Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. لعل شہباز قلندر کا مزار ضلع جامشورو کے علاقے سیہون میں واقع ہے
  2. سیہون کراچی سے ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر انڈس ہائی وے پر واقع ہے۔
  3. مزار پر جمعرات کے دن معمول سے کہیں زیادہ زائرین جمع ہوتے ہیں
  4. یہ پاکستان میں گذشتہ چار دن میں دہشت گردی کی آٹھویں واردات ہے جن میں اب تک 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

lal qalandar
EPA

lal qalandar
EPA

’34 افراد کو نواب شاہ منتقل کیا گیا‘

کمشنر حیدرآباد قاضی شاہد پرویز نے بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان ظفر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے میں زخمی ہونے والے 34 افراد کو نواب شاہ منتقل کیا گیا ہے۔ 

انھوں نے کہا ہے کہ نواب شاہ منتقل کیے جانے والے زخمیوں میں سے چار کی حالت زیادہ تشویشناک ہے اور انھیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت نواب شاہ میں سی ون تھرٹی جہاز اور نیوی کے ہیلی کاپٹر موجود ہیں جنھیں زخمیوں کو کراچی منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

قاضی شاہد پرویزکے مطابق 20 زخمیوں کو حیدر آباد منتقل کیا گیا ہے جبکہ اس وقت سیہون کے ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 55 ہے جبکہ معمولی زخمیوں کو ضروری مرہم پٹی کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ کراچی سے ایک خصوصی فورنزک ٹیم سیہون پہنچ رہی ہیں جو جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کرے گا۔ 

انھوں نے کہا ہے کہ ابتدائئ تحقیقات کے مطابق یہ بظاہر یہ خودکش حملہ تھا تاہم فورنسک ٹیم کی مدد سے حاصل کردہ شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات میں مدد ملے گی۔

حکومت سندھ کا تین روزہ سوگ کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سانحہ سیہون شریف کے باعث تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ 

بریکنگ’افغان پاکستان سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند‘

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان افغانستان سرحد فوری طور پر سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔‘

Pakistan-Afghanistan Border closed with immediate effects till further orders due to security reasons.

border
AFP

بریکنگ’43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل‘

ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی نے تصدیق کی ہے کہ سیہون شریف بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ 

ان کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں43 مرد، نو خواتین اور 20 بچے شامل ہیں۔ 

فیصل ایدھی نے بتایا کہ دھماکے کے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ایدھی کی ایمبولینسز جائے حادثہ پر پہنچی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک شدگان کی یہ تعداد ایدھی سروس کے اہلکاروں نے بتائی ہے جبکہ دیگر سروسز کی جانب سے بھی لاشوں کو اکھٹا کیا گیا تھا۔ 

’نواب شاہ ہوائی اڈے سے ریسکیو کارروائی کا آغاز‘

فوج اور رینجرز کی میڈیکل ٹیمیں دھماکے کی جگہ پر ہیں۔ نواب شاہ ہوائی اڈے سے امدادی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ زخمیوں کو حیدرآباد اور کراچی لے جایا جا رہا ہے اور ایمبولینس بھجوا دی گئی ہی۔‘

#Sehwan. Army and Rangers medical teams at blast site. Air evac from Nawab Shah started. Injured being taken to Kci/ Hyd. Ambulances sent.

’دشمن قوتیں افغانستان کی پناہ گاہیں استعمال کر رہی ہیں‘

’حالیہ دہشت گردی کے حملے دشمن قوتوں کے ایما پر کیے جا رہے ہیں جن کی پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں۔ ہم دفاع کریں گے اور جواب دیں گے۔‘

Recent Ts acts are being exec on directions from hostile powers and from sanctuaries in Afghanistan. We shall defend and respond.

بحریہ کے تمام ہسپتال ہائی الرٹ پر

پاکستانی بحریہ کے تمام ہسپتالوں کو کراچی میں ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ یہ ہسپتال رات کے وقت پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے پہچنے والے زخمیوں کے لیے تیار ہیں۔

#Sehwan. CNS placed all Naval Hospitals at Karachi on high alert. Ready to receive injured through night capable heli.

