جمہوریت کا جانگیہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 مارچ 2013 ,‭ 12:55 GMT 17:55 PST

پانچ برس کے دوران فوج اور سویلین حکومت ’ادھر تم، ادھر ہم‘ کی بنیاد پر ایک دوسرے کو برداشت کرتے رہے

کہنے کو تو کچھ بھی کہا جاسکتا ہے۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ صاحب اس پانچ برس کی جمہوریت نے سوائے بدامنی ، کرپشن ، مہنگائی ، قومی بیگانگی اور بے حسی کے کیا دیا ؟

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ صدر جب آمر تھا تو ہماری صحت پر کیا اثر پڑا اور جب صدر نے اپنے آمرانہ اختیارات وزیرِ اعظم کے حوالے کر دیے تو کون سا آسمان ہماری جھولی میں گر پڑا۔بات تو تب تھی کہ کوئی ایسا صدر اپنے اختیارات واپس کرتا جس کے پاس کسی طاقت ور سیاسی جماعت کی سربراہی نا ہوتی۔

میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ ان پانچ برس کے دوران اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری اگر کاغذ پر بڑھ بھی گئی تو بھی کیا ہوا۔ آگ لگے ایسی خود مختاری کو جو یہ تک نہیں بتا سکتی کہ غائب ہونے والا کس غار میں رکھا گیا اور جو گولی کا نشانہ بنا اس کا قاتل کدھر گولی ہوگیا۔

جب صوبائی خودمختاری میں اضافے کے فوائد پوچھنے ہوں تو کوئٹہ کے ہزارہ ، کراچی کے شیعہ ، جیکب آباد کے ہندو اور لاہور کے عیسائی سے ضرور رابطہ کرنا ۔۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پہلی دفعہ جعلی ڈگری یافتوں ، ٹیکس چوروں ، مافیا نوازوں ، قانون ساز قانون شکنوں ، کمیشن و سٹیٹ ایجنٹوں اور لینڈ گریبرز کے ہم خیال جتھے نے پانچ برس مکمل کر لیے۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فوج اور ایجنسیوں نے’جہاں ہے اور جیسا ہے‘ کی بنیاد پر رواں دواں سویلین کاروبارِ حکومت کو پٹڑی سے اتارنے سے یوں بھی گریز کیا کیونکہ اس حکومت نے فوج اور ایجنسیوں کے کام میں کبھی کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ پانچ برس کے دوران فوج اور سویلین حکومت ’ادھر تم، ادھر ہم‘ کی بنیاد پر ایک دوسرے کو برداشت کرتے رہے۔

کہنے کو تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان پانچ برس کے دوران پاکستان کی دوکان پر بورڈ تو جمہوریت کا لگا رہا مگر دوکان کی ایک ایک ڈپلی کیٹ چابی صدر اور وزیرِ اعظم کے علاوہ از قسم ِ ملک ریاض ، اویس ٹپی ، فریال تالپور ، حمزہ شہباز ، رئیسانی اور سید معصوم شاہ عرف ایس ایم ایس وغیروں کے پاس بھی رہی۔

تین تالیاں تو سب کو بجانی چاہئییں

بے یقینی کے پینسٹھ سالہ گہرے پانی میں درجنوں حکومتوں کے غرقاب ڈھانچوں کے درمیان جب کوئی آڑے ترچھے چہروں سے لدی ایک بھی کشتی کسی طویل سمندری سفر کے دوران آدم خور شارکوں سے بچتی بچاتی صحیح سلامت ساحل سے آن لگے تو کم ازکم تین تالیاں تو سب کو بجانی چاہئییں۔

کہنے کو تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عقیدے ، نسل اور قومیت کے نام پر پچھلے پانچ جمہوری برس میں جو کچھ بھی ہوا اور جس نے بھی کیا۔ ویسا پہلے کے کسی جمہوری و غیر جمہوری دور میں اتنے تواتر سے نہیں ہوا۔ اب تو جنرل ضیا کا دور بھی اتنا پیچھے جا چکا ہے کہ اسے الزام دیتے ہوئے بھی کھوکھلا پن سا محسوس ہوتا ہے۔

کہنے کو تو یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ کیا ہم ان پانچ برسوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار اس لیے کریں کہ بھلے امن و امان کا کُرتا پھٹ گیا ، معیشت کا پاجامہ اتر گیا مگر جمہوریت کا جانگیہ تو بچ گیا ۔

پر آج میرا قطعاً ایسے سوالات اٹھانے کا موڈ نہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ پانچ سالہ اننگز کے باضابطہ اور آئینی اختتام کی اتنی ہی خوشی ہے جیسے کبھی کبھی انڈیا پاکستان ون ڈے میچ کا نتیجہ سن کر ہوتی ہے۔

بے یقینی کے پینسٹھ سالہ گہرے پانی میں درجنوں حکومتوں کے غرقاب ڈھانچوں کے درمیان جب کوئی آڑے ترچھے چہروں سے لدی ایک بھی کشتی کسی طویل سمندری سفر کے دوران آدم خور شارکوں سے بچتی بچاتی صحیح سلامت ساحل سے آن لگے تو کم ازکم تین تالیاں تو سب کو بجانی چاہئییں۔

آپ تو جانتے ہیں کہ کہیں بھی زمین میں بورنگ کرکے پانی کا نلکا لگایا جائے تو اس میں سے بہت دیر تک کیچڑ نکلتا رہتا ہے ۔پھر گدلا پانی آنے لگتا ہے اور اگر آپ نلکہ مسلسل ہلاتے رہیں تو آدھے پونے گھنٹے بعد صاف پانی گرنا شروع ہوجاتا ہے۔

جمہوریت کا نلکا بھی ایسے ہی کام کرتا ہے۔کیچڑ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگلے الیکشن میں یہی کیچڑ گدلا پانی بن جائے گا اور اس سے اگلے الیکشن کے بعد یہی پانی پینے کے قابل ہوجائے گا۔

جہاں پینسٹھ برس سہی وہاں دس برس اور سہی۔۔۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