BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 May, 2005, 20:07 GMT 01:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کیا فورسڈ لیبر یا بیگار کو ختم کیا جا سکتا ہے؟
 
کہا جاتا ہے کہ انسانی غلامی کا دور ختم ہو چکا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگوں سےان کی مرضی کے خلاف کام لیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ’فورسڈ لیبر‘ یا بیگار کسی ایک ملک یا خطہ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً دنیا کے تمام ممالک اور ہر قسم کی معیشت میں موجود ہے۔ ہر وہ کام جو سزا کی دھمکی کے تحت اور مزدور کی رضا کے بغیر لیا جائے، فورسڈ لیبریعنی بیگار کے زمرے میں آتا ہے۔

کہیں حکومت فورسڈ لیبر لے رہی تو کہیں پرائیویٹ کپمنیاں اور کہیں یہ کام انفرادی سطح پر ہو رہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں لاکھوں مرد، عورتیں اور بچے فورسڈ لیبر کا شکار ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کھیتوں میں، اینٹیں بنانے کی بھٹیوں پر، چمڑے کے کارخانوں میں یا گھروں میں کام کاج کرتے نظر آتے ہیں۔

جنسی مقاصد کے لیے عورتوں اور بچوں کی خرید وفروخت بھی بیگار کے زمرے میں آتی ہے۔ یونیسیف کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں پانچ سے چودہ سال کی عمر کے دوسوگیارہ ملین بچے مزدوری کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اپنی پیدائش سے ہی ’بونِڈڈ‘ یا بندھے ہوتے ہیں جبکہ باقی زراعت، صنعت، گھریلو کام کاج اور جنسی مقاصد کے لیے خود کو بیچنے کے لیے مجبور ہیں۔

ان معاملات پر آپ کی کیا رائے ہے؟ ابھی تک فورسڈ لیبر کو کیوں نہیں ختم کیا جا سکا؟ کیا آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا فورسڈ لیبر کا شکار ہوا ہے؟ اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ انفرادی سطح پر اس معاملہ میں کیا کِیا جا سکتا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء حسب ذیل ہیں۔


عمران بھٹ، لندن:
اس بات پر بحث کرنا کہ فورسڈ لیبر یا بچوں سے کام کرانے کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے اس وقت تک بے سود ہے جب تک ہم دنیا میں دولت اور وسائل کی تقسیم کے عمل کونہ سمجھیں۔ اس دن جب ہم ملکی اور عالمی سطح پر دولت کی منصفانہ تقسیم کے قائل ہو گئے یہ مسائل خود ہی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ اس سے پہلے نہیں۔

رئیس الزمان مفلس، غریب آباد، پاکستان:
بھوک انسان سے کیا کیا نہیں کراتی۔ جب حکومت وقت انسان کو دو وقت کی روٹی نہ مہیا کر سکے گی تو غریب جبری مشقت کر کے ہی اپنا پیٹ بھرے گا ناں۔

یار بہادر:
بھائی یہاں پر ہر غریب آدمی جبری مشقت کا شکار ہےآ ہم غریب لوگ اپنے مالکوں کا ہر قسم کا جبر برداشت کرتے ہیں کیونکہ روزگار ہماری مجبوری ہے۔

فرحان ملک، کراچی:
اسلام نے تو غلامی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر گناہوں کا کفارہ غلاموں کو آزاد کرنے میں ہے۔اس سنہری اصول پر عمل کر کے ہم بیگار کو ختم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل سیکیورٹی کا نظام قائم کر کے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عطاءالرحمٰن قریشی،راولپنڈی:
سب سے پہلے جہالت کا خاتمہ کیا جائے، اپنی جگہ ہر آدمی کو کوشش کرنی چاہیے۔ اپنے لیے تو ہر کوئی جیتا ہے مزا تو جب ہے ہم دوسروں کے لیے جئیں۔

