’آزادی نہیں تباہی مارچ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھرنے کے شرکا سپریم کورٹ کے سامنے سبزہ زار پر موجود ہیں جس کی وجہ سے عدالت آنے جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے

آزادی اور انقلاب مارچ سے جہاں بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں خلل پڑا ہے، وہیں پاکستانی سوشل میڈیا کو مزید اہمیت حاصل ہوئی ہے اور اس کے خبر رسانی اور اظہارِ رائے کے ذریعے کے طور پر استعمال کا رجحان بڑھا ہے۔

اس دوران اختلافِ رائے اور عوام کی جانب سے اپنے مسائل کے اظہار کے لیے اس کا استعمال پہلے سے زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ میڈیا پر 24 گھنٹے کی کوریج اور تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کے بحث مباحثے اور ’توتکار‘ نے ذہنی کوفت اور پریشانی کو دوچند کر دیا ہے۔

ہم نے بی بی سی کے فیس بُک اور ٹوئٹر پر لوگوں سے ان کی روزمرہ کاروباری اور عام زندگی میں پیدا ہونے والے خلل کے بارے میں سوال کیا جس کے جواب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے مسائل کے بارے میں لکھا۔

امتیاز مغل نے فیس بک پر جواب دیا کہ ’12 اگست سے دفتر نہیں جا سکا کیونکہ دفتر ڈپلومیٹک انکلیو میں ہے۔‘

تنویر عالم نے لاہور سے لکھا کہ ’نیا کاروبار شروع کیا تھا، اب کنگال ہو گئے ہیں حصولِ اقتدار مارچز کی خاطر ہمارا کاروبار ڈوب گیا۔

سید جہانزیب ہاشمی نے لکھا کہ ’مسائل حکومت نے پیدا کیے ہوئے ہیں کیونکہ آزادی مارچ کے شرکا تو ایک کونے میں بیٹھے ہیں باقی ملک کو جام کرنے کا حکومت کا کیا مقصد ہے؟‘

خواجہ رضوان عثمان چک لکھتے ہیں کہ ’دکانوں کے سامنے رات گزارنے والے صبح ٹوائلٹ میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کے قریب گندگی پھیلا دیتے ہیں۔‘

راشد عباسی نے لکھا کہ ’سب سے زیادہ مری کے لوگوں کا نقصان ہوا ہے، وہاں پر کوئی صنعت نہیں اور سو فیصد دارومدار سیاحت پر ہے۔ ان دنوں میں لوگ بڑی تعداد میں وہاں جاتے ہیں جو نہیں جا پائے۔ پانچ فیصد بھی کاروبار نہیں ہوا۔‘

اس کے جواب میں جمیل خان نے مری سے لکھا کہ ’پانچ اگست سے ہمارا ہوٹل بند ہے۔‘

اسی پر منظور احمد نے پشاور سے لکھا کہ ’ہم آزادی مارچ سے بہت خوش ہیں کیونکہ پشاور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی خاص کر دیہات میں۔‘

محمد وصال نے لکھا کہ ’ہم لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو کاروباری نقصان سے زیادہ بڑی بات ہے۔‘

ہاشم قریشی نے اسلام آباد سے لکھا کہ ’ٹماٹر کی قیمت بڑھ گئی ہے، آنے جانے میں دیر لگتی ہے، پیٹرول اور سی این جی کی بندش بھی مسئلہ ہے۔‘

عمیر احمد: ’ان دو حضرات کی وجہ سے ہمارا جینا حرام ہو گیا ہے، میں اسلام آباد میں رہتا ہوں، پنڈی روزانہ جانا ہوتا ہے مگر ان کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے۔‘

خواجہ مبشر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’دفتر سے ایک بجے چھٹی ہوئی، شام کو پنڈی جانے کا سوچ رہا ہوں، مگر ایک ہفتے سے بلاک کی وجہ سے ناکام رہا ہوں۔‘

شبیر بٹ نے لکھا کہ ’ان مارچوں نے ہماری زندگی بری طرح متاثر کی ہے۔ کسی نیوز چینل پر مارچ کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ ہم لوگ نفسیاتی طور پر کمزور ہو گئے ہیں۔‘

یاسر چوہدری نے لکھا کہ ’میرا گارمنٹس کا بزنس ہے۔ جب سے قادری اور عمران کا ڈرامہ شروع ہوا ہے، ہماری سیل آدھی سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اور جس دوست سے بات کرو سب کا یہی حال ہے۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔ ان کو اپنی روزی روٹی کی تو فکر نہیں کیونکہ ان کے بینک اکاؤنٹ بھرے ہوئے ہیں کم از کم غریب کا سوچو جو روز کی روٹی روز کما کے لاتا ہے، ختم کرو یہ ڈراما۔‘

منظر وحید نے لکھا کہ ’بیرون ملک مقیم ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی، کاروبار میں خلل پیدا نہیں ہوا۔ البتہ پاکستانی میڈیا کی 24 گھنٹے مارچ کی لائیو کوریج نے بری طرح متاثر کیا ہے۔‘

علی شان نے ٹویٹ کی کہ ’دس دن سے کاروبار بند ہے، ہمارے ہمسائے ڈیوٹی پر نہیں جا سکے۔ یہ انقلاب مارچ نہیں تباہی مارچ ہے۔‘

صدیق قریشی نے لکھا کہ دو ہفتے سے مکھیاں مار رہا ہوں۔ نہ مال ہے نہ گاہک۔ اللہ پوچھے ان سے۔‘

سہیل شاہین نے ٹویٹ کی کہ ’ کچھ لوگوں کو ظلم و ستم کی حکومت کے سائے میں جینا تو اچھا لگتا ہے لیکن حکومت کے حامی لوگوں نے ظلم کے خلاف قربانی دینے والوں کے خلاف باتیں بنانا محبوب مشغلہ بنا رکھا ہے۔ اگر انصاف چاہیے تو پھر صبر کے ساتھ قربانی بھی دینے کا جذبہ رکھو۔‘

ہمارے سوال پر بہت سے لوگوں نے ردِ عمل دیا۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ ’کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے‘ یا ’چند دن کی تکلیف سے مستقبل کی بہتری زیادہ اہم ہے۔‘

اگر آپ مزید پڑھنا چاہتے ہیں تو ا س لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں