ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کہا گیا کہ افغانستان نے اپنے علاقے میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو گرفت میں لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے

لگ بھگ چار دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ایک دن سیربین کی نشریات کے دوران جب کھیلوں کا احوال سنانے کی گھڑی آئی تو جن صاحب کو احوال پڑھنا تھا وہ اپنے چوبی کیبن میں تاش کھیلنے میں اتنے منہمک تھے کہ بر وقت سٹوڈیو جانا بھول گئے۔جب ان کے نام کی پکار پڑی تو لشتم پشتم پھولی سانس کے ساتھ دوڑتے سٹوڈیو میں پہنچے اور مائیکرو فون کے سامنے دھنس گئے۔

’اور اب سماعت فرمائیے کھیلوں کی خبریں۔ پورٹ آف سپین میں آج پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کا پہلا دن ہے۔ پاکستان ٹاس جیت کر بیٹنگ کر رہا ہے۔ آخری خبریں آنے تک پاکستان نے بہت سے رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے کئی کھلاڑی آؤٹ کیے۔ تفصیل جہاں نما میں سنیئے گا۔‘

یہ واقعہ ہرگز یاد نہ آتا اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب شروع نہ ہوتا۔جس میں ’اب تک بیسیوں دہشت گرد ہلاک اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوچکے ہیں‘۔۔۔۔۔اور آنے والے دنوں میں بھی درجنوں دہشت گرد ہلاک اور بیسیوں ٹھکانے تباہ ہونے کی قوی امید ہے۔

آپریشن شروع ہونے کے بعد بتایا گیا کہ عام شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے 15 دن کی اعلان کردہ مہلت ختم ہونے سے پہلے اس لیے آپریشن شروع کیاگیا تاکہ سرپرائز یعنی حیرت کا عنصر باقی رہے اور دہشت گردوں کو بھاگنے کا موقع نہ مل سکے۔

کہا گیا کہ آپریشن سے پہلے شمالی وزیرستان کو تین اطراف سے کاٹ دیا گیا ہے اور شمالی وزیرستان کی افغانستان سے ملنے والی سرحد پر بھی اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ دہشت گرد عام متاثرین کے بھیس میں سرحد پار نہ چلے جائیں۔

کہا گیا کہ افغانستان نے اپنے علاقے میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو گرفت میں لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور جنوبی افغانستان میں متعین امریکی دستے بھی چوکس ہیں۔ کہاگیا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی (نادرا ) کی مدد سے شمالی وزیرستان سے آنے والے ہر پناہ گزین کی سکیننگ کی جا رہی ہے تاکہ دہشت گرد ان میں گھل مل نہ جائیں۔

اس وقت شمالی وزیرستان کے لگ بھگ ایک لاکھ پناہ گزیں افغانستان میں ہیں اور تقریباً پونے چھ لاکھ پناہ گزیں بنوں اور خیبر پختون خواہ کے دیگر علاقوں تک پہنچے ہیں۔

چونکہ شمالی وزیرستان کی تمام اطلاعات فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کے توسط سے آ رہی ہیں اور آزاد ذرائع علاقے میں پر نہیں مار سکتے۔ لہٰذا یہ بات بھی آئی ایس پی آر ہی بتا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان کے سرکردہ طالبان رہنما حافظ گل بہادر اور ان کے ساتھی کہاں ہیں؟ حقانی نیٹ ورک بشمول سراج الدین حقانی کہاں ہے؟ چلیے تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر مولوی فضل اللہ اور تحریکِ طالبان مہمند کے سربراہ عمر خالد خراسانی تو مبینہ طور پر پہلے سے افغانستان میں ہیں لیکن طالبان کی مرکزی شوریٰ کے دیگر ارکان کہاں ہیں؟

اعظم طارق، حافظ سعید، خالد حقانی، شہر یار محسود جیسے کمانڈر، متوازی طالبان کمانڈر خان سید سجنا، ازبکستان اسلامک موومنٹ کے کمانڈر عثمان غازی اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کی قیادت کہاں ہے؟ یہ سب اسمائے گرامی اس وقت شمالی وزیرستان میں ہیں یا نہیں ہیں؟ یا کسی کو معلوم نہیں کہ کہاں ہیں؟ یا غیر سرکاری طور پر معلوم ہے مگر سرکاری طور نہیں معلوم ۔کچھ توکہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔

آپریشن کے شروع میں بتایا گیا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کا ازبک ماسٹر مائنڈ عبدالرحمان بمباری میں مارا گیا۔ پھر بتایا گیا کہ میران شاہ کا طالبان کمانڈر عمر ہلاک ہوگیا ہے اور القاعدہ کا ایک اہم رکن جو خانہ ساز (آئی ای ڈیز) بم بنانے کا ماہر ہے وہ بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ پھر بتایا گیا کہ 16 طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اب تک تین سو سے زائد ملکی و غیر ملکی دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہمیں یقین ہوا ہم کو اعتبار آیا۔اب تو تین ہفتے سے اوپر ہوچلے۔ذرا سی زحمت تو ہوگی مگر کسی زندہ یا مردہ کی تصویر ہی جاری کردیجیے، فوٹیج دکھا دیجیے، نام بتا دیجیے۔ فوجی نقل و حرکت اور سنسان بم فیکٹریوں کی چند منتخب تصاویر اور محتاط زبان میں لکھے مختصر سے پریس ریلیزوں پر گزارہ کب تک ؟

اسی بارے میں