http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 16 May, 2006, 15:23 GMT 20:23 PST

ضیا احمد
جنیوا

ضیا بلاگ: ’وہسکی اور ویزا‘


اکتیس مئی: ’وہسکی اور ویزا‘

پچھلے مہینے بوس صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے حیدرآباد میں کچھ کام ہے۔ آپ وہاں ہو آئیے۔ میں نے بےاختیار قہقہہ لگایا۔ پھر ان سے کہا: ‌بڑے بھائی، آپ کو معلوم تو ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ بھلا ہندوستان کیسے جاسکتا ہوں؟ مگر ان کے کان پر جوں نہ رینگی۔ غرّا کر بولے:‌ یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ کچھ بندوبست کیجیے۔

تو جناب میں بندوبست کرنے کے لیے گھر سے نکلا۔ جنیوا میں ہندوستانی قونصلیٹ میرے گھر سے نزدیک ہی ہے۔ وہاں سے ویزا فارم اور ہدایات لے کر آیا۔ دھیان سے فارم بھرا اور اگلے دن ہی لوٹا دیا۔ فارم لینے والے صاحب نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور ایک خفیف سی مسکراہٹ اپنے لبوں پر لائے۔ پھر فرمایا: بھائی، آپ پاکستانی ہیں۔ آپ کے لیے تو علیحدہ فارم ہے۔ تین صفحوں کا۔ اس کی چار کاپیاں چار تصویروں اور دستاویزات کے ساتھ لے کر آئیے۔

چار صفحوں کے فارم کو دیکھ کر میں نے اپنے بوس کو خوب کوسا۔ کمبخت نے نہ جانے کس مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ بہرہال، چار فارم بھرے۔ دستاویزات کا بندوبست کیا۔ اپنی بھونڈی شکل کی چار نقلیں کروائیں۔ اور پھر ویزا افسر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ویزا افسر نے چاروں کاپیوں کا بغور معائنع کیا۔ اور پھر کہنے لگے: کچھ وقت لگے گا۔ آپ چند ہفتوں بعد فون کرلیں۔

میں بلا ناغہ ہر ہفتے ویزا افسر کو فون کرتا رہا۔ تیسرے ہفتے میں ان کا دل پگھلا۔ کہنے لگے ذرا ایک مرتبہ قونصلیٹ‌ پھر تشریف لے آئیے۔ وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ قونصل جنرل صاحب مجھ سے ملنے کے خواہش مند ہیں۔ ڈرتے ڈرتے ان کے دفتر میں‌ داخل ہوا۔ سوچنے لگا: یہ اتنے معتبر شخص ہیں، نجانے مجھ سے کیا سوال جواب کریں گے؟

قونصل جنرل صاحب نہایت تپاک سے ملے۔ ادھر ادھر کی باتیں‌ کرنے لگے۔ جنیوا کا موسم، آم کے بھاؤ، حیدرآباد میں چار مینار۔ میں سہما ہوا بیٹھا رہا کہ نجانے کب انٹرویو شروع ہو گا؟ پھر موصوف بولے: حیدرآباد میں میرے کئی رشتہ دار ہیں۔ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو اپنے ساتھ ایک چھوٹا سا پیکج لے جائیں گے؟ ظاہر ہے میں نے حامی بھر لی۔ کسی سیانے نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ ویزا کے طالب کو ایک قونصل جنرل کو نا کہنا عقلمندی نہیں۔

تو اب میں قونصل جنرل صاحب کے سسر ابّا کے لیے ایک وہسکی کی بوتل حیدرآباد لے جا رہا ہوں۔ وہسکی اور پاکستانی مرد: ‌نجانے اس ملاپ پر ہندوستانی کسٹم والے کیسا استقبال کریں گے؟

’اگلا سال یروشلم میں‘۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے یہودیوں کا یہ من پسند فقرہ تھا۔ جتنا حق کسی غیر اسرئیلی یہودی کا اسرئیل پر ہے، اتنا ہی میرا حق ہندوستان پر ہے۔ تو اب میں‌ بھی کہتا ہوں: ’اگلا ہفتہ ہندوستان میں‘۔


آپ کے تبصرے:

احمد دین، قطر
تحریر لکھنے سے پہلے آپ نے سوچا نہیں، کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔۔۔؟

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
آپ کا یہ بلاگ پڑھ کر ایک پرانا فقرہ یاد آ گیا ’مولانا وہسکی‘۔ پتہ نہیں کون تھے اور کیا بات تھی لیکن آپ کے ساتھ جو ہونے والا ہےاس وہسکی کے ساتھ وہ پڑھنے کے منتظر رہیں گے۔یعنی ’اگلا ہفتہ ہندوستان میں‘ دیکھیے کیا رنگ لاتا ہے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال
ضیا صاحب مجھے آپ کے سفر انڈیا سے تو کوئی مشکل نہیں ہے البتہ آپ جو ’حرام‘ چیز ساتھ لے کر جا رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں۔ آپ کو تھوڑا سا تو اپنے دین اور تہذیب و ثقافت کا خیال کرنا تھا۔ آپ جنیوا میں رہ رہ کر سب بھول گئے ہیں۔ ویسے مجھے آپ کی سچ گوئی اچھی لگی۔ انڈیا میں اپنا اور اپنی جیب کا دھیان رکھنا۔

مظہر، چین
یار ضیا، شکل سے تو میرے جیسے ہی ہو لیکن باتیں پڑھے لکھوں کی طرح کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ لیکن اتنی سی بات کے لیے بلاگ لکھ ڈالا اور اس کو قابل بحث موضوع بھی سمجھا۔۔۔

عبدالوحید خان، برطانیہ
خیال کرنا کہ وہسکی کو کوئی اور چیز دھماکہ خیز بنا کر کوئی مقدمہ ہی نہ بنوا لیجیے گا۔۔۔

سجاد احمد، لاہور
میرے باس نے بھی مجھے انڈیا جانے کا حکم دیا ہے۔ خود انہیں ویزہ نہیں ملا۔ لیکن انڈیا جانے کے خیال سے میں کافی پریشان ہوں۔ خود کو جیل میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ پلیز اپنے انڈیا دورے کے بارے میں ہمیں بتائیے گا۔ اور ہاں ’گُڈ لک‘


چوبیس مئی: ’احترام کے قابل‘



اردو زبان کا ایک پہلو ایسا ہے جو لکھنے والوں کے لیے اکثر باعثِ تشویش بنتا ہے۔ ہر ضمیر کی رسمی اور غیر رسمی شکلیں ہیں جیسے ’آپ‘ یا ’تم‘۔ لکھنے والا کسی ایک شکل کا انتخاب کرکے اپنے تعصّب کا اظہار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے صدر کی پیدائش کا ذکر کرنے کے دو طریقے ہیں۔ (1) ’جارج بش نیو ہیون میں پیدا ہوئے‘، یا (2) ’جارج بش نیو ہیون میں پیدا ہوا۔‘ میرے جملے کے انتخاب سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ میں صدر بش کا کتنا احترام کرتا ہوں۔

بی بی سی جیسے معتبر ادارے سے غیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے۔ تو جناب سوال یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی نامور کردار ’ہے‘ یا ’ہیں‘؟ صدر بش؟ اسامہ بن لادن؟ جناح؟ چنگیز خان؟ ابلیس؟ ایک انسان جسے محترم مانے، دوسرا اسی کو نیچ سمجھ سکتا ہے۔ ایک انسان جسے حریت پسند مانے، دوسرا اسی کو دہشت گرد سمجھ سکتا ہے۔ چلیے ’حریت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ تو اسم ہیں، تو ان کے استعمال سے پرہیز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر دہشت گرد کے لیے ’آپ‘ استعمال کیا جائے، تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ لکھنے والے کی ہمدردی اپنے موضوع کے ساتھ ہے۔

بی بی سی کی مثال دی ہے تو اسی کی بات کرتا ہوں۔ ’بیسواں ہائی جیکر‘ زکریا موساوی بی بی سی کے مطابق احترام کے قابل ہے۔ وہ ’فرانس میں پیدا ہوئے‘ اور ’انہوں نے لندن سے [...] ڈگری حاصل کی‘۔

اس کے برعکس مصنّف سلمان رشدی کو یہ درجہ حاصل نہیں۔ رشدی ’ایک قیدی کی زندگی گزار رہا تھا‘، وہ ’برطانیہ کا شہری بن چُکا تھا‘ وغیرہ وغیرہ۔ رشدی صاحب کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے، امّید کی جاسکتی ہے کہ وہ ہائی جیکر بننے کا خواب نہیں دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی معصوم انسانوں کا خون کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اہلِ زبان جو ایک اعلی تہذیب کے دعوی دار ہیں، کیا ان کو اتنا احترام بھی نہیں دے سکتے جو ایک دہشت گرد کے حصّے میں آتا ہے؟

جہاں تک میرا مشاہدہ ہے، بی بی سی کی پالیسی کے مطابق ہٹلر اور چرچل، بن لادن اور بش، موسی اور فرعون سب کے سب ہی ’آپ‘ کے درجے میں آتے ہیں۔ رشدی صاحب سے یہ درجہ بی بی سی کے ادارے نے نہیں بلکہ ایک انفرادی لکھنے والے نے چھینا ہے۔ شاید مدیروں نے اس کی تلافی بھی کرنے کی کوشش کی ہے لیکن صرف جزوی کامیابی حاصل کر پائے ہیں۔ مندرجہ ذیل جملے کو دیکھ کر میری پانچویں جماعت کی اردو کی استانی کو ضرور دل کا دورہ پڑتا۔

’رُشدی کا آبائی وطن بھارت تھا لیکن وہ برطانیہ کے شہری بن چُکا تھے۔‘


آپ کیا کہتے ہیں:

ایچ حسن بیگ، لندن
ضیا صاحب کاش اگریزی میں ایسے آپشن ہوتے تو میں آپ کو ’تم‘ یا ’تو‘ کہتا۔ آپ کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ رشدی نے کیا کیا ہے۔ بہت افسوس کی بات ہے۔

سہیل احمد، برطانیہ
میں جاوید گونڈل سے اتفاق کرتا ہوں۔ حسن مجتبی اور ضیا احمد ہمیشہ مسلمانوں کو اکسانے کے لیے اور خود کو سیکیولر ثابت کرنے کے لیے ایسی تحریریں لکھتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنے نام ہی بدل دیں، کیونکہ بس ان کے نام ہی مسلم ہیں اور کچھ نہیں۔۔۔

ذولفقار رند، امریکہ
آپ نے بش، اسامہ، چنگیز اور شیطان کے ساتھ جناح کا نام کیوں جوڑا؟ مجھے یہ بہت برا لگا۔

ثنا خان، پاکستان
آپ کی پانچوی کلاس کی استانی کو دل کا دورہ پڑے یا نہ پڑے پر مجھے تو بڑی خوشی ہوئی کہ کوئی ہے میرے جیسا جو اس بات پر سوچتا ہے۔ ویسے ذاتی طور پر مجھے رشدی پسند نہیں۔۔۔

راشد محمد، قطر
بی بی سی ہمیشہ ایسے ہی آرٹیکل شائع کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پہنچے اور یہ ثابت ہو جائے کہ ان میں برداشت کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔

جاوید گوندل، بارسلونا:
ضیا صاحب، اردو چھوڑو، پشتو استعمال کرو، مسئلہ حل۔ ویسے کراچی والوں کی نسبت میں نے فرینچ بہت جلدی سیکھی۔ یقین مانو کہ فرنچ اور پشتو میں وہی رشتہ ہے جو ہندی اور سنسکرت میں۔ مگر افسوس کے آپ کے بلاگ کو مولوی ہری کین کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جاوید گوندل، بارسلونا:
سیدھی سی بات ہے کہ ایک دہشت گرد صرف چند لوگوں کو متاثر کرتا ہے جبکہ رشدی نے پوری امہ کو مضطرب کیا ہے۔ ویسے آپ اور مجتبیٰ جیسے لوگ سستی شہرت کے لیے ہر اختلافی پہلو کو چھیڑ سکتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے۔

محمد اجمل بنگش، اسلام آباد:
الفاظوں کے ہیر پھیر اپنے آپ کو اچھا انسان ثابت کرکے ہمدردی کرنے کی بجائے اخرت کو بھی یاد رکھیں جب سب سے بڑے بادشاہ کے ہاں حاضری دینی ہے۔

عامر تاج، ابوظہبی:
پہلے اس پر بلاگ لکھیں کہ دہشت گرد اور جہادی میں کیا فرق ہے؟ جب تک یہ واضح نہیں کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔

افتخار احمد کشمیری:
ہوسکتا ہے کہ بی بی سی والوں کی رشدی سے فرینک نیس ہو اور ڈکریا کے ساتھ آداب سلام بھی نہ ہو؟ کیا خیال ہے؟

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
جس طرح غالب کو اشعار کے انتخاب نے رسوا کیا تھا، اسی طرح آپ کو بلاگ کے انتخاب نے۔ ایسے چنیدہ موضوع لے کر آتے ہیں۔ اقسام ضمیر کی ہوں یا اسمِ صفت ہو، کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ بعض باتیں معاشرے اور تہذیب کا حصہ ہوجایا کرتی ہیں۔ آپ نے بھی خبروں میں سنا تو ہوگا کہ ہمارے لوگ شہید اور دشمن جہنم واصل۔ جاتے جاتے یہ کہوں گی کہ اللہ کے لیے ہم تُم بھی نہیں تُو کہہ کر شکوہ شکایت کرتے ہیں تو آپ کیا کہیں گے؟ یہ احترام کی کمی ہے؟

جاوید اقبال ملک:
آپ نے بالکل صحیح کہا مگر یہ تو لکھنے والے پر منحصر ہے ناں۔ ویسے الفاظ کا ذرا سا ہیر پھیر بہت سے مسئلے حل بھی کر سکتا ہے اور بڑھا بھی سکتا ہے۔

عمران عزیز، برطانیہ:
میں بی بی سی کو ایک لمبے عرصے سے پڑھ رہا ہوں لیکن میں نے آج تک ایسا لکھاری بی بی سی پر نہیں دیکھا۔ بی بی سی سے درخواست ہے کہ ضیا صاحب کے بلاگز پر خصوصی توجہ فرمائیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

سہیل غوری، ٹورنٹو:
مجھے انتہا کسی حال میں پسند نہیں۔ اگر سلمان رشدی نے جو لکھنا چاہا، لکھ دیا تو باقیوں کو بھی یہی حق حاصل ہونا چاہیے۔

عاصم سعید:
آپ کو گرامر کی کلاسز کی اشد ضرورت ہے۔




سولہ مئی: ’آنٹی کی وبا‘



جنیوا سے ضیا احمد کا آداب۔

ایک دن میں اقوامِ متحدہ کے دفتر سے نکل رہا تھا تو ایک جانی پہچانی شکل نظر آئی۔ جنیوا میں شلوار قمیض کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں اس لیے جانی پہچانی شکل اور بھی مانوس معلوم ہورہی تھی۔ کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر باآواز بول پڑا: ارے، یہ تو اسماء جہانگیر ہیں! وہ بھی ایک پاکستانی چہرا دیکھ کر دور سے مسکرائیں۔ میں ہمّت پکڑ کر ان سے بات کرنے کے لیے بڑھا۔

اچانک ایک گھمبیر مسئلے نے میرے قدم روکے۔ اسماء جہانگیر سے میری کوئی واقفیت نہیں۔ کوئی پوشیدہ رشتہ داری بھی نہیں کہ میں ان کو عنبر کی طرح پھپّو یا بہن بنا لیتا۔ ایسی صورت میں ان کو کیسے مخاطب کرتا؟

یہی کمبخت مسئلہ ہے اردو زبان اور پاکستانی تہذیب کا۔ مغرب کی دنیا میں تو میں انہیں باآسانی ’مِز جہانگیر‘ کہہ کر پکار سکتا تھا۔ بلکہ بےتکلّف ہو کر ’اسما‘ سے بھی کام چلا لیتا۔ جنیوا تو مغرب میں ہے لیکن انسان اپنی دنیا ساتھ لیے لیے گھومتا ہے۔ اور میری دنیا میں منجھلی عمر کی انجان خواتین ’آنٹی‘ کہلاتی ہیں۔

’آنٹی‘ کے ساتھ بڑے مسائل ہیں۔ اوّل تو یہ حد درجے کا پینڈو لفظ ہے۔ تہذیب یافتہ گھرانوں میں اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ (اور اگر نہیں دیکھا جاتا تو دیکھا جانا چاہیے!) دوئم یہ کہ میری عمر ایسی نہیں رہی کہ خواتین کو بلا جھجک آنٹی کہتا پھروں۔ اس بات کا اندازہ مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک شادی کے کھانے کی ’قطار‘ میں ہوا جب ایک چھوٹی سے بچّی نے مجھ سے کہا: ’انکل ذرا سائیڈ پر ہوں، مجھے بریانی لینی ہے۔‘

ایک اور راہ نظر آئی اور وہ تھی مشرقی ’خالہ‘ کی۔ لفظ غیرمعقول نہیں۔ حالات کے مطابق اسے ’خالہ جان‘ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ مگر پھر وہی مسئلہ۔ ’آنٹی‘ کی طرح ’خالہ‘ بھی ذرا پینڈو ٹہرا۔ اس کے علاوہ کیا ممکن تھا؟ بہن، باجی، بی بی، خاتون، محترمہ، بیگم صاحبہ؟ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی نقص!

بالآخر میری سوئی آکر ’میڈم‘ پر رکی۔ اس میں احترام بھی تھا اور وقار بھی۔ لفظ انگریزی کا تھا مگر مجبوری تھی۔ اسماء جہانگیر کو میڈم کہ کر میں اپنے آپ کو چھٹی جماعت کے ایسے بچّے کی طرح محسوس کرنے لگا جو اسکول کی خرّانٹ پرنسپل کو ڈرتے ڈرتے مخاطب کر رہا ہو۔

خوش قسمتی سے اسماء جہانگیر بالکل خرّانٹ نہ تھیں۔ نہایت شائستہ انداز میں مجھ سے گفتگو کرتی رہیں۔ خدا انہیں لمبی عمر دے۔ انہی جیسے چند لوگوں کی وجہ سے پاکستان پر فخر ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ اپنی جگہ جوں کا توں ہے۔ اگر کسی اجنبی خاتون کو نام لے کر نہیں پکارا جاسکتا تو انسان کون سا لفظ استعمال کرے؟ جس طرف دیکھتا ہوں، معاشرہ ’آنٹی‘ کی وبا میں مبتلا ہے۔


آپ کیا کہتے ہیں

تھرچند بالانی، پاکستان:
جی ہاں، اسماء جہانگیر پر پاکستان کو فخر ہے کیونکہ وہ کسی مذہبی فرق کے بغیر انسانی حقوق کی جنگ لڑتی ہیں۔ لیکن آپ آنٹی لفظ پر کیوں اٹک گئے۔ شاید اس لئے کہ آج کل اس کا استعمال غلط ہورہا ہے۔

عبدالرحمان بلیدی، جیکب آباد:
آپ اگر بلوچ یا پٹھان ہوتے تو انہیں کاکی بولتے جو چچی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی عورت کی پہچان اس کے شوہر سے لیکن ہوسکتا ہے محترمہ اسماء جہانگیر اسے پسند نہ کرتیں۔ خیر آگے آپ کی مرضی۔

مجاہد رانا، بحرین:
اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع نہ کریں اور قسمت کہیں اور آزمائیں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
اصل بات یہ ہے کہ جس کو جو بھی نام دیا جائے، عزت اور احترام والا ہو۔ ہمارے ہاں تو نام بگڑنے کا رواج ہے۔ ہمارے ہاں تو محمد، حسن اور علی جیسے نام بگاڑ لیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو بہن، محترمہ، سسٹر یا محترم کہہ کر پکارتے ہیں مگر دل سے احترام نہیں کرتے تو کیا فائدہ؟

گل بیگ گرگیج، عمرکوٹ:
کُچھ مخصوص خواتین نے ایک اچھے بھلے لفظ کا حشر نشر کردیا۔ کیا کیا جائے؟ یقین کیجئے دل اس لفظ کے موجودہ حالات اور حوالے پر خون کے آنسو روتا ہے۔

علی محمد، کینیڈا:
ضیا صاحب، بڑھاپا کسے اچھا لگتا ہے لیکن یہ تو اپنے وقت پر اکر ہی رہتا ہے اور انکل آنٹی اسی وقت کا نام ہے۔ جب کوئی انکل کہے تو سمجھ لیں کہ الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
آپ نے ایک چھوٹی سی بات کو ایشو بنالیا۔ اسما جہانگیری ہی تو تھیں ناں، اتنی اچھی، نائس سی ہیں، کچھ بھی کہہ دیتے۔ بہرحال آپ کی پریشانی کا ایک ایک حل ہے۔ میں نے تو اپنے لئے بھابھی کا لفظ چن لیا ہے، اسے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ آپ نام لے لیا کریں، خواتین خوش ہوجائیں گی۔ آپ کو بھی انکل کہلانا عجیب لگا ناں۔

عبدالوحید خان، برمنگھم:
لفظ کوئی بھی ہو، آپ جب کسی کو عزت دیتے ہیں تو پتہ چل جاتا ہے اور جب کسی کی تحقیر کرتے ہیں تو بھی بات چھی نہیں رہتی۔

ریحان اعوان، سرے، کینڈا:
آپ کا ان کو کسی بھی نام سے مخاطب کرنا تو آپ کے اپنے حالات اور کیفیات پر منحصر ہے پر یہ جان کر مجھے ضرور اچنبھا ہوا کہ جو لوگ پاکستان کو در در ذلیل کرتے ہیں اور اللہ اور رسول کو ہیومن اور وومن رائٹس کے نام پر رسوا کرتے ہیں، اب پاکستانیوں کو ان پر بھی فخر ہونے لگا۔