Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اپریل کو سنائے گئے فیصلے میں دیا گیا تھا۔
  2. تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔
  3. پانچ مئی کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جس کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو سونپی گئی۔
  4. اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے چھ مئی کو کام شروع کیا اور دو ماہ کے عرصے میں ٹیم کے 59 اجلاس منعقد ہوئے اور اس دوران اس نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے اہلخانہ سمیت 23 افراد سے تفتیش کی۔
  5. قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ حمد بن جاسم کو دو مرتبہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا تاہم انھوں نے پاکستان آ کر یا قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں جا کر بیان دینے سے معذرت کی۔
  6. تحقیقاتی عمل کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کرنے کے بارے میں بیانات سامنے آتے رہے وہیں اختتامی ہفتوں میں ان بیانات کا لہجہ سخت اور تلخ ہوتا گیا۔

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

بڑی رقوم میں ’بےقاعدگیاں‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی رقوم کو قرض یا تحفے کی صورت میں دینے سے متعلق بےقاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رقم سے وزیر اعظم کے علاوہ ان کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز مستفید ہوئے اس لیے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو میں بھیجا جائے۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس ضمن میں جب حسن نواز اور حسین نواز سے اس رقوم کے بارے میں دریافت کیا گیا تو وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

جے آئی ٹی کی سفارشات

وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی ہے

بریکنگ’سارا راز والیئم 10 میں ہے‘

دانیال عزیز
AFP

مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے والیئم 10 کو جس میں قانونی دلائل شامل ہیں، اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ یہ اس رپورٹ کا وہی حصہ ہے جسے عدالت نے جے آئی ٹی کی درخواست پر خفیہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے باقی رپورٹ فریقین کے حوالے کرنے کو کہا ہے۔

دانیال عزیز نے کہا کہ سارا راز تو اسی والیم میں ہے اور سوال اٹھایا کہ جے آئی ٹی کی اس والئیم کو خفیہ رکھنے کی وجہ کیا ہے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس حصے کو بھی منظر عام پر لایا جائے۔

’اگر تصویر لیک ہو سکتی ہے تو کیا والیئم 10 نہیں لیک ہو سکتا؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے کل عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو کہ اس میں ایسا کیا ہے؟

بریکنگسماعت 17 جولائی تک ملتوی

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی نے سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کی جس کے بعد عدالت نے سماعت اگلے پیر یعنی 17 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔

عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی کاپی رجسٹرار آفس سے حاصل کر سکتے ہیں۔

سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے فریقین سے یہ بھی کہا کہ اگلی پیشی پر وہ دلائل نہ پیش کیے جائیں جو اب تک دیے جا چکے ہیں۔

عدالت نے جے آئی ٹی کی درخواست پر رپورٹ کے والیئم نمبر 10 کو عام نہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

عدالی نے یہ بھی حکم دیا کہ جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو تاحکم ثانی سکیورٹی فراہم کی جائے۔

بریکنگسپریم کورٹ ’جنگ گروپ پر برہم‘

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستانی اخباروں روزنامہ دی نیوز اور جنگ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے خبر دینے والے صحافی احمد نورانی، جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان اور پبلشر میر جاوید الرحمان کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔

بی بی سی کے شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے یہ نوٹس حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے معاملے پر عدالتی کارروائی کی کوریج کے علاوہ احمد نورانی کی اس خبر پر جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے معاملات فوج کا خفیہ ادارہ آئی ایس آئی دیکھ رہا ہے۔

بریکنگایس ای سی پی کے چیئرمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر حجازی کے خلاف ریکارڈ ٹیمپرنگ کے معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ انھوں نے یہ ٹیمپرنگ خود کی یا کسی کے احکامات پر یہ کام کیا۔

’ثبوتوں کی ٹرالی دیکھ لیں!‘

شریف فیملی پر ثبوت نہ دینے کا الزام لگانے والے اج سپریم کورٹ میں شریف فیملی کے کاروبار کی 1960 سے اب تک کے ثبوتوں ک… twitter.com/i/web/status/8…

بریکنگ’حکومت تصویر لیک کرنے والے کا نام معلوم کروائے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں کہا ہے کہ پہلے تصویر لیک کا معاملہ سنیں گے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ تصویر لیک کے معاملے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے حکم دیا کہ حکومت تصویر لیک کرنے والے کا نام معلوم کرائے۔

