وہ میرے بھائی کو نہیں ماریں گے۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 09:33 GMT 14:33 PST

ذاکر مجید ایم اے انگلش کا طالبِ علم اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( آزاد ) کا نائب صدر بھی تھا

فرزانہ مجید نے بلوچستان یونیورسٹی سے بائیو کیمسٹری میں ایم ایس کرنے کے بعد ایم فل پروگرام میں داخلہ لے رکھا ہے۔اگر وہ بلوچ نہ ہوتی تو سفید کوٹ پہن کے کسی لیبارٹری میں کھڑی ہوتی یا دیگر ہم عمر نوجوانوں کی طرح ملازمت تلاش کر رہی ہوتی یا کم ازکم ایم فل کی کلاسیں تو اٹینڈ کر ہی رہی ہوتی۔

لیکن وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر رہی۔ بس پچھلے تین برس سے احتجاجی کیمپوں میں دھرنا دے رہی ہے ۔ریلیوں میں شریک ہے اور عدالت کے چکر کاٹ رہی ہے کیونکہ فرزانہ کو انتظار ہے اپنے بھائی ذاکر مجید کے بارے میں کسی خبر کا۔ کاش اسے ویسی خبر نہ ملے جو احتجاجی کیمپ میں ساتھ بیٹھنے والے کئی احتجاجیوں کو مل چکی ہے۔

کیمپ میں فرزانہ کا دن اخبار پڑھتے اور ان راہگیروں کو تکتے گذرتا ہے جنہیں فٹ پاتھ پر لاپتہ اور شہید ہونے والوں کی قطار در قطار سجی تصاویر کے پیچھے بیٹھے ورثا کے درمیان موجود برقعہ پوش فرزانہ تک نظر نہیں آتی۔

ذاکر مجید ایم اے انگلش کا طالبِ علم تھا اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( آزاد ) کا نائب صدر بھی۔ یہ تنظیم جو تعلیمی اداروں میں بلوچ حقوق کی آگہی بڑھانے کی دعویدار ہے اب تک اپنے کئی سینیئر رہنما کھو چکی ہے۔

ہوا یوں کہ ذاکر اپنے چند دوستوں کے ساتھ مستونگ سے لوٹ رہا تھا کہ ایک ساتھ کئی گاڑیوں نے انہیں روک لیا۔ ایک تھی کالے شیشوں والی ویگن اور دوسری ہائی لکس جن میں سے ایک لال رنگ کی تھی۔ یہ تفصیلات فرزانہ کو ذاکر کے دوستوں نے بتائیں جنہیں روکے جانے کے پندرہ منٹ بعد جانے دیا گیا۔

فرزانہ نے بتایا کہ ’ذاکر کے دوستوں نے ظہر اور عصر کے درمیان فون کیا مگر مجھے یقین نہ آیا۔ ٹی وی کھولا تو صرف ایک چینل پر ذاکر کے اغوا کی خبر کی پٹی چل رہی تھی۔ پہلا خیال یہ آیا کہ ماں کو ہرگز معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ ماں کی طبیعت ویسے ہی خراب رہتی ہے اور میں انہیں مزید زیر بار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں نے ذاکر کے دیگر دوستوں سے اس خبر کی تصدیق کی لیکن ماں کو لاعلم ہی رکھا‘۔

پھر فرزانہ نے انسانی حقوق کمیشن خضدار کے نمائندے سے رابطہ کیا ۔فرزانہ کا چھوٹا بھائی ذاکر کے عینی شاہد دوستوں کے ساتھ مستونگ گیا اور ایف آئی آر لکھوائی۔

فرزانہ ماں کا یہ سوال مسلسل ٹالتی رہی کہ ذاکر کہاں ہے؟

’پھر ایک روز ماں ایک واقف خاندان کے ہاں تعزیت کرنے گئی۔ مجھے لگا کہ وہاں کوئی نہ کوئی ماں کو ضرور بتا دے گا کیونکہ ذاکر کے بارے میں سب کو پتہ چل چکا تھا۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ اسے کوئی اور بتاتا میں نے ماں کو بتا دیا کہ ذاکر کو پولیس لے گئی ہے۔ ماں کو جھٹکا لگا اور پھر وہ دعاؤں میں لگ گئی۔ تب سے اب تک وہ یہی کر رہی ہے‘۔

"مجھے اپنی زندگی بھی چاہیے۔ میری بھی تو ضرورتیں ہیں۔ مگر یہ کیسی زندگی ہے ؟ عمر احتجاجی کیمپوں میں گذر رہی ہے۔ صرف اس امید پر کہ وہ میرے بھائی کو نہیں ماریں گے ۔کیا ہے یہ زندگی بھی۔۔۔ کیا اب بھی یہ واضح نہیں کہ وہ بلوچوں سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر ذاکر مجرم ہے تو عدالت میں کیوں پیش نہیں کرتے؟ مقدمہ چلاؤ، سزا دو کیوں پورے خاندان کو اور ایک پوری قوم کو سزا دے رہے ہو؟"

فرزانہ مجید

یہ قصہ سناتے ہوئے فرزانہ کی جھنجلاہٹ ایسی تھی جیسے اسے بالکل یقین نہ ہو کہ دعا میں بھی کوئی اثر ہو سکتا ہے۔ جیسے ماں کی دعائیں بھی اتنی ہی بےفائدہ ہوں جیسے خود اس کا احتجاجی مہم میں شامل رہنا ، جیسے وہ لاحاصل عدالتی پیشیاں جو وہ تین برس سے دیکھتی آ رہی ہے۔

ذاکر سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں پہلے بھی گرفتار ہوتا رہتا تھا۔

’ہر مرتبہ وہی الزامات۔ وہی سوالات۔ ہڑتال کیوں کروائی؟ جلوس کیوں نکالا؟ توڑ پھوڑ کیوں کی؟ جب بھی اسے عدالت میں پیش کیا جاتا سیشن جج رہا کر دیتا۔ مقدمہ ثابت ہی نہیں ہوتا تھا۔ وہ توسیاسی کارکن تھا مجرم تھوڑا ہی تھا۔‘

ذاکر کے اغوا کے دو ہفتے بعد فرزانہ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ پھر خضدار پریس کلب میں پریس کانفرنس کر ڈالی۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا اور پھر مئی دو ہزار دس میں دیگر غائب ہونے والے افراد کے ورثا کے ہمراہ کراچی میں احتجاجی کیمپ لگایا۔ کراچی میں یہ اس کا سب سے طویل قیام تھا۔ کبھی احتجاجی کیمپ گلشنِ اقبال میں لگتا تو کبھی لیاری میں۔ بچپن میں وہ سیر کرنے کراچی آئی تھی مگر اس دفعہ کراچی میں خود ایک منظر تھی۔

’کیمپ میں تھوڑے بہت لوگ اظہارِ ہمدردی کے لیے آتے رہے۔ بین الاقوامی میڈیا بھی آیا، ٹی وی کیمرے بھی آئے مگر کچھ نہ ہوا کچھ نہ بدلا۔ عید کا دن بھی کیمپ میں ہی گزرا۔ کچھ نہ ہوا‘۔

پھر اچانک دو ہزار گیارہ کے شروع میں مسخ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ فرزانہ، وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے رہنما عبدالقدیر بلوچ اور دیگر متاثرین نے اسلام آباد میں اس امید پر احتجاجی کیمپ لگایا کہ میڈیا سے بات ہوگی تو حکام پر دباؤ پڑے گا۔ لاپتہ افراد کے دیگر ورثا کی طرح فرزانہ بھی جسٹس جاوید اقبال سے ملی۔

جسٹس جاوید اقبال نے فرزانہ سے بھی وہی کہا جو وہ ہر بلوچ خاندان سے کہتے آئے ہیں۔ احتجاجی کیمپ ختم کردو،گھر لوٹ جاؤ، ایک ہفتے میں تمہارے غائب اہلِ خانہ تمہارے پاس ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے سابق سینیئر جج اور لاپتہ افراد کے معاملے کی چھان بین کرنے والے جسٹس جاوید اقبال نے اس خوفناک خواب کو مزید سنگین بنانے میں عجیب سا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بہت سے متاثرہ خاندانوں سے کئی خالی خولی وعدے کیے کہ اکثر متاثرین اب انہیں اس شاخسانے کا ہی ایک حصہ سمجھتے ہیں۔

چنانچہ احتجاجی کیمپ اسلام آباد سے کوئٹہ منتقل ہوگیا اور فرزانہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ کچھ وقت گذارنے خضدار چلی آئی۔

پھر اسے دھمکی آمیز فون آنے لگے۔’ذاکر مجید کو بھول جاؤ۔اب وہ واپس نہیں آئے گا‘۔

’کیمپ ختم کردو،گھر لوٹ جاؤ‘

سپریم کورٹ کے سابق سینیئر جج اور لاپتہ افراد کے معاملے کی چھان بین کرنے والے جسٹس جاوید اقبال نے فرزانہ سے بھی وہی کہا جو وہ ہر بلوچ خاندان سے کہتے آئے ہیں۔ احتجاجی کیمپ ختم کردو،گھر لوٹ جاؤ، ایک ہفتے میں تمہارے غائب اہلِ خانہ تمہارے پاس ہوں گے۔ جسٹس جاوید اقبال نے اس خوفناک خواب کو مزید سنگین بنانے میں عجیب سا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بہت سے متاثرہ خاندانوں نے کئی خالی خولی وعدے کیے کہ اکثر متاثرین اب انہیں اس شاخسانے کا ہی ایک حصہ سمجھتے ہیں۔

