تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں

تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں

یہ تصویر دیکھ کر اگر آپ کو بھی کوئی شعر یا مصرع یاد آیا ہو تو ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم اسے ان صفحات پر شائع کر دیں گے۔ اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں تو اپنے شعر کے ساتھ اپنا ٹوئٹر ہینڈل ضرور بھیجیے۔

(ہم کوشش کریں گے کہ آپ کی جانب سے موصول ہونے والے اشعار زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع ہو جائیں تاہم بڑی تعداد میں ای میلز موصول ہونے کی وجہ سے شاید ہم تمام اشعار شائع نہ کر سکیں)

ہمیں کیا بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

شعیب، ٹیکساس

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگا کے زخم، نمک سے مساج کرتے ہیں

یاسین محمد ہاشمی، دالبندین

وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی

محمد اکرم شہزاد، وہاڑی

گر آج تجھ سے جدا ہیں توکل بہم ہوں گے

یہ رات بھرکی جدائی توکوئی بات نہیں

جو آج اوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا

یہ چار دن کی خُدائی توکوئی بات نہیں

سلام صابر, دالبندین چاغی، کنور حسن، لاہور

بنے ہی اہلِ ہوس مدعی بھی، منصف بھی

کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں

طالب میر، میلبرن، آسٹریلیا، اسماء لطیف، گوجرہ،

درخت جاں پہ عذاب رت ہے، نہ برگ اترے نہ پھول آئے

بہار رت ميں وہ جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے

حافظ محمداحمد, کراچی

ميرے قاتل ميری ميت پہ ذرا رولينا

داغ دامن پہ لگے خون کے تم دھو لينا

شکیل بشیر ایڈوکیٹ، حضرو

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے

ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا -----؟

ریاض بگٹی، کوئٹہ

اقبال ترے دیس کا کیا حال بتاؤں

علی رضا، حیدرآباد

کس کو حالات بتائیں ہم گلہ کس سے کریں

سب کے ہاتھوں میں ہی تلوار نظر آتی ہے

ابوالحسن عاقل.، تربت

راہِ فنا میں کس نے دیا ہے کسی کا ساتھ

تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

جہانگیر محمد عثمان بھٹی، جدہ

اف گلستان میں بہاروں کا قضا ہو جانا

ہائے رستے میں ہی یاروں کا جدا ہو جانا

تبسم، کراچی

ہزار شکر کہ مایوس کر دیا تو نے

یہ اور بات کے تجھ سے بہت امیدیں تھیں

جلال الدین مغل , وادی نیلم

بڑا کٹھن ہے راستہ جو ہو سکے تو ساتھ دو

خدا رحم بلوچ

وابستہ ہو گئی تھیں کچھ امیدیں آپ سے

امیدوں کا چراُغ بجھانے کا شکریہ

ڈاکٹر سدرہ، سرگودھا

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

حیدر اعجاز، راولپنڈی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

غضنفر عباسی، متحدہ عرب امارات

بہار رُت میں اجاڑ رستے تکا کرو گے تو رو پڑو گے

اقبال حسين دستی, ڈيرہ غا ذيخان

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

نصیر خان، کلیم اللہ ،کوئٹہ، فردوس احمد سہیل، جموں

ہے شوقِ سفر ایسا، اک عمر سے ہم نے تو

منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا

عبدالرحمان بلیدی، جیکب آباد

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہو گا

میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا

شیر باز بگٹی، ڈیرہ بگٹی

یہ منظر کون سا منظر ہے، پہچانا نہیں جاتا

سیہ خانوں سے کچھ پوچھو شبستانوں پہ کیا گزری

ذاکر بلوچ، کراچی

قبريں ہی جانتی ہيں کہ اس شہرِ جبر ميں

مر کر ہوے ہيں دفن کہ ذندہ گڑے ہيں لوگ

فہد مری، ہلسنکی، فن لينڈ

تو کہ نا واقف آداب غلامی ہے ابھی

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

منصور بگٹی, ڈیرہ بگٹی

مرے شہر میں مری نسل لوٹنے والو

پتہ ہے کس طرح بیٹا جوان ہوتا ہے ؟

عبدالمقسط خٹک، بیجنگ

نگاہیں راہ تکتی ہیں تمھاری

ملاقاتیں قیامت پر نہ ڈالو

شعیب، ملتان

آسائشِ بقاء کی ہوس جبر تھی سو تھی

ہر لمحہ خودکشی کی سہولت بھی جبر ہے

زامـــر بــلوچ، کراچی

کوئی کرے تو کہاں تک کرے مسیحائی

کہ ایک زخم بھرے دوسرا دہائی دے

خالد عمران لنگاہ، ویسباڈن، جرمنی

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

محمد سعید، راولپنڈی، الیاس انصاری، حیدرآباد

وہ نہیں بھولتا جدھر جاؤں

ہائے میں کیا کروں کدھر جاؤں

عثمان اسماعیل، لندن

میں یہ سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تُو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

طارق جون، دوحہ

یارب تو اگر مجھ کو، اک دن کی خدائی دے

بچھڑے ہوئے لوگوں کی قسمت میں لکھوں ملنا

احمد کلیم الندوی، راس الخیمہ

اے ہوا کچھ تو بتا جانے والوں کا پتہ

علی حسن چانڈیو، کراچی

جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے

سید محمود، بالٹیمور

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

سلیم راہی، بدین

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے

مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

محمد شاہد، اسلام آباد

کیا خبر تھی کہ خزاں ہوگی مقدر اپنا

ہم نے گھر اپنا بنایا تھا بہاروں کے لیے

حاجی مراد، دبئی

جان کے بہرے بن جائيں جب ديواروں کے کان

من کی بات بتانے والا مورکھ ہی کہلائے

ابنِ شفیق، لاہور

آزاد آسمان سے ہم دور ہوگئے

اپنے ہی دیس میں سبھی محصور ہوگئے

زریاب فیض، تونسہ شریف

آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی

عینی سیدہ، پاکستان

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

عینی سیدہ، پاکستان