حسین نواز کی یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ آخری بار مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ حسین نواز کی یہ تصویر سرکاری ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز میں دکھانے کے علاوہ مختلف اخبارات کی بھی زینت بنی تھی۔

بریکنگ’پاکستان میں اب پرانا سکرپٹ نہیں چلے گا‘

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سکرپٹ چلتا جو کہ اب پرانا ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سکرپٹ میں پہلے ایک وزیراعظم پر کرپشن کا الزام لگایا جائے گا اور پھر اسے حکومت سے نکال دیا جائے گا اور بعد میں معلوم ہو گا کہ وہ بے قصور ہے۔ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اب یہ سکرپٹ نہیں چلے گا اور یہ پتلی تماشہ کرنے والے بے نقاب ہونے چاہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا، میڈیا اور آگاہی کی وجہ سے پتلی تماشہ کرنے والے ناکام ہو چکے ہیں۔

انھوں نے اس کے ساتھ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ اب قانون چند لوگ ہی نہیں سمجھتے بلکہ پوری عوام سمجھتی ہے۔

بریکنگجے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ پیش کر دی گئی

سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنے حتمی رپورٹ عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے پیش کر دی ہے۔ اس جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات دو ماہ کی مدت میں مکمل کیں اور اس دوران سپریم کورٹ میں اپنی کارکردگی کی تین رپورٹس بھی پیش کیں جبکہ چوتھی اور حتمی رپورٹ آج پیش کی گئی ہے۔

بریکنگمشترکہ تحقیقاتی ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے پاناما لیکس کے معاملے میں حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے لیے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ بینچ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل ہے۔

بریکنگجے آئی ٹی سپریم کورٹ روانہ

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے لیے جوڈیشل اکیڈمی سے روانہ ہو گئے ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان سخت سکیورٹی میں سپریم کورٹ کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔ ان کی سکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ رینجرز بھی تعینات ہیں۔

بریکنگدونوں طرف سے وکٹری سائن

ہماری نامہ نگار نازش ظفر نے بتایا کہ حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی سپریم کورٹ میں آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور فریقین پراعتماد نظر آ رہے ہیں اور ’وکٹری‘ سائن بناتے ہوئے سپریم کورٹ کے اندر داخل ہو رہے ہیں۔

بریکنگ’تابوت یا ثبوت جو نکلے گا، قبول کریں گے۔‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپریم کورٹ کے باہر بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی کوشش ہے کہ انھیں آئینی و قانونی طریقے سے نہ نکالا جائے اور کوئی اور طریقہ اپنایا جائے اس لیے جلد فیصلہ آنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں کچھ ثابت ہوا یا نہیں یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ ’تابوت یا ثبوت جو نکلے گا، جو فیصلہ ہو گا قبول کریں گے۔‘

انھوں نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ عدالت کے وقار کا خیال رکھا جائے کیونکہ ناشائستہ زبان استعمال کر کے عدالت کے وقار کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

’یہ ججوں سے بھی ٹکرانا چاہتے ہیں۔ جس قسم کی زبان استعمال کی جا رہی ہے، جو ان کے ارادے ہیں۔ اس کا نوٹس لیا جائے۔‘

سپریم کورٹ
BBC

جہانگیر ترین کی آمد

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

ترین
BBC

سپریم کورٹ کے باہر لیڈی پولیس بھی موجود

police
BBC

بریکنگ’عدالتی فیصلوں کو ادب اور احترام سے دیکھا جاتا ہے‘

وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کو ادب اور احترام سے دیکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت میں عمرانی اصول نہیں چلتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘ مان لیا جائے۔

بریکنگابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ سپریم کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہو۔ سپریم کورٹ جلد فیصلہ دے اور اس معاملے کو مزید طول پکڑنا نہیں چاہیے تاکہ معاملہ یا آر ہو یا پار ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ کیس اس معاملے کی انتہا نہیں ہے بلکہ آغاز ہے۔ ’یہ انتہا نہیں بلکہ احتساب کی ابتدا ہے۔ ہم سب کا احتساب چاہتے ہیں۔ 20 کروڑ عوام کے لیے پانچ چھ ہزار افراد جیل جائیں تو یہ بڑی بات نہیں ہے۔‘