عمران، امریکہ:
فورسڈ لیبر ختم نہ ہونے کی وجہ یہ کہ غربت میں کمی اور لوگوں کی فلاح وبہبود عالمی رہنماؤوں اور اداروں کی ترجیح کبھی نہیں رہے۔ سب کو اپنی کرسی کی فکر ہے اور غریب کی قسمت میں استحصال لکھ دیا گیا ہے چاہے انفرادی سطح پر ہو یا قومی سطح پر۔

اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ حکومت فورسڈ لیبر لینے پر پابندی لگائے اور بیگار کے شکار لوگوں کے لیے فنڈ مختص کرے اور کم از کم تنخواہ کا ایک معیار مقرر کرے۔ پر اتنا وقت کس کے پاس ہے؟

خالدہ عباسی، کراچی:
فورسڈ لیبر کو ختم کرنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے قیامت۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
سعودی عرب میں آج بھی غیر ملکیوں سے غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی سعودی سے غلطی ہو جائے تو قانون اسے معاف کر دیتا ہے لیکب اگر غیر ملکی کرے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔دوسری طرف امریکہ نے آج ساری دنیا کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔چھوٹے بچوں سے کام کرانا تو انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔

فراز قریشی، کراچی:
فورسڈ لیبر کا نظریہ تو پانچ ہزار سال پرانا ہے اور یہ مزید پانچ ہزار سال کامیابی سے چلتا رہے گا، جب تک ہم کمیونزم (اشتراکیت) کو اس کی اصل شکل میں نافذ نہیں کرتے۔آج ہم کو مان لینا چاہیے کہ کمیونزم ہی وہ واحد نظام ہے جو فورسڈ لیبر کے خلاف مزاحمت کر سکتا ہے۔

شعیب، کوٹ عادل،پاکستان:
فورسڈ لیبر کی وجہ غربت ہے۔ کوئی امیر بھی لیبر فورس میں نہیں ہے اس لیے لیبر فورس نہیں بلکہ غربت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

نائلہ خان، لاہور:
اگر فورسڈ لیبر ختم ہو گئی تو جاگیر داروں کی ٹانگیں کون دبائے گا؟ اپنا خون پسینہ ایک کر کے ان کی تجوریاں کون بھرے گا؟ جاگیردار بیچارے لاکھوں روپے کی گاڑیاں کیسے خریدیں گے؟

ظفرخان، برطانیہ:
پاکستان جیسے ملک میں اس قسم کی بات کرنا بھی ایک مذاق ہے۔

عبدالوحید، میری لینڈ، امریکہ:
فورسڈ لیبر انسانیت کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ میرا خیال نہیں کہ کوئی بھی شخص جو کسی ترقی پزیر یا غریب ملک میں رہتا ہو ، اس نے کسی کو فورسڈ لیبر کرتے نہ دیکھا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم میں سے اکثر نے اس کو قبول کر لیا ہے۔

جب تک افراد، حکومتیں اور دنیا بھر کے لوگ اس بات کو یقینی نہیں بناتے کہ دولت کی تقسیم کسی حد تک منصفانہ اور متوازن ہو (حتمی طور اسیا نہیں کیا سکتا) فورسڈ لیبر بڑھتی رہے گی۔

ایم اطہرصدیقی، کینیڈا:
جی ہاں سب کچھ ہو سکتا ہے ، شرط یہ ہے کہ ہم مان لیں کہ تمام انسان برابر ہیں۔

غلام فرید شیح، گمبت، پاکستان:
یہ کام حکومت ہی روک سکتی ہے لیکن یہ فورسڈ لیبر یا بیگار والا کاام اس سے بھی نہیں رکے گا کیونکہ حکومت کے پاس لوگوں کو فورسڈ لیبر سے نکالنے کے لیے کوئی متبادل نہیں ہے۔

