دال میں کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے

یہ کس قسم کی حکومت ہے؟ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی طلب کر کے اور دو گھنٹے انتظار کرنے کے باوجود جواب ندارد۔ سوال کافی واضح تھا کہ کینیڈا کے ایک گروپ کی تحقیقی رپورٹ کتنی درست ہے؟ مگر نہ نئی وزیر مملکت انوشہ رحمان اور نہ ان کے ایڈیشنل سیکرٹری نے اس پر لب کشائی کی جرات کی۔

ایک موقر ادارہ تحقیقی رپورٹ جاری کرتا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ اور ٹیلیفون صارفین پر ان کے علم میں لائے بغیر نظر رکھی جا رہی ہے۔ نہ کوئی تردید ہے اور نہ کوئی تصدیق۔ اس سے میرے جیسا بندہ تو ایک ہی نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ دال میں کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے۔

معلوم نہیں کب سے پاکستان کے اندر سے انٹرنیٹ اور ٹیلیفون کی نگرانی ہو رہی ہے اور کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس بےچاری قوم کو اعتماد میں ہی لے لے۔ ہاں دہشت گردوں کو معلوم ہو جائے گا کہ جاسوسی ہو رہی ہے تو شاید انٹرنیٹ کا استعمال بند کر دیا جائے۔ لیکن یہ بہتر حل نہیں؟ ان کو پکڑا تو آج تک نہیں گیا تو کم از کم وہ استعمال تو بند کر دیں گے نا؟

باقی میرے جیسوں کو شاید معلوم ہو جائے کہ ان کی بیویوں کو ہماری فالتو ای میلوں کی تفصیل کہاں سے مل رہی ہے۔ لہذا وہ بھی شاید سدھر جائیں۔ تو فائدہ ہی فائدہ لیکن ہمارے حکمراں اتنے ہوشیار کہاں۔

خیر خیال آیا کہ چونکہ پیپلز پارٹی کی سابق حکومت نے ’فیر ٹرائل بل” نامی ایک قانون جلد بازی میں منظور کروایا تھا جس کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا تھا۔

اس کی دنوں میں منظوری پر خود جنہوں نے اسے منظور کیا وہ بھی پشیمان ہیں لیکن اب کیا ہوسکتا ہے۔ اسے پڑھنے پر معلوم ہوا کہ بیس گریڈ کا ایک افسر وزیر کو رپورٹ پیش کرے گا، وزیر شواہد کو دیکھ کر اس کی اجازت دیں گے اور پھر معاملہ ایک جج کے پاس جائے گا جو اس مشتبہ شخص کی الیکٹرانک جاسوسی کی منظوری دے گا۔

یہ جاسوسی مشتبہ شخص کی کسی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو، اس کی حرکات و سکنات کی ویڈیو فلمنگ، ای میلز اور ایس ایم ایس کی نگرانی پر مبنی ہو سکتی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے کسی بھی اجازت نامے کے بغیر پوری قوم کی غالباً مخبری ہو رہی ہے اور اگر نہیں ہو رہی ہے تو حکمران اس کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں۔

ایسے میں بھاڑ میں گئے انسانی حقوقِ انسانی اور آزادئ اظہار اور سب سے بڑھ کر آپ کے پڑوسی کیونکہ اسی قانون کی ایک شق میں درج ہے کہ ایسی کسی غیر قانونی جاسوسی کرنے والے کو جرمانے کے علاوہ تین سال قید بھی دی جا سکتی ہے۔

تو میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟

اسی بارے میں