امریکی عوام کو تو ڈرنے کا بہانہ چاہیے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدراوباما اور اُن کی اہلیہ ہیلوین کی چھٹیوں سے قبل مقامی افراد اور فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیلووین پارٹی میں شریک ہیں

ان دنوں کیپٹل ہل اجڑا آسیب زدہ نظر آتا ہے۔ ایک تو چاروں طرف خشک پتوں کی بھر مار ہے، دوسری جانب عمارت کی گنبد میں آئی دراڑوں کی مرمت کے لیے جو اس کے ارد گرد سیاہ لوہے کی جالياں لپٹی ہوئی ہیں ان سے ایک الگ ہی قسم کا سپیشل افیكٹ پیدا ہو رہا ہے۔

مقننہ کے ارکان، سینیٹرز اور رہنما تو اپنے اپنے علاقوں میں عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے فرار ہیں۔ آپ سوچیں گے کہ ہیلووین کاتہوار ہے یا ڈرنے ڈرانے کا موسم ہے۔

اس میں بچے، بوڑھے اور جوان طرح طرح کے ماسک پہن کر ایک دوسرے کو ڈراتے ہیں تو سیاست دان کیوں پیچھے رہیں۔

لیکن ڈرانے سے میرا مطلب انتخابی مہم سے تھا، یہاں دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔

ڈیموکریٹس کو ووٹ دو گے تو بندوق رکھنے کا حق چھین لیا جائیگا، ریپبلکن کو جتواؤگے تو معیشت کا کچومر نکال دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی کانگریس کی عمارت میں دراڑوں کی مرمت کے لیے سکیفولڈنگ لگائی گئی ہے

اوباما کے ہاتھ مضبوط کرو گے تو مسلمانوں کا راج ہو جائےگا، مجھے ووٹ نہیں دو گے تو تمہارے گھر میں اسلامک سٹیٹ والےگھس آئیں گے، میرے دوست کا ساتھ نہیں دو گے تو تمہارے روزگار کے سارے مواقع ہندوستان اور چین چلے جائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔

سیاستدانوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لے ڈراؤنے ماسک کی ضرورت نہیں پڑتی یا پھر جو چہرہ ہمیں اور آپ کو نظر آتا ہے وہ نیچرل ماسک ہوتا ہے۔

بیچاری معصوم امریکی عوام کو تو ڈرنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ جو اچھی طرح سے ڈرا پاتا ہے وہ اسی کی ہوکر رہ جاتی ہے۔

ایپل کے سربراہ ٹِم کُک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایپل کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں

لیکن اب ایپل کمپنی کے سربراہ ٹِم کُک کی وجہ سے ان کے لیے ان سب سے بڑا ڈر پیدا ہو گیا ہے۔

کُک نے سرِعام اعلان کر دیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے لیے یہ خدا کی جانب سے ملنے والا سب سے بڑا تحفہ ہے۔

اتنے بڑے مقام پر پہنچ کر، 53 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور خیالات دنیا کے سامنے کیوں کھول کر رکھے؟ بس اسی موضوع پر ان دنوں اخباروں کے صفحات رنگے جا رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں رنگے جائیں گے۔

لیکن میں تو سوچ رہا ہوں کہ ان لاکھوں، کروڑوں امریکیوں کا کیا ہوگا جن کی جان آئی فون، آئی يپڈ، میک بک اور آئی پوڈ میں بستی ہے۔

خوف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب یہ پتہ چلا ہے کہ ٹِم کُک ہم جنس پرست ہیں توان کے بنائے آئی فون، آئی پیڈ کو قدامت پسند امریکہ ہاتھ کیسےلگائے گا

ہر نیا ماڈل لانچ ہوتے ہی دکانوں کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں، ڈیٹنگ، چیٹگ، نوکری، بینک، گاڑی، گھر یہاں سب کی چابی توآئی فون میں ہوتی ہے۔

آئی فون کے بغیر کام کیسے چلے گا؟ آئی فون میں ہی رہتی ہےان کی ذاتی خدمتگار سری۔ سري راستہ بتاؤ، سري گانا لگاؤ، سري مجھ سے باتیں کرو، سري مجھے ہنساؤ۔ اب کیا ہوگا؟

امریکہ کی 29 ریاستوں میں اگر یہ پتہ چل جائے کہ وہ ہم جنس پرست ہے تو کسی بھی خاتون یا مرد کو فوراً ملازمت سے نکالاجا سکتا ہے، چند برس پہلے تک فوج میں بھی یہی حالت تھی۔

بیشتر گرجا گھروں میں پادری ان کی شادی کروانے سے انکار کردیتے ہیں، بزنس ملاقاتوں میں کئی بار انہیں سامنے نہیں بھیجا جاتا کہ کہیں دوسری پارٹی ان سے ہاتھ ملانا پسند نہ کرے۔

ایسے میں جب یہ پتہ چلا ہے کہ ٹِم کُک ہم جنس پرست ہیں توان کے بنائے آئی فون، آئی پیڈ کو قدامت پسند امریکہ ہاتھ کیسےلگائے گا؟ مذہب پر داغ لگنے کا ڈر، اگلی نسل کے گمراہ ہونے کاڈر، چرچ کا خوف، سماج کا خوف، آخر امریکہ اس سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔

امریکہ کے علاوہ مجھے بابا رام دیو کی بھی فکر ستا رہی ہے۔ ان کی یوگا کی کلاسز اور ان کی تقاریر آئی ٹيونز پر بھی تو ہیں۔

باباجي تو ہم جنس پرستی کو مرض مانتے ہیں۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ وہ آئی ٹيونز سے رشتہ توڑ لیں گے۔ آخر پوری دنیا کی صحت ٹھیک کرنے کا انہوں نے بیڑا جو اٹھا رکھا ہے۔

ہیلووین کا ڈر تو ایک دو دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ لیکن دیکھیےآئی فون کے ڈر سے امریکہ کس طرح نبرد آزما ہوتا ہے۔

ہیپی ہیلووین!

اسی بارے میں