سمین زیدی، اونٹاریو، کینیڈا:
بیگار کے پیچھے جو مگر مچھ بیٹھے ہیں وہ اس قدر طاقتور ہیں کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں غربت ختم کریں تو اس قسم کے مسائل خود ہی حل ہو جائیں گے۔

شہریارخان، سنگاپور:
فورسڈ لیبر ہر نظام میں ہے، چاہے وہ سرمایہ دارنہ نظام ہو، اشتراکی ہو یا جمہوری۔ جب تک اس دنیا میں مساوات، رواداری اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا، ہر قسم کے ظلم اور زیادتی کا دور دورہ رہے گا۔

انسان کی مجبوری کا دوسرا نام اس کا استحصال اور بیگار ہے۔ دفتروں میں باس، فیکٹری میں مالکان، کھیتوں میں زمیندار، سیاست میں لیڈر، گھروں میں بڑے بوڑھے، ساس اپنی بہو پر اور مولوی اپنے پیروکاروں پر۔۔سب ہی فورسڈ لیبر کا بے دھڑک استعمال کرتے ہیں۔جب تک لوگ بےکس اور مجبور رہیں گے کوئی بھی فورسڈ لیبر کو ختم نہیں کر سکتا، چاہے کتنی ہی ترقی ہو جائے۔اس مسئلہ کا صرف اور صرف ایک حل ہے اور وہ ہے خوفِ خدا۔ یہ معاشی ترقی، سائنسی ایجادات، اور تعلیم معاشرے کواس برائی سے نجات نہیں دلا سکتے۔

رحیم صدیقی، برطانیہ:
پاکستان کی حکومت اس سلسلہ میں کیا کر سکتی ہے، وہ تو خود امریکہ کی بونڈڈ لیبرمیں ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
آج سے نہیں یہ بیگار تو اس وقت سے لیا جا رہا ہے جب انسان کو یہ پتا بھی نہیں تھا کہ جبری بیگار کیا ہوتا ہے۔ غلامی کے اس سلسلہ کی تاریخ بہت پرانی ہے جس میں جسمانی غلامی سے لے کر جنسی مقاصد کے لیے غلامی سب کچھ سامل ہے۔

یہ سب کچھ ختم کرنے کے لیے ہی ہمارا مذہب وجود میں آیا تھا۔ غلامی کی ہمارہ مذھب میں کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ برائی ہمارے معاشروں میں پھر سے عام ہو گئی ہیں۔ اس کو ختم کرنا کوئی آسان بات نہیں کیونکہ اس قسم کے بیگار کے پیچھے بہت بڑے لوگوں کے ہاتھ ہیں۔ زبانی جمع خرچ کا کوئی فائدہ نہیں، ہم سب کو ہر سطح پر جو ممکن ہو اس کے لیے کرنا چاہیے۔اس سلسلہ میں کیا کِیا جا سکتا ہے؟

منظور بانیان، اسلام آباد، پاکستان:
اگر انسان دوسرے انسان کو اپنے جیسا سمجھے تو اس قسم کی برائیاں ختم کی جا سکتی ہیں، لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ دنیا میں ہر جگہ غریب آدمی پر ہی ظلم کیا جاتا ہے۔ دفتر کے چھوٹے ملازموں سے گھروں کے کام کرائے جاتے ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے۔

رضوان خان، کراچی، پاکستان:
یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا مسئلہ ہے جس کے بارے میں بحث کرنا ہی فضول ہے۔

علیم اختر، گجرات، پاکستان:
فورسڈ لیبر تو میں نے نہیں دیکھی لیکن جو سپر پاورز غریب ملکوں کو طاقت کے زور پر ہائی جیک کر لیتی ہیں اور ان کے وسائل پر قبضہ کر لیتی ہیں، ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے پتا ہے یہ رائے نہیں چھاپی جائے گی۔