دہشتگردی میں اضافے کے پیچھے کون؟

بریکنگ’اب کسی سے بھی رعایت نہیں ہوگی‘

 آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون میں حملے کے بعد کہا ہے کہ ’قوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیا جائے گا۔‘ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں کہا کہ ’قوم کے خون کے ہر قطرے کا فوری طور پر بدلہ لیا جائے گا اور اب کسی سے بھی رعایت نہیں ہوگی'۔  

bajwa
Reuters

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

پاکستان میں شدت پسندی کی لہر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے شروع ہوئی اور اس دوران صوفی بزرگوں کے متعدد مزارات اور درگاہیں بھی دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنیں۔

سیہون میں لعل شہباز قلندر کے علاوہ ماضی میں ملک کے دیگر علاقوں میں واقع مزار ایسے ہی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

عبداللہ شاہ غازی
Getty Images
عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں آٹھ اکتوبر 2010 کو دو خودکش حملوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے

درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر سہیون شریف تمام مذاہب کے لیے قابلِ احترام ہے، پاکستان ہندو کونسل کا مقامی ہندوؤں سے فوری طور پر زخمیوں کو خون دینے کی اپیل: سرپرستِ اعلیٰ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

فورینزک ٹیمیں روانہ

سندھ کے اے آئی جی فورینزک جاوید اکبر نے کہا ہے کہ انسپیکٹر جنرل پولیس کے حکم پر موبائل فورینزک سٹیشن سیہون کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں جبکہ حیدر آباد سے بھی فورینزک ماہرین کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ رہی ہے۔ 

بریکنگدولت اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ’اعماق نیوز ایجنسی‘ میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ 

بریکنگ’دھماکے کے بعد جو مناظر دیکھے بیان نہیں کر سکتا‘

ہلاک ہونے والوں میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل

 سیہون کے ہسپتال میں موجود دادو کے ایس ایس پی شبیر سیٹھار نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل کو بتایا کہ اب تک 70 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں متعدد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔  

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ جمعرات کی شام درگاہ کے اندرونی حصے میں اس وقت ہوا جب وہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اے ایس پی سیہون کے مطابق سنہری دروازے سے مزار کے اندر داخل ہوا اور دھمال کے موقعے خود کو اڑا لیا۔ 

karachi
AP
کراچی میں سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

’مزار پر امدادی کارروائیاں مکمل، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں‘

سیہون کے ایس ایچ او غلام رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لعل شہباز قلندر کا مزار پر اس وقت امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں اور مزار کو سیل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت حیدر آباد سے ایک خصوصی ٹیم مزار پر پہنچی ہے اور وہ شواہد اکٹھے کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ دھماکے کے بعد شروع زخمیوں اور ہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی سرگرمیاں ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہیں۔

بریکنگ’70 افراد ہلاک اور 250 زخمی‘

 پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 70 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔  

پانچ روز سے دہشت گردی کے واقعات تواتر سے

جمعرات کو صوبہ سندھ کے علاقے سیہون شریف میں دھماکہ ہوا جس میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں گذشتہ پانچ روز سے دہشت گردی کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔ 12 فروری

کراچی میں نجی نیوز چینل سما کی ڈی ایس این جی پر حملے میں اس میں سوار تیمور عباس نامی اسسٹنٹ ہلاک ہوئے۔

 13 فروری

مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر ایک مظاہرے کے دوران خودکش حملہ ہوا جس میں ڈی آئی جی ٹریفک مبین احمد اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل سمیت 11 افراد ہلاک اور 70 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم ناکارہ بناتے ہوئے پھٹ گیا جس سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور 14 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

15 فروری

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور قبائلی علاقے مہمند ایحنسی میں شدت پسندی کے دو واقعات میں تین اہلکاروں سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو ئے۔پشاور میں حیات آباد کے علاقے میں خودکش حملے میں ججوں کو لے جانے والی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

16 فروری

بلوچستان کے شہر آواران میں فوجی قافلے پر حملے میں تین فوجی ہلاک ہوئے۔ اس حملے میں کیپٹن طحٰہ، سپاہی کامران ستی اور سپاہی مہتر جان ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی فضائیہ کا سی ون تھرٹی طیارہ نواب شاہ کے ہوائی اڈے سے زخمیوں کو منتقل کرے گا۔ پاکستانی بحریہ کا ہیلی کاپٹر سیہون سے اور ارد گرد کے علاقوں سے زخمی اٹھائے گا۔

#Sehwan. PAF C 130 will lift injured from Nawab Shah airport. Navy heli will lift injured from Sehwan and surroundings.

