کا یہ عذر ہوتا کہ صدر کے پاس افضل سے پہلے کی رحم کی کئی درخواستیں زیر غور ہیں ۔

صدر کے پاس اب بھی ایک درجن سے زیادہ رحم کی درخواستیں ہیں جن میں سابق وزیراعظم راجیوگاندھی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ بےانت سنگھ کے قتل میں موت کی سزا پانے والے عرضی گزار بھی ہیں۔

ان دونوں معاملات میں پنجاب اور تمل ناڈو کی اسمبلیوں نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے الگ الگ متفقہ قراردادوں میں حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی موت کی سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کر دے ۔ دونوں ہی جگہ حکمراں جماعتیں بی جے پی کی اتحادی ہیں اس لیے بی جے پی نے ان معاملات میں مبہم رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

بی جے پی کانگریس پر دہشت گردی سے نمٹنے میں نرم رویہ اختیار کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے حال میں ایک بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی اور ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس بقول ان کے ’ہندو دہشت گردی‘ 'کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

بی جے پی نے اس بیان کے بعد شندے کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا لیکن ممبئی پر حملے کے مجرم محمد اجمل قصاب کے بعد اچانک محمد افضل گرو کو بھی پھانسی دیے جانے سے ایک اہم موضوع بی جے پی کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔ ساتھ ہی ہندو دہشت گردی کے حوالے سے اس نے شندے اور حکومت کے خلاف جو جارحانہ مہم چلا رکھی تھی وہ بھی کند ہو گئی ہے ۔

قصاب اور افضل گرو کے بعد اب بی جے پی کو سزائے موت کے ان دو واقعات کے بارے میں بھی اپنی پوزيشن واضح کرنی ہو گی جن کی اس کی اتحادی اکالی دل اور انا ڈی ایم کے مخالفت کر رہی ہیں ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