عمر حفیظ، فرانس:
اگر ترقی پزیر ملکوں کی بات کریں تو وہاں فورسڈ لیبر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کو ختم کرنا کوئی ایک دو دن کا کام نہیں، بلکہ پوری منصوبہ بندی چاہیے۔ تمام شعبوں میں، چاہے وہ زراعت ہو یا صنعت۔ بڑے مگرمچھ آج بڑے مگرمچھ کیوں ہیں؟ اس کی وجہ فورسڈ لیبر ہی ہے۔

لبنٰی حفیظ، راولپنڈی، پاکستان:
ہم ہر کام حکومت پہ ڈالنے کے عادی ہیں۔ کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں نوکروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ سندھ میں بونڈڈ لیبر کے بارے میں ہر کوئی تقریر کر سکتا ہے، لیکن اپنے گریبان میں جھانکنا واقعی بہت مشکل ہے۔ ہماری گردنیں جواتنی اکڑی ہوئی ہیں!

جہانگیر حسن بنگش، ہنگو، پاکستان:
بیگار صرف ان ملکوں میں ختم ہو سکتا ہے جہاں پر کسی قسم کی حکومت ہو کیونکہ ایسی غلامی کرانے والے’آقا‘ بہرحال حکومت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ صحیح معاوضہ کے بغیر کام لیتے ہیں وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

شاہزیب خان، ایتھنز، یونان:
جناب آج کے دور میں یہ وہ پھانسی کا پھندہ ہے جو ہر مزدور کے گلے میں ہے اور اسے بیچارے کو پتا ہی نہیں کہ اس کاجرم کیا ہے۔آپ نے پوچھا ہے کہ ہم انفرادی طور پر کیاکر سکتے ہیں تو جواب یہ ہے کہ پہلے دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین کو تو صحیح معاوضہ ملے۔ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ دفتروں میں کام کرنے والے اکثرلوگ دفتر کے بعد پارٹ ٹائم مزدوری کرنے کو تیار ہیں۔

شعیب طارق، واہ کینٹ، پاکستان:
دوسرے ملکوں کا تو معلوم نہیں لیکن اپنے ملک کا کہہ سکتے ہیں کہ زیادہ تر فورسڈ لیبر دیہاتوں میں ہوتی ہے، وڈیروں کی ’مہربانی‘ سے۔اگر جاگیرداری نظام ختم کر دیا جائےتو فورسڈ لیبر پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تنویر رزاق، پاکستان:
ایک تو لوگوں کو شعور ہی نہیں اور دوسرا تعلیم کی کمی ہے۔لوگ نسل در نسل غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں۔ انہیں جو کام ملے کرنے کو تیار ہیں۔ جو بھی کسی کام پر لگ جاتا ہے اسے چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لیتا کہ کہیں اس سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ حکومت کو چاہیے کہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرے۔

عبدا لقدیر، صادق آباد، پاکستان:
اگر تعلیم عام ہواور حکومت ملازمت فراہم کرے تومسائل حل ہو سکتے ہیں۔

مظفر نواز چیمہ، فیصل آباد، پاکستان:
یہ جنوبی ایشیا کا بہت بڑا المیہ ہے، مگر افریقہ کے حالات ہم سے بھی بدتر ہیں۔ جنوبی ایشیا میں تو فورسڈ لیبر کو کم کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جسکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس تو وسائل موجود ہیں مگر اُن کو صرف ذاتی غرض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر صرف سوچ میں تبدیلی آجائے اور جنوبی ایشیا کی حکومتیں عوام کے لیے کوئی مخلصانہ کام کرنا چاہیں تو یہ کم ہو سکتی ہے۔لیکن جب حکومتیں صرف اپنی جیبوں کا سوچیں گے تو پھر یہ مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟

 
 
66آپ کی رائے
کیا اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے؟
 
 
66آپ کی رائے
مشرق وسطیٰ: غیرملکی ملازمین کی حالت
 
 
66آپ کی رائے
آپ کی رائے میں کیا موت کی سزا صحیح ہے؟
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد