Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔
  2. پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے 20 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی
  3. مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دو ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی کو اپنی کی رپورٹ پیش کی
  4. جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے
  5. کیس کی دوبارے سماعت پر عدالت نے کہا کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

بریکنگیہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کرنے والے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے بدھ معاملے کی سماعت عدالت کا وقت مکمل ہونے پر جمعرات کی صبح تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

عدالتی کارروائی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پڑھنے کے لیے کلک کریں

بریکنگ’کاغذ کی کشتی اب وزیرِ اعظم کو بچا نہیں سکتی‘

پاناما کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے وکیل ان کا کیس کمزور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کاغذ کی کشتی وزیرِ اعظم کو اب بچا نہیں سکتی۔

سراج الحق نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ خزانہ نے قوم کے خزانے کو خالی کر دیا ہے۔ ’وزیرِ خزانہ نے خود کو ٹیکس جمع نہیں کروایا تاہم وہ قوم کو ٹیکس جمع کراونے کی نصیحت کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اور پوری قوم ان کے کھڑی ہے۔‘

بریکنگپاناما کیس کی سماعت جمعرات تک لے لیے ملتوی

پاناما کیس
Getty Images

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق پاناما کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں بدھ کو ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی۔ اس دوران شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دیے۔ سماعت جمعرات 20 جولائی کو دوبارہ ہوگی۔

بریکنگ’جس کا فیصلہ ہو جائے وہ مقدمہ دوبارہ نہیں کھل سکتا‘

اسحاق ڈار
Getty Images

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کیس ری ٹرائل کی طرف جا رہا ہے لیکن قانون کے مطابق جس کیس کا فیصلہ ہو جائے وہ دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

’اسحاق ڈار بیرونِ ملک کیا کرتے رہے یہ ایک معمہ ہے‘

جسٹس اعجاز الاحسن کہا کہ ’اسحاق ڈار جے آئی ٹی کے سامنے استحقاق کا مطالبہ کرتے رہے اور اسے اپنی بیرونِ ملک اثاثوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ اسحاق ڈار بیرونِ ملک کیا کرتے رہے یہ ایک معمہ ہے۔‘

طارق حسن نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے دیے گئے اپنے موکل کے بیان کو چیلنج کرتے ہیں۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا اسحاق ڈار اپنے بیان کو تسلیم نہیں کرتے؟ اس پر وکیل طارق حسن نے سوال کیاا کہ جے آئی ٹی نے کس بنیاد پر ان کے موکل کو قصوروار ٹھہرایا ہے؟

جسٹس عظمت سعید نے اسحاق ڈار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا انھیں عدالت کے رویے سے بھی شکایت ہے تو جواب میں طارق حسن نے کہا کہ ایسے کوئی بات نہیں ہے۔

پاکستان بار کونسل کی اپیل پر عدالتوں میں جزوی ہڑتال

وکیل
Getty Images

پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی عدالتوں میں بدھ کو جزوی ہڑتال کی گئی۔ عدالتوں میں عدالتوں میں ان دنوں موسم گرما کی تعطیلات ہیں اور صرف ضروری اہمیت کے حامل مقدمات کی پیروی کی جاتی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں ہائی کورٹ میں مقدمات کی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ سٹی کورٹس میں اس اپیل کا کوئی موثر رد عمل نظر نہیں آیا، جبکہ لاہور کی عدالتوں میں بھی ہڑتال جزوی رہی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار کاؤنسل نے جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور عدالت سے یکہجتی کے اظہار کے لیے عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔

’جے آئی ٹی سے اختلافات تھے تو ریکارڈ ساتھ لے کر آتے‘

بینچ کے سربراہ نے اسحاق ڈار کے وکیل سے کہا کہ اگر آپ کو جے آئی ٹی سے اختلافات تھے تو وہ اپنی درخواست کے ساتھ ریکارڈ بھی لے کر آتے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ جن دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں وہ ہمارے پاس موجود ہی نہیں۔ اس پر وکیل طارق حسن کا کہنا تھا کہ وہ کل عدالت میں تمام ریکارڈ پیش کردیں گے۔

بریکنگ’اثاثوں میں اضافہ آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی تھا‘

جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق 1994 کے بعد سے اسحاق ڈار کے اثاثے نو ملین سے بڑھ کر 854 ملین روپے ہو گئے۔ اتنی بڑی رقم جے آئی ٹی کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔ ان کے مطابق اگر اسحاق ڈار اس عدالت سے کوئی شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں تو وہ انھیں یہاں سے تو شاید نہ ملے لیکن یہ موقع انھیں ٹرائل کورٹ سے مل سکتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں درخواست گزاروں نے کہا کہ نیب یہ کیس دوبارہ کھولے لیکن عبوری مرحلے میں عدالتی حکم میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

’اسحاق ڈار بیان سے منحرف ہوئے تو معافی بھی ختم‘

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے معاملے میں اسحاق ڈار شریک ملزم تھے جس کے بعد وہ وعدہ معاف گواہ بنے انھیں حلفیہ بیان کے بعد معافی ملی۔ اگر وہ بیان سے منحرف ہوتے ہیں تو ان کی معافی بھی ختم ہو جائے گی۔

’گوشوارے نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ جمع ہی نہیں کروائے گئے تھے‘

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق ایف بی آر نے انہیں اسحاق ڈار کے ٹیکس ریٹرن نہیں دیے اور ایف بی آر تو اسحاق ڈار کی وزارت کے ماتحت ہے۔

اس پر اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے اسحاق ڈار کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے کی بات غلط ہے کیونکہ اسحاق ڈار نے تو وہ معلومات بھی دیں جن کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی کو گوشوارے نہیں ملے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ گوشوارے جمع ہی نہیں کروائے گئے۔

بریکنگ’ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کو حاصل شدہ معلومات غلط ثابت ہوں‘

اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اسحاق ڈار پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا۔ الزامات کے مطابق 1982 سے 2001 تک ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

رپورٹ کے مطابق انھوں نے ٹیکس چوری کے لیے اپنے ٹرسٹ کو چندہ دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں پیش کی جانے والی تمام چیزیں ٹرائل سے گزریں گی اور ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کو حاصل شدہ معلومات غلط ثابت ہوں۔

اسحاق ڈار
BBC

صادق اور امین کو تو بخش دیں

سماعت کا دوبارہ آغاز

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما کیس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔

بریکنگ’وزیراعظم نواز شریف کا یکطرفہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے‘

مسلم لیگ نون کی رہنما انوشہ رحمان نے سماعت میں وقفے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے آئی ٹی کے اختیار اور اس کی رپورٹ پر سوالات اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا جے آئی ٹی اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل گئی۔ جو سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں دیا تھا لیکن جے آئی ٹی نے اس مینڈیٹ کو پھیلا دیا ۔

ان کے مطابق رپورٹ کی زبان ایسی نہیں تھی جس کی کسی حکومتی اہلکار سے توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کا طریقہ کار، تصویر کے لیک ہونے یا فون ٹیپ کرنے پر ہم نے اعتراض کیا۔ یہ اختیار کیا قانونی طور پر حاصل کیا گیا؟

جے آئی ٹی نے ریکارڈ اور بیانات کے ساتھ بد دیانتی کی بلکہ وہ ریکارڈ ان لوگوں کو دکھایا بھی نہیں گیا جن سے بیانات لیے گئے۔

جے آئی ٹی کے سربراہ نے خود کوئسٹ کے نام سے کمپنی سوا کروڑ کے قریب رقم دی۔ اس کمپنی نے کوئی سیرحاصل کام نہیں کیا۔ یہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے۔

جے آئی ٹی جانب سے پیش کردہ ہزاروں صفحوں کے پلندے میں میں اس کمپنی کی بھی رپورٹ ہے اگر یہ سچ ہے تو ساری رپورٹ ردی میں جانے کے قابل ہے۔

انوشے رحمان کا کہنا تھا کیا اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کی تحقیقات کے لیے ایک اور جے آئی ٹی بنائی جائے۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کا یکطرفہ میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ کسی قسم کا میڈیا ٹرائل یا وزیراعظم کو ہٹانے کی کوئی بھی سازاش ان کے ووٹر ناکام بنا دیں گے۔

سماعت میں وقفہ

پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق تین رکنی بینچ کی سماعت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل کی تکمیل کے بعد اس وقت وقفہ ہے۔ وقفے کے بعد وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن دلائل دیں گے۔

بریکنگ’پوچھ پوچھ کے تھک گئے ہیں کہ فلیٹ کا اصل مالک کون ہے‘

لندن فلیٹس
BBC

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم یہ سوال پوچھ پوچھ کے تھک گئے ہیں کہ فلیٹ کا اصل مالک کون ہے؟ انھوں نے یہ بھی دریافت کیا ہل میٹل کمپنی کا پیشہ کہاں سے آیا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ہل میٹل کمپنی کا 88 فیصد منافع نواز شریف کو ملا۔

اس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ گذشتہ چھ سال میں نواز شریف کو 20 فیصد سے بھی کم منافع ملا جس کی مالیت ایک ارب 17 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اس پر جسٹس عظمت سعید نے خواجہ حارث سے کہا ہل میٹل کے بارے میں آپ نے تو کچھ نہیں بتایا امید ہے کہ حسن اور حیسن نواز نے وکیل کچھ بتا دیں۔

عدالت کے مطابق ہر معاملے کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی معاملے میں آنکھ بند نہیں کر سکتے۔

بریکنگشریف خاندان کے وکیل کے دلائل مکمل

نواز شریف
Getty Images

عدالتِ عظمیٰ میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار عابد حسین کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بینچ کے سامنے شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے بھی اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

خواجہ حارث نے اپنے دلائل کے آخر میں کہا جے آئی ٹی نے اپنی پوری رپورٹ میں کہیں نہیں کہا کہ وزیرِاعظم نواز شریف نے اپنے اختیارت سے تجاوز کیا۔ بادی النظر میں وزیرِاعظم کے خلاف کوئی بھی مقدمہ نہیں بنتا اس لیے ان درخواستوں کو خارج کیا جائے۔

بریکنگ’آف شور کمپنیوں کی خدمات حاصل کس نے کیں‘

جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کوئی دستاویز موجود نہیں جس سے نواز شریف کی لندن فلیٹس کی ملکیت ظاہر ہو۔ انھوں نے کہا آف شورز کمپنیاں شیئر سروسز فراہم کرنے والوں کے نام ہیں۔ انھوں نے استفسار کیا کہ ان کمپنیوں کی خدمات حاصل کس نے کیں؟

بریکنگ’نواز شریف کو کچھ نہ کچھ تو ملا ہوگا‘

نواز شریف
EPA

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ان کے پاس تمام دستاویزات موجود ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ اگر لندن کے تمام فلیٹس میاں شریف کی ملکیت تھے تو ان کی وفات کے بعد نواز شریف کو کچھ نہ کچھ ملا ہوگا۔ اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے تو قطری سرمایے سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

بریکنگ’قانونی دستاویزات نہیں تو موقف کی کوئی قانونی حیثیت نہیں‘

لدن فلیٹس
BBC

جسٹس اعجاز افضل خان کہتے ہیں کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لندن فلیٹس شریف خاندان کی مشترکہ ملکیت ہیں لیکن اگر انھوں نے اس کی قانونی دستاویزات نہیں لگائیں تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

بریکنگ’رپورٹ کی جلد نمبر چار میں خطرناک دستاویز ہیں‘

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی جلد نمبر چار میں موجود دستاویز شریف خاندان کے لیے کافی خطرناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’رپورٹ کی جلد نمبر چار میں کافی خطرناک دستاویزات موجود ہیں'۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا اشارہ ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے ہے'۔

جے آئی ٹی رپورٹ
AFP

بریکنگ’شریف خاندان نے مختلف مواقع پر مختلف ذرائع بتائے‘

جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق شریف خاندان نے مختلف مواقع پر مختلف ذرائع بتائے ہیں۔ شریف خاندان نے ان فلیٹس کے بارے میں کبھی سعودی عرب کا نام لیا تو کبھی قطر کا ذکر کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی تمام سولات ثانوی ہیں۔

’ فلیٹس کب خریدے گئے اور وسائل کہاں سے آئے یہ اصل سوال ہے‘

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کب خریدے گئے، کن ذرائع سے خریدے گئے اور ان کے لیے وسائل کہاں سے آئے؟؟؟ ان کا مزید کہنا تھا باقی تمام سوالات ثانوی ہیں تاہم یہ اصل سوال ہے۔

’حصص دینے کا فیصلہ میاں شریف کرتے تھے‘

مریم نواز
Getty Images

جسٹس اعجاز افضل خان کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا نام حدیبیہ پیپر ملز کے مالکان کی فہرست میں آیا تھا۔ اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میاں شریف یہ فیصلہ کرتے تھے کہ کمپنی میں حصص کسے ملیں گے

بریکنگ’جے آئی ٹی نے فلیٹس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا‘

نواز شریف
Getty Images

سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے شریف خادان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا رقم کی کسی بھی ترسیل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول جے آئی ٹی نے فلیٹس کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا۔

اس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر کیا بات کر رہے ہیں۔

شریف خاندان کے وکیل نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا وزیرِاعظم اُن اثاثوں کے بھی ذمہ دار ہیں جو ان کے نام پر نہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِاعظم کا فلیٹس کے ساتھ براہِ تعلق ہوتا تو انھیں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا تھا۔

انھوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں فلیٹس سے متعلق تمام امور میاں شریف انجام دے رہے تھے۔

’تعلق کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ہونا ضروری‘

پاناما کیس کی سماعت کے موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو کہا کہ جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ کیس سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس پر خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق بے نامی دار جائیداد رکھنے والے شخص اور مالک کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے لیے شواہد کا ہونا ضروری ہے

بریکنگ’نواز شریف کے کوئی اثاثے نہیں ہیں‘

خواجہ حارث کے مطابق نواز شریف کے کوئی اثاثے نہیں ہیں۔ نیب کے قانون فائیو اے کے مطابق جائیداد اسی کی ہوتی ہے جس کے نام سے منسوب ہوتی ہو۔ جس کے جواب میں جسٹس عظمت سیعد نے کہا کہ قانون میں آمدن اور اثاثوں کے ذرائع کا بھی ذکر ہے۔

’سیاست میں رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘

مسلم لیگ نون کے رہنما عابد شیر علی جب سپریم کورٹ کےاحاطے میں پہنچے تو میڈیا کے نمائندوں نے انھیں بتایا کہ پیچھے پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن بھی آ رہے ہیں تو اس پر عابد شیر علی نے ان کا انتظار کیا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ سیاست میں رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے انھوں نے عابد شیر علی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ہم سیاسی مخالف ہونے کے باوجود ایک ساتھ آ رہے ہیں اور ہم عدلیہ کی تحفظ کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ‘ اس موقعے پر پیپلز پارٹی رہنما فیصل کریم کنڈی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

’حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے‘

عمران خان
Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے رہنا نعیم الحق نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے سربراہ عمران خان اسلام آباد میں موجود ہیں او ر اپنی مصروفیت کی وجہ سے عدالت نہیں آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا مسلم لیگ ن کے پاس اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور حکومت نے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا ہے۔

جمہوریت میں بال ٹمپرنگ کی اجازت نہیں ہوتی

مسلم لیگ نون کے رہنما عابد شیر علی نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا ’عمران خان جو خود کو بہادر سمجھتے ہیں وہ سپریم کورٹ کیوں نہیں آتے؟ کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ ‘ انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں بال ٹمپرنگ کی اجازت نہیں ہوتی۔ عابد شیر علی کا کہنا تھا نواز شریف نے اپنے خاندان کے کاروبار کے ساتھ وابستگی ختم کرلی تھی اور خاندان کے سربراہ میاں محمد شریف تھے جنھوں نے اپنی جائیداد باقی خاندان میں تقسیم کی۔

سماعت کے آغاز کا انتظار

سپریم کورٹ
BB

سپریم کورٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عابد حسین کے مطابق شیخ رشید، سراج الحق اور نعیم بخاری عدالت پہنچ چکے ہیں۔ عدالت میں لگ بھگ 80 افراد کے بیٹھنے کے گنجائش ہے تاہم اس وقت میڈیا کے نمائندوں سمیت سو افراد اندر موجود ہیں اور سماعت کے آغاز کا انتظار ہے۔

پولیس کے اضافی سکیورٹی اقدامات

سپریم کورٹ
Getty Images

سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال پر قابو پایا جائے سکے کیونکہ منگل کو عدالت کے باہر حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ایک دوسرے کے سامنے آگئے تھے اور اُنھوں نے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی تاہم وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروایا۔

’میری لڑائی بیماری کے خلاف ہے‘

سراج الحق
Getty Images

جماعتِ اسلامی کے امیر سراج الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں حکمران خود کو احتساب سے بالا تر سمجھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میری لڑائی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں بلکہ کرپشن کی بیماری کے ساتھ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ نسلوں کو کرپشن سے فری پاکستان ملے۔‘

’نواز شریف کے پاس استعفے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘

پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس استعفیٰ دینے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ ان کا کہنا تھا نواز شریف ڈٹے رہنے کے باتیں چھوڑیں اور جانے کی بات کریں۔ بصورتِ دیگر آپ نا اہل ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ کے باہر کڑی سکیورٹی

سپریم کورٹ
BBC
پاناما کیس سے متعلق سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی اہلکار

جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟

وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟

وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی اور اس کی تفتیش پر اعتراضات میں یہ بھی کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے برطانیہ میں باہمی قانونی معاونت کے لیے جس فرم کی خدمات حاصل کیں وہ ان کے رشتہ دار اختر راجا کی ہے جو برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟

’اُن کی اپروچ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا‘

منگل کو پاناما کیس کی سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'جے آئی ٹی نے برطانیہ کے متعلقہ اداروں کو ہی خط لکھا ہوگا۔ ملکہ کو تو چٹھی نہیں لکھی جا سکتی۔'

’اُن کی اپروچ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا‘