ابھی وہ خضدار ہی میں تھی کہ ہلاکتوں اور لاشوں کو پھینکنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پہلے غفار لانگو ملا۔

پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے کا باپ غفار لانگو تین برس سے غائب تھا۔ لاش گڈانی کے قریب پڑی ملی ۔ سر کسی کند ہتھیار کے لگائے زخموں سے بھرا پڑا تھا۔

پھر سمیر رند ملا۔

چوبیس سالہ سمیر سال بھر سے لاپتہ تھا۔اس کی بہن فرزانہ کے ساتھ ہی احتجاجی مہم میں شامل تھی۔

پھر جلیل ریکی دریافت ہوا۔

جلیل دو برس سے غائب تھا۔اس کا باپ قدیر بلوچ ورثا کی احتجاجی مہم منظم کرنے میں آگے آگے تھا۔

پھر ثنا سنگت کی لاش سامنے آئی۔

تین برس سے ثنا کا بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا۔جب ملا تو لاش میں گولیوں کے اٹھائیس چھید تھے۔

سب ذاکر مجید کے ساتھی تھے۔ سب طویل حراست میں مار دیے گئے۔ ہر ایک کی کہانی اس کا جسم سنا رہا تھا۔

اور فرزانہ کی زندگی کا محور یہی مطالبہ رہا کہ اب یہ کہانی ختم کرو۔ اس نے اپنا فون نمبر بدل لیا، خضدار چھوڑا اور واپس احتجاجی کیمپ میں آ گئی۔

شروع کے دو برس تو فرزانہ کے خاندان کو ذاکر مجید کی خبریں ملتی رہیں اور انہی خبروں سے فرزانہ ذاکر کے حالات کا تصور بناتی رہی۔

ساتھ کے رہا ہونے والے بتاتے رہے کہ وہ قلی کیمپ میں ہے۔ ’وہ ہمیں پیار بھرے پیغام بھیجتا رہا۔ اپنی قمیض کے بٹن بھیجتا رہا تاکہ ہم جان سکیں کہ وہ ابھی زندہ ہے‘۔

مگر پچھلے چھ سات ماہ سے ذاکر کی کوئی اطلاع نہیں۔

جب فرزانہ ذاکر مجید کے دوستوں کی لاشوں پر پائے گئے زخموں کا ذکر کرتی ہے تب اس کے لہجے میں کوئی خاص تلخی نہیں محسوس ہوتی بلکہ خاصے ٹھہراؤ کے ساتھ بات کرتی ہے لیکن جب اپنے بارے میں بولتی ہے تو برہم ہو جاتی ہے۔

’مجھے دیکھو۔ ستائیس سال کی ہوں۔ ذاکر پچیس برس کا ہوگیا ہے۔ مجھے اپنی زندگی بھی چاہیے۔ میری بھی تو ضرورتیں ہیں۔ مگر یہ کیسی زندگی ہے ؟ عمر احتجاجی کیمپوں میں گذر رہی ہے۔ صرف اس امید پر کہ وہ میرے بھائی کو نہیں ماریں گے ۔کیا ہے یہ زندگی بھی؟‘۔

فرزانہ پاکستانی ریاست اور عوام سے ناامید ہے۔ ’ کیا اب بھی یہ واضح نہیں کہ وہ بلوچوں سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر ذاکر مجرم ہے تو عدالت میں کیوں پیش نہیں کرتے؟ مقدمہ چلاؤ، سزا دو کیوں پورے خاندان کو اور ایک پوری قوم کو سزا دے رہے ہو؟

’میں احتجاجی کیمپ میں کیسے وقت کاٹتی ہوں؟ میں سیاست کے بارے میں کتابیں پڑھتی ہوں۔انقلابیوں کو پڑھتی ہوں۔ چی گویرا کی سوانح حیات پڑھ لی ہے۔ سپارٹکس پڑھ چکی ہوں۔ ان دنوں موسیٰ سے مارکس تک ( سبطِ حسن ) پڑھ رہی ہوں۔ سیکھ رہی ہوں اور جان رہی ہوں انقلابات اور دیگر لوگوں کی جدوجہد کو‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