’30 سے زائد ایمبولیسنز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف‘

 ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد ایمبولیسنز جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کراچی اور سکھر سے مزید ایمبولینسز بھجوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ زخمی سیہون شریف کے سول ہسپتال بھجوائے گئے ہیں۔

’ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ابھی معلوم نہیں لسٹیں تیار کی جا رہی ہیں کچھ دیر بعد اس بارے میں بتایا جا سکے گا۔‘

مزار کے اند کانچ کے ٹکڑے، انسانی خون اور لاشیں

’لال قلندر پر پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا‘

لعل شبہاز قلندر کی درگاہ میں ہونے والے دھماکے کے ایک عینی شاہد باقر شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے تقریباً دس منٹ کے بعد جو وہ درگاہ کے احاطے میں پہنچے تو وہاں قیامت کا منظر تھے۔ باقر شیخ کے بقول انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے اور ہر طرف افراتفری تھی۔

انھوں نے آبدیدہ آواز میں کہا ہے کہ’ لال قلندر پر پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا، ہمارے شہر میں کبھی اتنی تباہی نہیں ہوئی۔ ایسا تباہی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔‘

بریکنگ’کم از کم 30 ہلاک، 60 سے زیادہ زخمی‘

وزیر صحت سندھ سکندر علی میندھرو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے اندر خود کش دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔   

بریکنگ’اندر جا کر صورتحال دیکھی جو بیان نہیں کی جا سکتی‘

دھماکے کے ایک عینی شاہد غلام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ درگاہ کے سنہری گیٹ پر اپنے چار دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اس دوران زور دار دھماکہ ہوا اور وہ سب باہر کو بھاگے۔

انھوں نے بتایا کہ تھوڑی دور جا کر رکے تو درگاہ کے اندر سے زخمی حالت میں لوگ باہر نکل رہے تھے اور ساتھ میں چیخ و پکار کر رہے تھے کہ اندر بہت تباہی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس کے بعد اندر جا کر صورتحال دیکھی جو بیان نہیں کی جا سکتی، صرف اتنا کر فرش پر ہر طرف خون تھا اور لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہوئے تھے۔ 

’ہمارے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے فوج سے ہیلی کاپٹرز مانگے ہیں‘

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی توجہ زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد ہے۔ مقامی ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اس لیے فوج سے ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کے لیے بات کی ہے۔‘ 

مراد علی شاہ
AFP

’معلوم نہیں کتنا نقصان ہوا ہے‘

سیہون شریف میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک غلام احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ایمبولینسز کے ذریعے مریضوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد اب وہاں فوج اور پولیس کھڑی ہے اور معلوم نہیں کتنا نقصان ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حادثے کی وجہ سے اب دکانوں کو بند کیا جا رہا ہے۔

’سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار میں دھماکہ‘

سیہون سے ایک پولیس اہلکار دوست علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سیہون ہسپتال میں متعدد لاشیں لائی گئی ہیں تاہم صحیح تعداد کا علم نہیں ہے‘۔

سیہون
BBC

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اتنے بڑے دھماکے سے نمٹنے کے لیے سیہون کے ہسپتال میں سہولیات نہیں ہیں۔ 

’ہماری پوری توجہ زخمیوں کو طبی امداد دینے پر ہے‘

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری پوری توجہ زخمیوں کو طبی امداد دینے پر ہے۔‘

بریکنگلعل شہباز قلندر کے مزار کے اندر دھماکہ

 پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے اندر خود کش دھماکہ ہوا ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔   

سیہون
BBC

فوج اور رینجرز کی طبی ٹیمیں روانہ

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے سیہون بم دھماکے کے زخیموں کی امداد کے لیے ہدایات کی ہیں۔ فوج اور رینجرز کے اہلکار طبی امداد کے لیے جائے حادثہ پر روانہ ہو گئے ہیں جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سی ایم ایچ زخمیوں کو علاج کی سہولت دینے کے لیے تیار ہے۔ 

نہ ہسپتال نہ ایمبولینس

سینیئر صحافی مظہر عباس نے لکھا کہ ’نہ ہسپتال نہ ایمبولینس۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ دھماکے کی نہیں مگر صحت کے نظام میں ناکامی کی؟‘

Neither hospital nor ambulances. Who will take the responsibility, not of the blast, but for health care failure.

حکومت جانوں کی حفاظت میں ناکام

عوامی نیشنل پارٹی کی رہنما بشریٰ گوہر نے دھماکے کی مذمت کی اور کہا ہے کہ حکومت انسانی جانیں بچانے میں ناکام رہی ہے۔

Strongly condemn the cowardly #LalShahbazQalandar attack.Thoughts&prayers are with the bereaved families. Govt has failed to protect lives.