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

پاناما سکینڈل میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔ یہ معاملہ انجام تک پہنچے تو ان کرداروں کے چہروں سے بھی پردہ اٹھانے کا وقت آئے گا۔

انھوں نے مزید کہا ’میری خواہش ہے کہ فیصلہ کرپشن کے خلاف آئے اور یہی کہتا ہوں کہ میری جدوجہد کا محور کرپٹ نظام ہے اور یہ جدوجہد قانونی دائرے اور عوام کے درمیان جاری رہے گی۔‘

میڈیا اور پولیس موجود

ہماری نامہ نگار نازش ظفر نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ جو دعوے پولیس کی نفری کے بارے میں کیے جا رہے تھے اتنی تعداد موجود نہیں ہے۔ پولیس نفری میں لیڈیز پولیس بھی شامل ہے۔

بریکنگ’فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا‘

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہ نہیں جانتے کہ جے آئی ٹی میں کیا ہوا لیکن فیصلہ عوام کے حق میں آئے گا۔‘

جہانگیر ترین
AFP

بریکنگسماعت کا آغاز ایک بجے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے دن ایک بجے سماعت کا آغاز ہوگا جس میں پاناما لیکس کے معاملے میں حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کا یہ بینچ جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل ہے۔

بریکنگجے آئی ٹی کے ارکان جوڈیشل اکیڈمی میں جمع

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا اور دیگر ارکان جوڈیشل اکیڈمی پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ سپریم کورٹ جائیں گے جہاں یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ عدالتِ عظمیٰ میں جمع کروائے گی۔

federam judicial academy
BBC

ریڈ زون کی سکیورٹی سخت

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے وقت ٹیم آج اپنی چوتھی اور حتمی رپورٹ سپریم کورٹ کی بینچ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس موقع پر ریڈ زون کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ کوئی رہنما اب تک سپریم کورٹ نہیں پہنچے۔

مریم کی ٹویٹ پر تبصرہ

مریم نواز کی ٹویٹ کے جواب میں سماجی کارکن جبران ناصر نے جواب میں ٹویٹ کی ’بہادری کا تعلق جنس سے نہیں حق سے ہوتا ہے۔‘

یاد رہے کہ مریم نواز نے اس سے قبل ٹویٹ کی تھی کہ ’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے۔۔۔‘

جے آئی ٹی کو تفتیش کے لیے دیے گئے سوالات

عدالت نے اس چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو جن سوالات کا جواب تلاش کرنے کا حکم دیا وہ کچھ یوں تھے۔

  • میاں محمد شریف کی ملکیتی گلف سٹیل مل کیسے وجود میں آئی، یہ ادارہ کیوں فروخت کیا گیا، اس کے ذمہ واجبات کا کیا بنا اور اس کی فروخت سے ملنے والی رقم کہاں استعمال ہوئی اور یہ رقم جدہ، قطر اور پھر برطانیہ کیسے منتقل کی گئی؟
  • کیا نوے کی دہائی کے اوائل میں حسن اور حسین نواز شریف اپنی کم عمری کے باوجود اس قابل تھے کہ وہ فلیٹس خریدتے یا ان کے مالک بنتے؟
  • کیا (قطری شہزادے) حمد بن جاسم الثانی کے خطوط کا اچانک منظر عام پر آنا حقیقت ہے یا افسانہ؟
  • حصص بازار میں موجود شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟
  • نیلسن اور نیسکول نامی کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں جبکہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ نامی کمپنی کیسے وجود میں آئی؟
  • حسن نواز شریف کی زیر ملکیت فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور دیگر کمپنیوں کے قیام کے لیے رقم اور ان کمپنیوں کو چلانے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟
  • حسین نواز شریف نے اپنے والد میاں نواز شریف کو جو کروڑوں روپے تحفتاً دیے وہ کہاں سے آئے؟

چوتھی اور آخری رپورٹ

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے وقت ٹیم کو ہر 15 روز بعد اپنی کارکردگی کی رپورٹ بینچ کے سامنے پیش کریں۔ اس سے قبل جے آئی ٹی تین رپورٹس پیش کر چکی ہے جبکہ آج پیش کی جانے والی رپورٹ چوتھی اور آخری رپورٹ ہے۔

’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ۔۔۔‘

مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ۔۔۔‘

Woh mard nahi jo dar jaye ..... 🐅🐅🐅

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ آج سپریم کورٹ میں جمع کروا رہی ہے

پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ آج سپریم کورٹ میں جمع کروا رہی ہے۔ اس ٹیم کی تشکیل کا حکم پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے 20 اپریل کو سنائے گئے فیصلے میں دیا گیا تھا۔

نواز
AFP

ذاتی کاروبار پر نہ سوال کیا جا سکتا ہے، نہ جواب دینا ضروری ہے: مریم نواز

maryam
AFP

وزیرِاعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پاناما معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد کہا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے ارکان بھی نہیں جانتے کہ ان پر کیا الزامات ہیں۔

ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی کی تحقیقات کا محور ان کے خاندان کا دہائیوں قبل کا کاروبار ہے اور 'پاکستان کے تمام ہی بڑے بڑے منصوبوں پر مسلم لیگ نواز کی مہر ہے مگر ان تمام منصوبوں میں ایک پائی کی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا۔

'رہی بات خاندانی کاروبار کی۔ ساٹھ یا ستر ، اسی کی دہائی میں خاندان کے کاروبار سے متعلق سوال ہو رہے ہیں۔ اس میں اگر عوامی پیسہ شامل ہو تو اس کا جواب دینا بنتا ہے۔ لیکن ذاتی کاروبار پر نہ تو سوال کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ '

PID
PID

دو ماہ پر محیط اس تحقیقاتی عمل کے دوران جہاں آغاز میں پاکستان مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون کرنے اور 'سرخرو' ہونے کے بارے میں بیانات سامنے آتے رہے وہیں اختتامی ہفتوں میں ان بیانات کا لہجہ سخت اور تلخ ہوتا گیا۔

پہلےوزیراعظم پاکستان نے لندن میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ احتساب کے نام پر تماشا ہو رہا ہے اور ان کے ذاتی کاروبار کو کھنگالا جا رہا ہے۔نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'قوم کسی اور طرف جا رہی ہے جے آئی ٹی کسی اور طرف جا رہی ہے اور جے آئی ٹی کے سامنے ایسے لوگ پیش ہو رہے ہیں جو ہمارے بدترین دشمن ہیں۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو ان کے خلاف الزام کی حد تک بھی کچھ نہیں ملا۔

اور پھر جب وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار تین جولائی کو پیشی کے بعد باہر نکلے تو صحافیوں سے بات چیت میں ان کے لہجے میں غصہ عیاں تھا اور انھوں نے اپوزیشن رہنما اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دیا۔

اس کے بعد رپورٹسپریم کورٹ میں جعع کرانے سے صرف دو دن پہلے آٹھ جولائی کو پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر دفاعاور پانی اور بجلی، خواجہ آصف نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے جانب سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک قطر کے سابق وزیر اعظم، شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

وزیر اعظم کی بیٹی اور داماد کی طلبی

maryam
AFP

نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی پیشی 27 جون کو ہوئی جبکہ ان کی اہلیہ مریم نواز اس تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے والیی شریف خاندان کی آخری رکن تھیں جو پانچ جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے بیان دینے گئیں۔

خیال رہے کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کو بطور گواہ طلب کیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے جن افراد کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا ان میں مریم کا نام شامل نہیں تھا۔

ان اہم شخصیات کے علاوہ وزیرِاعظم کے رشتہ دار طارق شفیع دو مرتبہ جبکہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد، سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک، ایس ای سی پی کے سربراہ ظفر حجازی اور قومی احتساب بیورو کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) امجد شعیب اور موجودہ سربراہ قمر زمان چوہدری ایک ایک بار جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

قطری شہزادے کا بیان

قطر کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے شہزادہ حمد بن جاسم کو دو مرتبہ ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا تاہم انھوں نے پاکستان آ کر یا قطر میں پاکستانی سفارتخانے میں جا کر بیان دینے سے معذرت کی۔

تاہم ان کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی کہ جے آئی ٹی کے ارکان قطر میں ان کی رہائش گاہ پر آ کر بیان لے سکتے ہیں۔

