کراچی میں جرائم کا کلک ایبل نقشہ

کلک ایبل
  • ×
  • اورنگی ٹاؤن

    ×

    اورنگی ٹاؤن کی آبادی گیارہ لاکھ سے کچھ کم ہے۔ کراچی کے مضافات کی بہت سی آبادیاں اس ٹاؤن میں شامل ہیں جن میں بلال کالونی اور غازی آْباد جیسے پشتون اکثریتی آبادیاں بھی موجود ہیں۔ بی بی سی اور گیلپ پاکستان سروے میں شامل پینسٹھ فیصد گھرانوں نے کہا کہ وہ یا ان کے گھر کا کوئی فرد کبھی نہ کبھی کسی نے کسی سٹریٹ کرائم یا ڈاکہ زنی کا شکار ہو چکے ہیں۔ کراچی کے کسی بھی ٹاؤن میں جرائم کی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔

  • بلدیہ ٹاؤن

    ×

    بلدیہ ٹاؤن کراچی میں موبائیل فون چھینے جانے سے متعلق جرائم کے گڑھ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہاں رہائش پذیر گھرانوں میں سے نصف کے ساتھ موبائیل فون چھینے جانے کی واردات ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مردوں کے بٹوے یا پرس اور گھڑیاں چھینے جانے کی وارداتیں بھی سب سے زیادہ بھی بلدیہ ٹاؤن ہی میں ہوتی جہاں ہر چار میں سے ایک گھرانہ اس واردات کا شکار ہو چکا ہے۔

  • نیو کراچی

    ×

    اس سروے میں نیو کراچی جرائم کی شرح کے لحاظ سے شہر کے سب سے 'پر امن' علاقے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں نے جو بیان کیا ہے اس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ نیو کراچی میں سٹریٹ کرائمز کی شرح باقی شہر کی نسبت سب سے کم ہے۔ اورنگی کے پینسٹھ فیصد کے مقابلے میں یہاں جرائم کی شرح اٹھائیس فیصد ہے۔ مثال کے طور پر یہاں موبائیل فون چھینے جانے کی وارداتیں بھی شہر بھر میں سب سے کم پیش آتی ہیں۔ نیو کراچی ٹاؤن کی کل آباد دس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور یہ ٹاؤن اکیس کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔

  • کیماڑی

    ×

    کیماڑی میں خواتین کو راہ چلتے لوٹنے کی وارداتیں باقی شہر کی نسبت سب سے زیادہ پیش آتی ہیں۔ یہاں رہنے والوں نے بتایا کہ خواتین سے پرس اور زیورات چھیننے کے واقعات کی اوسط شہر میں سب سے زیادہ ہے۔

  • لیاری

    ×

    آبادی بہت زیادہ یعنی ساڑھے نو لاکھ کے قریب اور رقبہ بہت کم یعنی آٹھ کلومیٹر بھی نہیں۔ لیاری کا نام گینگ وار سے جڑا ہے لیکن اس کے علاوہ یہاں سٹریٹ کرائمز بھی بے پناہ ہیں۔ شہر کی آدھی آبادی کسی نہ کسی وقت راہ چلتے یا گھر بیٹھے لٹ چکے ہیں۔ اس لحاظ سے اسے شہر کا سب سے خطرناک علاقہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • سائیٹ

    ×

    اس صنعتی علاقے میں کام کرنے اور رہنے والوں نے بھتہ خوری اور ڈاکہ زنی کی شکایت رہزنی یا دیگر جرائم کی نسبت زیادہ کی ہے۔ سات لاکھ سے زیادہ آبادی کے اس ٹاؤن میں زیادہ تعداد فیکٹری میں کام کرنے والوں کی ہے۔

  • صدر

    ×

    اس علاقے سے بھتہ خوری کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس جرم میں اس ٹاؤن کا مقابلہ جمشید ٹاؤن کرتا ہے جہاں پر اتنی ہی تعداد میں بھتہ خوری کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ساڑھے نو لاکھ آبادی کے اس ٹاؤن میں خواتین کے پرس چھیننے کی وارداتیں عام ہیں جن کا نشانہ بیشتر واقعات میں گجراتی بولنے والی خواتین ہوتی ہیں۔

  • جمشید ٹاؤن

    ×

    آبادی کے لحاظ سے کراچی کے اس سب سے بڑے ٹاؤن میں جٹ لائنز، جیکب لائنز اور پی ای سی ایچ ایس جیسے گنجان آبادی والے علاقے شامل ہیں۔ اس ٹاؤن کی کل آبادی تقریباً گیارہ لاکھ ہے۔ اس ٹاؤن سے بھتہ خوری کے واقعات سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس جرم میں اس ٹاؤن کا مقابلہ صدر کرتا ہے جہاں پر اتنی ہی تعداد میں بھتہ خوری کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں بھی یہ ٹاؤن سر فہرست ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی گیارہ فیصد گھروں میں مجرموں کے گھسنے کی وارداتیں ہو چکی ہیں۔

