صحافی جو یونیفارم کنٹریکٹر بن گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 فروری 2013 ,‭ 03:52 GMT 08:52 PST

محمد بلال مینگل نوشکی میں ایک اعزازی صحافی کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ وہ کوئٹہ، گوادر اور اسلام آباد سے شائع ہونے والے ایک اخبار کا مکتوب نگار ہے جو ’آزاد‘ کہلاتا ہے۔ یہ ان اخباروں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں اس بات کا امکان کم ہے کہ آپ انھیں کسی نیوز سٹینڈ پر دیکھ سکیں۔

بلال مینگل نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی اور وہ اردو پڑھ اور لکھ سکتا ہے۔ اخبار ’آزاد‘ ظاہر ہے اسے کوئی تنخواہ نہیں دیتا۔ عام طور پر اسے پیسے وہ لوگ دیتے ہیں جنھیں وہ موضوع بناتا ہے۔ وہ ایک دیانت دار کارکن ہے۔ اپنے کام کو وہ ’خبریں بنانا‘ قرار دیتا ہے۔

غیر سرکاری تنظیمیں عموماً ایک خبر کے ایک ہزار روپے دیتی ہیں۔ کبھی کبھار آپ اگر کسی پریس کانفرنس کی کوریج کریں تو وہ آپ کو پانچ سو روپے دیتے ہیں۔ اس کا انحصار اس پر بھی ہوتا ہے کہ کوریج میں کتنے صحافی شریک ہیں، کیونکہ انھیں رقم ان سب میں مساوی تقسیم کرنا ہوتی ہے۔

بلال نے قلعہ نوشکی میں تعینات پاکستان کی برّی فوج کے ایک یونٹ کی جانب سے یومِ پاکستان کی تقریبات کی بھی کوریج کی تھی۔ ’میں چودہ اگست اور تئیس مارچ کی تقریبات کی کوریج کیا کرتا تھا۔ اگر دس صحافی ان تقریبات کو کور کرتے تو ہم سب کو سات سات سو روپے مل جاتے۔‘

اگرچہ آرمی والے اتنے پیسے نہیں دیتے تھے جتنے این جی اوز والے، لیکن بلال مینگل نے قلعہ نوشکی میں کچھ دوست بنا لیے۔

ایک رحم دل کرنل نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ کچھ بھی، بلال نے جواب دیا۔ بالآخر بلال کو یونٹ کے لیے یونی فارم کی سلائی کا ایک کنٹریکٹ مل گیا۔ کوئی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ ایک رپورٹر سے یونی فارم سلائی کا کنٹریکٹر بن جانا پیشے میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، لیکن ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بلال کے ذمے اس کے نو بچے ہیں۔

نوشکی کوئی ایسا ضلع نہیں جہاں بہت سی این جی اوز ہوں، پریس کانفرنسیں کبھی کبھار ہی ہوتی تھیں اور یومِ پاکستان کی تقریبات سال میں صرف دو بار۔ بلال مینگل کا بڑا بھائی درزی تھا اس لیے سلائی کے کام کے لیے بلال کے پاس ایک پس منظر بھی موجود تھا۔ کنٹریکٹ کی پیش کش بلال مینگل کو خوب باور آئی اور اس نے ایک نیا کیریئر شروع کر دیا، یہ جانے بغیر کہ یہ کیریئر اس سے اس کے پسندیدہ بچے کو دور لے جانے والا ہے۔

بلال مینگل نے اپنی دکان قلعے کے اندر لگائی۔ اسے ہر سال تین ہزار تین سو یونی فارم سینے کا کنٹریکٹ ملا۔ اسے ہر یونی فارم کے ستر روپے دیے گئے۔ سلائی کے لیے مٹیریل آرمی یونٹ نے فراہم کیا۔ بدلے میں اس سے یہ توقع کی گئی کہ وہ کچھ افسران کے لیے نجی ملبوسات بھی تیار کرے لیکن وہ اس انتظام سے بھی خوش تھا۔ اس نے اپنی مدد کے لیے اپنے بائیس سالہ بیٹے خالد بلال مینگل کو بھی ساتھ لگا لیا۔ شاید یہی اس کی غلطی بھی تھی۔

کیونکہ خالد مینگل پچھلے ایک سال سے لاپتہ ہے۔ بلال جانتا ہے کہ اس کا بیٹا آرمی کی تحویل میں ہے۔ بلال نے خالد کو لے جانے والی آرمی کی گاڑیوں کو نوشکی قلعے کے دروازے سے اندر داخل ہوتے دیکھا تھا۔ مقامی ایس ایچ او نے نوشکی قلعے کے دروازے تک فوجی جیپوں کا پیچھا کیا۔ ایک حد ایسی ہے جو اس ملک کا جری ترین ایس ایچ او بھی عبور نہیں کر سکتا۔

"حملہ شام ساڑھے چھ بجے ہوا۔ ایف آئی آر میں اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ قلعے کے گارڈ روم کے مطابق ہم قلعے سے شام سوا سات بجے نکلے۔ اس لیے جب حملہ ہوا تب میں اور میرا بیٹا دونوں قلعے کے اندر موجود اپنا کام کر رہے تھے۔"

بلال مینگل

خالد بلال مینگل کا نام بلوچ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہے، لیکن چونکہ وہ کسی سیاسی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتا، نہ اس کے داڑھی ہے، اس لیے اس کا نام احتجاجی مظاہروں اور عدالتوں میں دائر کی جانے والی اپیلوں میں عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس کا بیٹا اس کے سابق آجرین، یعنی پاک فوج ،کے پاس ہے، بلال مینگل کے پاس کاغذوں کا ایک پلندہ اور متعدد عینی گواہ موجود ہیں۔

جن دنوں بلال مینگل قلعے کے اندر اپنی درزی کی دکان میں کام کرتا تھا قلعہ نوشکی میں تعینات سپاہیوں اور افسروں کو سختی سے حکم تھا کہ وہ قلعے کے حکام کی تحریری اجازت کے بغیر اپنے علاقے سے باہر نہیں جا سکتے۔ نوشکی شہر میں حملے کے خطرے کے باعث یہ اجازت حاصل کرنا آسان بھی نہیں تھا۔

نائب صوبیدار رمضان بغیر اجازت قلعے سے نکلا، شہر میں گیا اور فائرنگ کے ایک واقعے میں زخمی ہو گیا۔ بلال مینگل پہلے تو یہ اصرار کرتا ہے کہ اسے کچھ نہیں معلوم کہ نائب صوبیدار رمضان بلا اجازت باہر کیوں گیا لیکن پھر اندازہ لگاتا ہے کہ ’شاید شہر میں اسے کسی کے ساتھ ڈیٹ لگانی ہو، امکان غالب ہے کہ کسی عورت کا چکر تھا، ورنہ کوئی ایسا رسک کیوں لے گا؟‘

اس حملے کا الزام بلال مینگل پر عائد کیا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ مقدمہ نامعلوم حملہ آور کے خلاف درج کیا گیا جو ایف آئی آر کے مطابق لمبے بالوں اور نیلی آنکھوں والا تھا۔

’میری طرف دیکھیے،‘ بلال مینگل اپنے چھوٹے بالوں، لمبی داڑھی اور سیاہ آنکھوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ’میں اپنے بال کاٹ سکتا ہوں، داڑھی بڑھا سکتا ہوں، لیکن کیا میں اپنی آنکھوں کا رنگ بھی تبدیل کر سکتا ہوں؟‘

بلال مینگل پہلا شخص تھا جسے اس حملے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ ’حملہ شام ساڑھے چھ بجے ہوا۔ ایف آئی آر میں اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ قلعے کے گارڈ روم کے مطابق ہم قلعے سے شام سوا سات بجے نکلے۔ اس لیے جب حملہ ہوا تب میں اور میرا بیٹا دونوں قلعے کے اندر موجود اپنا کام کر رہے تھے۔‘

بلال مینگل کو اکثر افسران کے ذاتی کاموں کے لیے شہر بھیجا جاتا تھا کیونکہ وہ خود وہاں نہیں جا سکتے تھے۔ ’لیکن اس روز میں قلعے سے نکلا ہی نہیں، کیونکہ ایسا کوئی کام ہی نہیں تھا۔‘

گیٹ نمبر ایک

سولہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ کی رات اس کے گھر پر چھاپا مارا گیا۔ ’بہت سی دو دروازوں والی گاڑیاں تھیں، مرد تھے جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ وہ رات دو بجے میرے گھر میں زبردستی داخل ہوئے۔‘

سوا دو بجے وہ لوگ اس کے دو بیٹوں خالد اور مرتضیٰ کو ساتھ لیے وہاں سے چلے گئے۔ بلال نے مقامی ایس ایچ او کو فون کیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اغوا کاروں کا پیچھا کرے۔ وہ خود اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گیا جہاں سے وہ گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھ سکتا تھا۔

’وہ قلعے کے گیٹ نمبر ایک کی جانب جا رہے تھے۔ ایس ایچ او نے گیٹ تک ان کا پیچھا کیا، مگر اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تین گاڑیاں اندر داخل ہوئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔‘

بعد میں بلال مینگل کو سچ کا پتا چلا جب آئی جی ایف سی کے سٹاف افسر نے اسے صاف بتایا۔ ’تمھیں ان سے کیا کرنے کی توقع تھی؟ ان کے آدمی پر شہر میں حملہ ہوا تھا، انھیں کیا کرنا چاہیے تھا۔ کیا وہ آرام سے بیٹھے رہتے اور اپنے افسران کو یہ بتاتے کہ انھیں پتا ہی نہیں کہ ان کے آدمی پر حملہ کس نے کیا ہے؟‘

بلال مینگل کے مطابق ایف سی کی ہائی کمانڈ نے نتائج اور برآمدگی کا مطالبہ کیا، اس لیے نوشکی کمانڈ نے، جو پہلے ہی اتنے دشمن دار علاقے میں کام کر رہی تھی جہاں آپ کو قدم باہر رکھنے سے پہلے بھی اعلیٰ ترین سطح سے تحریری اجازت کی ضرورت پڑتی تھی، ان لوگوں کو ہی پکڑ لیا جن تک اس کی سب سے پہلے رسائی ہو سکی۔ یہ لوگ اتفاق سے ان کا اپنا درزی اور اس کا بیٹا تھے۔

بلال مینگل کہتا ہے ’انھوں نے ہمیں چار روز تک قلعے میں رکھا اور پھر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا۔‘ انھوں نے اس پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کرایا اور یہ مقدمہ کوئٹہ میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کو بھیج دیا گیا۔ ’یہ مقدمہ دس ماہ تک چلتا رہا۔ وہ کچھ بھی ثابت نہ کر سکے اور آخرِکار مجھے باعزت رہائی مل گئی۔‘

بلال جیل میں قید اس مقدمے کی کارروائی بھگت ہی رہا تھا کہ اس کے بیٹے خالد کو نوشکی پولیس نے اٹھا لیا۔ ان دنوں بلال اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے کوئٹہ میں تھا۔ بلال نے عدالت میں موجود کچھ اور قیدیوں سے سنا کہ اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’گھر میں روزی روٹی کمانے والا خالد ہی تھا۔ میں جیل میں تھا تو اس نے میرا اخباری رپورٹنگ کا کام شروع کر دیا تھا۔ عدالت میں موجود دوسرے قیدیوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اگلی سماعت پر میں نے جج سے استدعا کی کہ وہ مہربانی فرما کر کچھ کریں کیونکہ میرے بیٹے کو ان کی عدالت سے اٹھایا گیا ہے۔

پچیس روز بعد خالد گھر لوٹ آیا۔ بلال مینگل کو سکون ملا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کے خاندان کے مصائب ختم نہیں ہوئے۔ اس نے نوشکی پولیس سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی۔ انھوں نے انکار کردیا۔

سولہ مئی سنہ دو ہزار گیارہ کی رات اس کے گھر پر چھاپا مارا گیا۔ ’بہت سی دو دروازوں والی گاڑیاں تھیں، مرد تھے جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ وہ رات دو بجے میرے گھر میں زبردستی داخل ہوئے۔‘

سوا دو بجے وہ لوگ اس کے دو بیٹوں خالد اور مرتضیٰ کو ساتھ لیے وہاں سے چلے گئے۔ بلال نے مقامی ایس ایچ او کو فون کیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اغوا کاروں کا پیچھا کرے۔ وہ خود اپنے گھر کی چھت پر چڑھ گیا جہاں سے وہ گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھ سکتا تھا۔

ایک آزاد شخص

بلال مینگل آئی جی ایف سی کے پرسنل سٹاف افسر سے ملنے میں بھی کامیاب رہا، جہاں اسے خود اس سے متعلق ایک ایسی بات بتائی گئی جو خود اس نے کبھی نہیں سنی تھی۔ ’اس میجر نے ایک فائل کے اندر جھانکا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: لیکن تمھیں تو پچیس سال قید کی سزا ہو چکی ہے، تمھیں تو جیل میں ہونا چاہیے تھا، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘

’میں یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ آپ نے میرے خلاف ایک جھوٹا کیس درج کرایا اور مجھے بری کردیا گیا۔‘ یہ ملاقات اسی مخمصے میں ختم ہوئی کہ میجر یہ اصرار کرتا رہا کہ اسے جیل میں ہونا چاہیے اور بلال دلائل دیتا رہا کہ وہ ایک آزاد شخص ہے۔

’وہ قلعے کے گیٹ نمبر ایک کی جانب جا رہے تھے۔ ایس ایچ او نے گیٹ تک ان کا پیچھا کیا، مگر اسے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تین گاڑیاں اندر داخل ہوئیں اور دروازہ بند کر دیا گیا۔‘

بلال نے صبح ایک ایف آئی آر درج کرائی اور پھر نوشکی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کردی۔ بلال مینگل نے اس راستے کا انتخاب کیا جو بلوچستان میں تقریباً ہر وہ شخص اختیار کرتا ہے جس کے خاندان کا کوئی رکن لاپتہ ہو جائے۔ وہ قانون کا راستہ اختیار کرتا ہے، ایف آئی آر درج کراتا ہے، عدالت میں درخواست دائر کراتا ہے، حالانکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ قانون اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کرے گا۔ پھر وہ احتجاج شروع کر دیتا ہے اور امید کرتا ہے کہ کوئی اس کا نوٹس لے لے گا۔

نوشکی کی بازار کمیٹی نے معاملے میں مداخلت کی اور کہا کہ وہ قلعے کے اندر فوجی حکام سے بات کریں گے اور اگر خالد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ سب بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔ بلال مینگل کا بیٹا رہا نہیں کیا گیا۔ بازار کمیٹی کا کوئی رکن اس کے احتجاج میں شامل نہیں ہوا۔

بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح بلال مینگل نے بھی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے لگا۔ اس نے فوج میں اپنی سابقہ اچھی شہرت کی بنیاد پر بھی اپنے بیٹے کو رہا کرانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ان کوششوں کا نقطہِ عروج وہ تھا جب وہ کوئٹہ کے کور کمانڈر کے پرسنل سٹاف افسر سے ایک ملاقات کرنے میں کامیاب ہو پایا۔

اسے صاف صاف بتا دیا گیا ’ہم لوگوں کو اٹھاتے ہیں نہ لاشیں پھینکتے ہیں‘۔ وہ آئی جی ایف سی کے پرسنل سٹاف افسر سے ملنے میں بھی کامیاب رہا، جہاں اسے خود اس سے متعلق ایک ایسی بات بتائی گئی جو خود اس نے کبھی نہیں سنی تھی۔ ’اس میجر نے ایک فائل کے اندر جھانکا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: لیکن تمھیں تو پچیس سال قید کی سزا ہو چکی ہے، تمھیں تو جیل میں ہونا چاہیے تھا، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘

’میں یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ آپ نے میرے خلاف ایک جھوٹا کیس درج کرایا اور مجھے بری کردیا گیا۔‘ یہ ملاقات اسی مخمصے میں ختم ہوئی کہ میجر یہ اصرار کرتا رہا کہ اسے جیل میں ہونا چاہیے اور بلال دلائل دیتا رہا کہ وہ ایک آزاد شخص ہے۔

بلال مینگل چیف جسٹس کی جانب سے شروع کی جانے والی سپریم کورٹ کی سماعتوں میں حاضر ہوتا رہا ہے لیکن لگتا نہیں ہے کہ اسے ان پر کچھ زیادہ اعتماد ہو۔ ’چیف جسٹس یہاں صرف رونمائی کے لیے آتے ہیں۔ انھیں صرف اپنی عزت بچانے کی فکر ہے۔ کچھ نہیں بدلا۔ کچھ بدلے گا بھی نہیں۔‘

مینگل کی اپنی سیاست کیا کہتی ہے؟ کیا وہ بلوچستان میں بغاوت کی حمایت کرتا ہے؟ ’میں غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی کا رکن تھا۔ وہ ملک کا آخری نفیس سیاست دان تھا اور میں اس کی حمایت کرتا تھا۔ اس کے بعد سے میں نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کی۔‘

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سرسری سا علم رکھنے والا کوئی بھی شخص آپ کو بتا سکتا ہے کہ این پی پی قوم پرستی کی کسی بھی جدوجہد سے ہر ممکن حد تک دور ہے اور اس کا لوگوں کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد سے بھی کوئی واسطہ نہیں۔

بلال مینگل نے اپنا آخری صحافیانہ فریضہ مرسی کارپوریشن نامی ایک این جی او کے لیے انجام دیا۔ انھوں نے اسے سات سو روپے عطا کیے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