اس پیشکش کے بعد چار جولائی کو یہ خبر سامنے آئی کہ تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان عرفان نعیم منگی اور بریگیڈیئر کامران خورشید قطر گئے ہیں تاہم اس اطلاع کی نہ تو سرکاری سطح اور نہ ہی قطری شہزادے کی جانب سے کوئی تصدیق کی گئی کہ انھوں نے ان افراد سے ملاقات کی یا ان کے سامنے بیان دیا ہے۔

جاسم
Getty Images

پاناما پیپرز تحقیقات: ’قطری شہزادے کے بغیر جے آئی ٹی نامنظور‘

پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر دفاع اور پانی اور بجلی، خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سپریم کورٹ کے جانب سے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک قطر کے سابق وزیر اعظم، شہزادہ حمد بن جاسم الثانی کو تفتیش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں خواجہ آصف کے علاوہ وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر ریلوے سعد رفیق اور وزیر برائے پلاننگ احسن اقبال مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاناما پیپرز کی تحقیقات پر تخفظات کا اظہار کیا۔

پاناما پیپرز تحقیقات: ’قطری شہزادے کے بغیر جے آئی ٹی نامنظور‘

سب سے اہم گواہ سے سب سے کم تفتیش

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انھیں جھوٹا اور جواری قرار دے دیا۔

اسحاق ڈار پیرکو پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما دستاویزات کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔

اسحاق ڈار کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی کہ انھیں اس سے پہلے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

سب سے اہم گواہ سے سب سے کم تفتیش

وزیرِ اعظم کے سمدھی کی طلبی

نواز شریف کے سمدھی اور ملک کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار تین جولائی کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میںاسحاق ڈار کو سب سے اہم گواہ سمجھا جاتا تھا لیکن جے آئی ٹی کے ارکان نے انھیں زیادہ انتظار بھی نہیں کروایا اور ان سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم پوچھ گچھ کی گئی۔

اسحاق ڈار سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف درج ہونے والے حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے۔

اپنے اس اعترافی بیان میں اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ وہ شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرتے تھے تاہم جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد انھوں نے کہا کہ یہ بیان انھوں نے اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا تھا۔

تلور سے پاناما تک!

1960 کی دہائی تک ایک عام پاکستانی کے نزدیک سعودی عرب کا تعارف مقاماتِ مقدسہ کے نگہبان ملک کا تھا۔ لوگ باگ ریاض سے واقف نہ تھے بس مکہ اور مدینہ جانتے تھے۔

متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت اور بحرین جیسے ناموں سے اس زمانے کا کوئی پڑھا لکھا پاکستانی واقف ہو تو ہو البتہ ایران اور ترکی کے ساتھ ثقافتی و تاریخی رشتوں کا خوب سرکاری و غیر سرکاری چرچا رہتا تھا۔

پڑھیے وسعت اللہ خان کا تجزیہ

نواز
Getty Images

وزیر اعظم کی پیشی

نواز
AFP

وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی نے 15 جون کو طلب کیا اور جب وہ پیش ہوئے تو ان سے تین گھنٹے سے زیادہ عرصے تک سوالات کیے گئے۔

اس پیشی کے بعد نواز شریف نے باہر آ کر صحافیوں کے سامنے ایک تحریر شدہ بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا تھا کہ'وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا اور اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے۔'

نواز شریف کے بعد ان کے بھائی اور وزیرِ اعلیٰ پنجابشہباز شریف کی باری آئی جنھیں 17 جون کو طلب کیا گیا اور ان سے بھی کئی گھنٹے تک سوالات کیے جاتے رہے۔

بلال رسول اور عامر عزیز پر تحفظات

پہلی پیشی سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز نےتحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان بلال رسول اور عامر عزیز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاتاہم 30 مئی کو تحقیقات کی نگرانی کرنے والے بینچ نے یہ اعتراضات مسترد کر دیے۔

تین جون کوحسین نواز کی پیشی کے بعد ان سے تفتیش کے عمل کی ایک تصویر بھی منظرِعام پر آئی جس پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی سے جواب طلب کیااور تحقیقاتی ٹیم نے عدالت کو تصویر لیک کرنے والے شخص کا نام تو نہیں بتایا البتہ یہ ضرور کہا کہ اس شخص کی نشاندہی کے بعد اسے اس کے ادارے میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔

حسن نواز دو ماہ کے عرصے میں تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ حسین کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز بھی دو ماہ کے عرصے میں تین مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