Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. پاکستان کی سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی رپورٹ موصول ہونے کے بعد پانچ دن تک پاناما کیس کی سماعت کر کے 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا۔
  2. تین مئی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا جو جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تھا۔
  3. پاناما کیس سے متعلق تحقیقات کے لیے 20 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی
  4. مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دو ماہ کی تحقیقات کے بعد 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی
  5. جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے رہن سہن اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے
  6. کیس کی دوبارہ سماعت پر عدالت نے کہا کہ شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

پاناما کیس کے پانچویں روز کی سماعت کی لائیو اپ ڈیٹس اختتام پذیر ہوئیں۔ تفصیلی خبر کے لیے کلک کریں

کیا انھیں پہلے سے فیصلے کی خبر ہے؟

معروف کالم نگار زاہد حسین نے ٹوئٹر پر پیغام میں سوال کیا کہ ’پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد تمام ٹی وی چینلز نواز شریف کے جانشین کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ کیا انھیں پہلے سے ہی فیصلے کی خبر ہے؟

All T.V channels now discussing Sharif's successor after court reserved judgement in Panama case. Do they already know the ruling?

بلاول
Getty Images

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سربراہی میں اہم رہنماؤں کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کے مختلف پہلووں پر غور کیا گیا۔

خیال رہے کہ رہے کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما بھی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وہاں مسلسل دکھائی دیتے رہے اور ان کی جانب سے یہی موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔

ظفر حجازی کو حراست میں لے لیا گیا

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سپیشل جج سینٹرل کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) ظفر حجازی کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ظفر حجازی کی 17 جولائی تک کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

بریکنگفیصلے کا پتہ نہیں لیکن۔۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں شیریں رحمان اور قمر الزمان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گذشتہ روز لواری ٹنل میں وزیراعظم نے جو کچھ کہا ہے وہ حکمران وقت کو نہیں کہنا چاہیے۔

قمر الزمان نے کہا میاں صاحب اور ان کے ساتھوں کو گھبراہٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے کندھوں پر اب بڑی ذمہ داری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے عدالت کے سامنے بہت سے مواقع ایسے آئے جنھیں ملک کو بدلنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن نہیں کیا گیا۔

کائرہ
BBC

بریکنگ’پاکستان کا تاریخی کیس‘

پاکستان تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کا احتساب کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب بار بار پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے جبکہ ان کے خلاف 28 کیس نیب پر کھلے ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ عدالت اگلے چند دن میں کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔

اسد عمر
BBC

بریکنگپاناما کیس کا فیصلہ محفوظ

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

’مقدمہ الیکشن کمیشن کو نہ بھجوائیں‘

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اپنے دلائل میں عدالت سے درخواست کی کہ وہ وزیراعظم کے خلاف مقدمہ الیکشن کمیشن کو بھجوانے کے بجائے خود ہی فیصلہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اب صادق اور امین نہیں رہے۔ انھوں نے دبئی کے حکام کو بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں وزیراعظم کے عہدرے پر کام کر رہے ہیں۔

’صرف مقدمہ ختم ہونے نہیں جا رہا‘

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج صرف مقدمہ ختم ہونے نہیں جا رہا بلکہ اب مخالفین کا آسرا ختم ہو رہا ہے اور ان کے پاس 2018 کے الیکشن میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین اداروں کا کندھا استعمال کرکے نواز شریف کو گرانا چاہتے ہیں۔

’بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی‘

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران وفقہ نہیں لیا گیا۔ تاہم سپریم کورٹ کے باہر حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما وزیراعظم نواز شریف کے حق میں میڈیا کے نمائیندوں سے گاہے بگاہے گفتگو کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے خاندان پر بدعنوانی ثابت نہیں ہوتی۔

MARYAM AURANGZEB
PID

شیخ رشید کی جانب سے جواب الجواب

اب عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید جواب الجواب دے رہے ہیں۔

sheikh rashid
AFP

اگر قطری خط کو نکال دیں تو ۔۔۔۔

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب میں کہا کہ اگر قطری خط کو ساری کہانی میں سے نکال دیا جائے تو نواز شریف کی لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ان کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔

نعیم بخاری کی جانب سے جواب الجواب جاری

سپریم کورٹ کے اندر پاناما کیس کی سماعت کے دوران اس وقت پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری کی جانب سے جواب الجواب جاری ہیں۔

NAEEM BUKHARI
BBC

نیب حدیپیہ پیپر ملز کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا

نامہ نگار آصف فاروقی نیب کے قائمقام پراسیکیوٹر اکبر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ وہ حدیبیہ پیپر ملز کا کیس اپنے طور پر نہیں کھول سکتے کیونکہ اسے لاہور ہائی کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم سوچ رہے ہیں کہ حدیپیہ پیپر ملز کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کریں۔`

نیب کے قائمقام پراسیکیوٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس کے خلاف اگلے ایک ہفتے کے اندر اپیل دائر کی جائے گی۔ جواب میں عدالت نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے اس اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات مانگ لی ہیں جس میں حدیبہ پیپرز ملز کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے پیش گئی معافی کی درخواست کو نیب نے قبول کیا تھا جس کے بعد اُن کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا گیا تھا۔

NAB
BBC

بریکنگاسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل مکمل

جسٹس عظمت سعید نے طارق حسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈار کے ساتھ انصاف کر لیا ہے، ہمیں بھی کرنے دیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جو دستاویز آپ نے پیش کی ہیں اس کو ضرور دیکھیں گے اور قانون سے انحراف نہیں کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہم بنیادی حقوق کو روندیں گے نہیں اور درخواست گزاروں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں گے، درخواست گزار ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن ہماری درخواست ہے کہ ہمیں اس معاملے میں مت گھسیٹیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔

بریکنگ’ بلاوجہ کے احتساب میں گھسیٹنا قبول نہیں‘

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کے دلائل جاری ہیں۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ جب جے آئی ٹی کے پاس اسحاق ڈار کا ریکارڈ ہی موجود نہیں تھا تو پھر ان کے خلاف فائنڈنگ کیسے دے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ڈرامائی کہانی ہے جس کو اب ختم ہونا چاہیے، اسحاق ڈار کافی عرصے سے سکروٹنی کی زد میں ہیں اور اب وہ تھک چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو اور بلاوجہ کے احتساب میں گھسیٹنا انھیں قبول نہیں ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک طرف آپ یہ بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں استحقاق مانگتے رہے، ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ کرنا اور کہنا کیا چاہتے ہیں۔

dar
Reuters

پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کمرہ عدالت میں گھنٹوں جاری رہنے والی سماعت کن مراحل سے گزر کر اخبارات یا ٹیلی وژن کی زینت بنتی ہے اور پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟ یہ تو وہی جانتے ہیں جو اس مشق کا حصہ ہیں یعنی رپورٹر اور کیمرہ مین۔ پڑھیے اس رپورٹ میں۔

media
BBC

اسحاق ڈار کے خلاف جے آئی ٹی کی رپورٹ ’بدنیتی پر مبنی‘

نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن ایڈوکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کو حدیبیہ پیپرز مِل میں بے گناہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے موکل ٹیکس ادا کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جان بوجھ کر ان کے خلاف رپورٹ دی ہے اور اس کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور اگرعدالت چاہے تو اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ کسی بھی انٹرنیشنل آڈٹ فرم سے آڈٹ کروا سکتی ہے۔

بریکنگاسحاق ڈار کا 34 سالہ ٹیکس ریکارڈ

ٹیکس ریکارڈ
BBC

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے ان کی جانب سے ٹیکس کا 34 سالہ ریکارڈ بڑے بڑے بکسوں میں بند کر کے عدالت میں پیش کیا۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر اس میں کوئی کام کی چیز ہے تو ہمیں بتائیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں یہ بکسے صرف ٹی وی کی زینت ہی بنیں گے۔

جسٹس اعجاز افضل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان بکسوں کی سکیورٹی کلیئرینس کیسے ہو گئی۔

بریکنگ’وزیراعظم نے ہمارے کا لفظ استعمال کیا‘

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وزیراعظم نے قومی اسملبی میں کی جانے والی تقریر میں اپنے اثاثوں اور کاروبار کا ذکر کرتے ہوئے ’ہمارے‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو خاندان سے الگ نہیں کر رہے۔ وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو اپنی جو دستاویز دی تھیں اس کی نقل ہمیں نہیں دی گئی۔ اگر دے دی جاتی تو ہو سکتا ہے کہ نوبت یہاں تک نہ آتی۔

nawaz
AFP

بریکنگسلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل

نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کر لیے ہیں اور اب اسحاق ڈار کی جانب سے طارق حسن دلائل دے رہے ہیں۔

بچوں نے اگر غلط کام کیا تو والد پر اثر نہیں پڑتا

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو رقوم اپنے دادا شریف حسین اور والد نواز شریف سے ملیں۔ اور اگر میرے موکلین نے کوئی غلط کام بھی کیا ہے تو اس کا اثر فریق نمبر ایک یعنی وزیراعظم نواز شریف پر نہیں پڑتا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔

مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز
PMLN

بریکنگ’بہت سے وکلا سنیچر اور اتوار کو بھی کام کرتے ہیں‘

نامہ نگار آصف فارقی کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے عدلات کو بتایا کہ لندن میں بہت سے ایسے وکلا ہیں جو سنیچر اور اتوار کو بھی کام کرتے ہیں اور انھوں نے ایسے وکلا کی ایک فہرست بھی عدالت کو فراہم کی۔ جواب میں جسٹس اعجاز افضل نے سلمان اکرم راجہ سے پوچھا کہ کیا اس فہرست میں اس وکیل کا نام بھی شامل ہے جس نے اپ کی دستاویز نوٹرائز کی ہیں۔ جواب میں سلمان اکرم راجہ نے کہا نہیں۔

کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مقدمہ نیب کو بھجوا دیا جائے

پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کیا آپ ہم نے یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس نیب کو بھجوا دیا جائے۔

اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا ’کہ میں نیب کا ذکر نہیں کر رہا میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کیس کی جامع تحقیقات کروائی جائیں۔‘

جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کھولنے کا فیصلہ

بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر دس کو کھولنے کا فیلصہ کیا ہے۔

اسم وقع ہر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ والیم 10 کھولنے سے بہت سی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔

jit
AFP

سماعت کا آغاز

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کے بچوں حسن، سین اور مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ دلائل دے رہے ہیں۔

قوم کی نگاہیں عدالت پر

پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنما سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے موقع پر موجود ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قوم کی نگاہیں سپریم کورٹ پر ہیں۔

’لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت نہ ہوئے تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا‘

جمعرات کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ آج بھی عدالت اپنے بنیادی سوال پر ہے کہ ان فلیٹوں کی خریداری کے لیے پیسہ کہاں سے آیا تھا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر اعظم کے بچوں جن میں مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز شامل ہیں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین نے ایسا کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ اُن کے موکل حسین نواز نے یہ فلیٹس 2006 میں خریدے تھے۔ اس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں پر الزام ہے کہ جب لندن میں یہ فلیٹس خریدے گئے تو اس وقت اُن کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزار کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم سے پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ 'لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے'۔ اُنھوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے

sharif family
AFP

’وزیراعظم کے استعفیٰ دینے سے جمہوریت کو خطرہ نہیں ہوگا‘

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھی پاناما کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سینیