Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور جاسوس ہیں
  2. انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔
  3. انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف سے اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ جادھو کی پھانسی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بہت کم وقت ہے اور پاکستان میں اس سلسلے میں تمام امکانات پر غور کرنے کے لیے
  4. سماعت میں عدالت نے انڈین اور پاکستانی حکام کے دلائل سنے جہاں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

’کلبھوشن کو بچانے کی ہر ممکن کوشش‘

سشما سوراج نے اپنی ٹویٹ میں وزیراعظم نریند مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’میں آپ سب کو یقین دلاتی ہوں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ کلبھوشن جادھو کو بچایا جائے۔‘

’اب ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ کوئی مقدمہ چلا ہی نہیں تھا‘

انڈیا کے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے ’تمام عالمی برادری، کم از کم قانون دان، نے یک زبان ہو کر رد عمل دیا ہے اور وہ آواز انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف موقف کے حق میں ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اب ساری دنیا کو معلوم ہو گیا ہے کہ کوئی مقدمہ چلا ہی نہیں تھا، ساری کارروائی ڈھکوسلا تھی، اور فوجی مقدمہ کچھ بھی نہیں تھا۔ پاکستان کے موقف کے اس فیصلے کے بعد پڑخچے اڑ گئے ہیں۔ جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے یہ دونوں ریاستوں پر لازم ہے کیونکہ حتمی فیصلہ میں دائرہ کار پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘

india
AFP

’گریٹ ریلیف‘

انڈیا کی وزیر خارجہ سوشما سوراج نے عالمی عدالت انصاف کے عبوری فیصلے کے بعد اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’آئی سی جے کے فیصلے سے کلبھوشن جادھو کے خاندان اور پورے ملک کو بہت اطمینان ملا ہے۔‘

بریکنگ’ایک روپیہ فیس لی‘

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’حریش سالوے عالمی عدالت انصاف میں کیس کی پیروی کرنے کے لیے ایک روپیہ فیس لیا ہے۔‘

’عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں‘

flag
AFP

پاکستان کے اٹارنی جنرل کی جانب سے عالمی عدالت انصاف کے عبوری حکم پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے یہ بات واضح طور پر کی ہے کہ عبوری فیصلے کا حتمی فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی وہ اس پر اثر انداز ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے ’یہ عبوری فیصلہ صرف عدالتی کارروائی کا حصہ ہے جس سے عالمی عدالت انصاف کو حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔ یہ کارروائی عدالت کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگی۔‘

اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس سماعت میں حصہ عدالت کے احترام کی وجہ سے لیا تھا تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکے کہ عدالت کے اختیار اور دائرہ کار کے بارے میں فیصلہ اس کارروائی سے پرہیز کرنے کے بجائے اس میں شامل ہو کر کریں۔

’پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایسے تمام غیر حل شدہ معاملات صرف پر امن طریقوں سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انڈیا مستقبل میں اپنی تخریبی کارروائیاں نہیں کر سکے گا جیسے اس نے کمانڈر جادھو کے ذریعے کروائیں۔‘

اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق اس معاملے میں انڈیا کے لیے کوئی جان نہیں ہے۔

’جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، عدالت میں آج کے دیے جانے والے فیصلے سے کمانڈر جادھو کے معاملے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم نے 15 مئی کو عدالت میں یہ بتایا تھا کہ کمانڈر جادھو کو تمام مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنے خلاف ہونے والی سزا کا قانونی دفاع کر سکیں اور ساتھ ساتھ ان پر معافی مانگنے کی اپیل دائر کرنے کا بھی موقع ہے۔‘

نریندر مودی نے عالمی عدالت انصاف کے حکم پر اطمینان کا اظہار

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے عالمی عدالت انصاف کے حکم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جس نے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر عملدرآمد کو روک دیا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مودی نے وزیر خارجہ سشما سوراج کا شکریہ ادا کیا اور وکلا کی کوششوں کو سراہا۔

تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کا تعلق پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور انڈین تاجر سجن جندل کی ملاقات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے

بریکنگ’پاکستان نے آرٹیکل 36 ٹو پر ریوائزڈ ڈکلریشن داخل کیا ہے‘

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی عدالتِ انصاف کے آرٹیکل 36 ٹو پر ریوائزڈ ڈکلریشن داخل کیا ہے جو 1962 کے ڈکلیریشن سے زیادہ جامع تھا اور اِس میں جاسوسی اور دیگر امور سے متعلق شقوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا ’انڈیا کی حکومت کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کرنے اُس کی حمایت کرنے اور اُس کے لیے مالی معاونت کرنے میں ملوث ہے لہذا وہ یہ معاملہ انسانی حقوق کے تناظر میں یہ کہہ کر عالمی عدالت میں لے گئی کہ کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی نہیں دی جا رہی‘۔

کلبھوشن
AFP
وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: سربجیت سنگھ

spy
Getty Images

سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا تھا۔ انڈیا کا موقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ پاکستان نے سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

فوجی حکمران پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب انڈیا پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت انڈیا میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان ان کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

سربجیت 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ سربجیت سنگھ کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا اور انڈیا کی حکومت نے سربجیت سنگھ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: کشمیر سنگھ

کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35 برس گزارنے کے بعد انھیں 2008 میں رہا کیا گیا تو انڈیا میں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔

کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بےقصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لیے پاکستان گئے تھے۔

SPY
Getty Images

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: رویندرا کوشک

SPY
THE TELEGRAPH, INDIA

رویندرا کوشک ایک ایسے بھارتی جاسوس تھے جو 25 برس تک پاکستان میں رہے۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوئے۔ جب انھیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھے۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد انھیں نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اننھوں نے ختنے بھی کروا لیے تھے۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، بلکہ انھوں نے پاکستان میں شادی بھی کر لی تھی اور ان کا بچہ بھی تھا۔

کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمشنڈ افسر بن گئے اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد انھیں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001 میں ان کی موت جیل میں ہوئی۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: رام راج

دو ہزار چار میں لاہور میں گرفتار ہونے والے رام راج شاید واحد ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگئے۔ انھیں چھ برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچے تو انھیں بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکے تھے۔

SPY
NEWS18.COM

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: سرجیت سنگھ

SPY
PTI

سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچے تو کشمیر سنگھ کے برعکس ان کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ پاکستان میں ’را‘ کا ایجنٹ بن کر گئے تھے لیکن کسی نے ان کی بات پر کان نہ دھرے۔

سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتے تھی جو اس بات ثبوت ہے کہ وہ `را‘ کے ایجنٹ تھے اور وہ گرفتاری سے پہلے پچاسی بار پاکستان کا دورہ کر چکے تھے جہاں وہ دستاویزات حاصل کر کے واپس لے جاتے تھے۔

سرجیت کی کہانی

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: گربخش رام

SPY
NEWS18.COM

گربخش رام کو 2006 میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اٹھارہ برس تک پاکستانی جیلوں میں رہے ۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہے تھے لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔

بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔ انھوں نے پنجاب کے چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن انھیں سرکاری ملازمت نہیں دی گئی ہے۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس: ونود سانھی

SPY
NEWS18.COM

ونود سانھی 1977 میں پاکستان میں گرفتار ہوئےاور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد انھیں 1988 میں رہائی ملی۔

ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے ’جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن‘ نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔

وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھے جب ان کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے انہیں سرکاری ملازمت کی پیشکش کی۔ انھیں پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوئے تو حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔

بریکنگعالمی عدالتِ انصاف کا فیصلہ باعثِ اطمینان

انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ عالمی عدالتِ انصاف کا یہ فیصلہ کلبھوشن جادھو کے خاندان اور انڈیا کی عوام کے لیے باعثِ اطمینان ہے

بریکنگمتفقہ فیصلہ

عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے متفقہ فیصلہ کیا جس پر عملدرآمد لازم ہے کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کو پھانسی اس وقت تک نہ دے جب تک عدالت اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں سنا دیتی۔

بریکنگ’کلبھوشن کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے‘

انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ انڈیا کی حکومت کلبھوشن جادھو کو بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

بریکنگ’انڈیا کے پاس کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کا حق ہے‘

انڈیا کے پاس کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کے حقوق ہیں۔

بریکنگ’پاکستان عدالت کو اپنے تمام اقدام سے آگاہ کرے‘

عدالت سے حتمی فیصلہ آنے تک پھانسی نہیں دی جا سکتی اور حکومت پاکستان عدالت کو اپنے تمام اقدام سے آگاہ کرے گا

بی جے پی کی دھمکی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن سبرامینیم سوامی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو سزا موت دی تو بھارت کو بلوچستان کی علیحدگی کی حمایت شروع کر دینی چاہیے۔

ایک ٹوئٹ میں حزب اقتدار کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے کلبھوشن کو تخت دار پر لٹکا دیا تو انڈیا کو بلوچستان کو ایک علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

پاکستانی فوج کے ترجمان نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن وہ پہلے ایسے بھارتی شہری نہیں ہیں جنھیں جاسوسی کے الزام میں پاکستان میں سزا سنائی گئی ہو۔

کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس

ایران کی بھی درخواست

ایران نے بھی پاکستان میں گرفتار کیے جانے والے انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو تک رسائی کے لیے پاکستانی حکام کو درخواست دی تھی۔

انڈیا نے 15 بار قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا

خیال رہے کہ انڈیا نے 15 سے زیادہ بار كلبھوشن جادھو کو قانونی مدد دینے کے لیے قونصلر رسائی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن پاکستان نے اس کی منظوری نہیں دی۔

پاکستان کا موقف

سماعت میں عدالت نے انڈین اور پاکستانی حکام کے دلائل سنے جہاں پاکستان کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے بیرسٹر خاور قریشی نے کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت عالمی عدالتِ انصاف کا دائرۂ اختیار محدود ہے اور کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ہنگامی نوعیت کا نہیں جیسے کہ انڈیا کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے۔ پاکستان کے وکیل نے کہا کہ انڈیا کے دلائل میں تضاد ہے اور وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔

کلبھوشن کی گرفتاری

کلبھوشن
AFP

مارچ 2016 میں کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان کی جانب سے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں وہ یہ اعتراف کرتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے اس ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈیا کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

بریکنگ’معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کارمیں آتا ہے‘

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف نے دائرہ کارمیں آتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی پر اختلاف پایا جاتا ہے اور عدالت کا فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

بریکنگ’ویانا کنونشن سے جاسوسی میں گرفتار افراد کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا‘

جج رونی ابراہیم نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ویانا کنونشن سے جاسوسی میں گرفتار افراد کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو مطلع کرنے میں ناکامی ویانا کنونشن کے دائرے میں آتی ہے۔

دائرہ اختیار پر پاکستانی اعتراض مسترد

عالمی عدالت انصاف کے جج رونی ابراہم نے فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے دائرۂ اختیار کے بارے میں پاکستان کا اعتراض مسترد کردیا ہے

بریکنگ’فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی‘

عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان میں سزائے موت پانے والے انڈین بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف درخواست پر فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کے حتمی فیصلے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