ہمت آباد کی لالی
 
ہمت آباد کی لالی
تحریرو تصاویر: ارشد علی
 


چھبیس مارچ کو غلامی اور بیگار کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے تاہم آج بھی پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں قرضے کے نام پر کھیت مزدوروں اور ان کے پورے خاندان کو قید کرنا اور کام پر مجبور کرنا عام ہے۔ عمر کوٹ کی لالی کی کہانی ایک ایسی ہی عورت کی کہانی ہے۔ انیس سو بانوے میں لالی اور اس کے خاندان کو ’ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان‘ کے شکیل پٹھان کی کوششوں کی بدولت اس جیل سے بازیاب کروایا گیا جہاں وہ قید تھے۔ رہائی کے بعد اس نے کیسے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا، پڑھیئے اسی کی زبانی:

’اس وقت میری عمر پینتیس سال ہے اور میرے چھ بچے ہیں۔ میں اس علاقے میں چھ ماہ سے رہ رہی ہوں۔ مجھے ادھر کامریڈ غلام حسین لے کر آئے۔ یہاں پر اپنے شوہر نمے اور بچوں کے ساتھ آزادی کی زندگی گذار رہی ہوں۔ ہم ساتھ والے کھیت میں کام کرتے ہیں جس کے ہمیں ساٹھ روپے ملتے ہیں۔ اس کھیت میں بھنڈی، توری اور ٹماٹر وغیرہ کی فصل لگی ہے۔ میں اور جو میرے ساتھ رہتے ہیں، وہ سب ہندو ہیں اور اس گوٹھ کا نام ہمت آباد ہے۔‘
 
 
لالی کی کتھا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
^^ اوپر واپس تازہ ترین>>آپ کی آواز >>پاکستان >>