  • لیاقت آباد

    ×

    دس لاکھ سے ذرا کم آبادی والے اس علاقے میں موٹر سائیکل اور خواتین کے پرس چھیننے کی وارداتیں خاصے تسلسل سے ہوتی ہیں لیکن ان دونوں جرائم میں بھی ٹاؤن پہلے نمبر پر نہیں آتا۔ رقبے کے لحاظ سے لیاقت آباد کراچی کے چھوٹے ٹاؤنز میں شمار کیا جا سکتا ہے کو قریباً گیارہ کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ قاسم آباد اور مجاہد کالونی اس علاقے کی دو ایسی یونین کونسلز ہیں جن کی آبادی ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

  • نارتھ ناظم آباد

    ×

    اس ٹاؤن میں خواتین سے راہ چلتے لوٹ مار کے واقعات باقی شہر کی نسبت زیادہ تعداد میں پیش آتے ہیں۔ خاص طور پر اس علاقے کے رہنے والوں نےباقی شہر کی نسبت خواتین کے زیورات چھینے جانے کی زیادہ شکایات درج کروائیں۔

  • گلبرگ

    ×

    گلبرگ ٹاؤن میں مردوں کے بٹوے یا پرس چھینے جانے کی شرح باقی ٹاؤنز کی نسبت سب سے زیادہ یعنی پچیس فیصد ہے۔ صرف بلدیہ ٹاؤن ہی اس جرم کی شرح کے لحاظ سے گلبرگ ٹاؤن کا مقابلہ کرتا ہے۔

  • گڈاپ

    ×

    رقبے کے لحاظ سے کراچی کے سب سے بڑے ٹاؤن کو کار چھیننے کی وارداتوں کا گڑھ کہنا غلط نا ہو گا کیونکہ یہاں پر اس واقعے کی سب سے زیادہ اطلاعات ملی ہیں۔

  • گلشن اقبال

    ×

    آبادی کے لحاظ سے کراچی کے چند بڑے ٹاؤنز میں شامل ہوتا ہے لیکن جرائم کی شرح کے لحاظ سے گلشن اقبال کچھ درمیانی سی پوزیشن پر ہے۔ یہاں جرائم تو ہوتے ہیں لیکن اتنے زیادہ بھی نہیں کہ اس علاقے کو خطرناک قرار دلوا دیں اور نہ اتنے کم کہ بے خوف و خطر رہا جا سکے۔ البتہ اغوا اور بھتے جیسے گھناؤنے جرائم کی شرح خاصی کم ہے۔

  • شاہ فیصل ٹاؤن

    ×

    یہاں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں باقی شہر کی نسبت سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں رہنے والے اٹھارہ فیصد گھرانوں کے افراد نے بتایا کہ ان کے موٹر سائیکل چھینے جا چکے ہیں۔ یہ شرح باقی شہر کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ شاہ فیصل ٹاؤن میں رہنے والوں کو اغوا کے واقعات کا بھی سب سے زیادہ سامنا رہا ہے۔

  • کورنگی

    ×

    شہر کا صنعتی مرکز ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں جرائم کی شرح باقی شہر کی نسبت کچھ کم ہے۔ مثال کے طور پر باقی شہر کے مقابلے میں یہاں مردوں سے راہ چلتے بٹوے چھیننے کی وارداتیں سب سے کم رپورٹ ہوئیں۔ باقی اسٹریٹ کرائمز بھی اس علاقے میں باقی شہر کی نسبت کم ہی ہوتے ہیں۔

  • لانڈھی

    ×

    کراچی کے کرائم کے نقشے پر لانڈھی بہت زیادہ نمایاں ہے۔ یہاں شہر کی اوسط کے حساب سے ہی جرائم ہوتے ہیں، نہ زیادہ نہ کم۔ آبادی کے لحاظ سے یہ علاقہ ان بڑے ٹاؤنز میں شامل ہے جن کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس ٹاؤن میں بڑی تعداد میں چھوٹی بڑی صنعتیں کام کر رہی ہیں جن کی اپنی رہائشی کالونیاں بھی ہیں اور ان میں کام کرنے والے ٹاؤن کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ لانڈھی ٹاؤن میں داؤد چورنگی جیسے گنجان آبادی والے علاقے شامل ہیں۔

  • ملیر

    ×

    چھ لاکھ آبادی کے اس ٹاؤن میں اسٹریٹ کرائمز کی اوسط اتنی ہی ہے جتنی کہ باقی شہر میں۔ یہاں گاڑیاں چھیننے اور راہزنی کی وارداتیں تسلسل کے ساتھ شہر کی اوسط کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔

  • بن قاسم

    ×

    پانچ لاکھ کے قریب آبادی والا یہ ٹاؤن پانچ سو مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جس میں سمندر کنارے بسنے والے مچھیروں کی بستیاں بھی ہیں۔ یہاں سٹریٹ کرائم کی چھوٹی موٹی وارداتیں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن اغوا، کار چھیننا اور بھتہ خوری جیسے گھناؤنے جرائم کی اوسط بہت کم ہے۔