’مستقبل میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ شام کے تنازع کے سیاسی حل میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔

وزیر خارجہ جان کیری نے اردن نقل مکانی کرنے والے شامی شہریوں کے لیے مزید دس کروڑ ڈالر امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔

روم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ’اردن کے وزیر خارجہ امریکہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے جس کا مقصد باہمی رضامندی سے شام میں عبوری حکومت کا قیام ہے، اس کا واضح مطلب ہے کہ ہمارے فیصلے کے مطابق صدر بشارالاسد اس عبوری حکومت کا حصہ نہیں ہوں گے‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ شام کے مسلئے کے حل کے لیے روس اور امریکہ کی تجویز کردہ بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں بہت مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے ۔اس کانفرنس کی تجویز ماسکو میں امریکی وزیر خارجہ، روسی صدر اور وزیر خارجہ کے مابین ہونے والے مذاکرات کے بعد دی گئی تھی۔

وزیر خارجہ کیری کے مطابق’ ہم اس کانفرس کے مشترکہ انعقاد کے لیے فریقین کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے جا رہے ہیں‘۔

امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ امریکہ کسی معاہدے سے پہلے صدر بشار الاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کی شرط میں لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

باغیوں کا مطالبہ رہا ہے کہ کسی معاہدے سے پہلے صدر بشارالاسد اقتدار سے الگ ہو جائیں۔صدر بشارالاسد کا حامی روس اس کی مخالفت کرتا ہے اور اس نے رواں ہفتے شام کے تنازع کے سیاسی حل سے متعلق ایک کانفرس کے انعقاد کی حمایت کی ہے۔

اس کانفرس میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کو آمادہ کیا جائے گا کہ وہ گزشتہ سال جون میں جاری ہونے والے اعلامیے کی بنیادی شقوں پر آمادگی کا اظہار کرے۔

یہ اعلامیہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں قائم کیے جانے والے گروپ نے جاری کیا تھا۔ اس اعلامیے میں شام سے فوری طور پر تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ وہاں عبوری حکومت قائم کی جا سکے جو صدر بشار السد کی حکومت میں شامل افسران اور اپوزیشن کے اراکین پر مشتمل ہو۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون جو جمعہ کو ماسکو پہنچیں گے۔ ان کے اس دورے کا مقصد شام کے معاملے پر روسی صدر سے بات چیت کرنا ہے۔برطانوی وزیراعظم روس کے بعد امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اردن سے ملنے والی خبروں کے مطابق شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تنازع کے دوران اس کی دس فیصد آبادی نقل مکانی کی چکی ہے۔وزیر خارجہ نصیر جودہ کے مطابق سال دو ہزار چودہ کے نصف تک یہ شرح پچیس سے چالیس فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2011 سے صدر بشار اسد کے خلاف جاری تحریک میں تقریباً 70 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اسی بارے میں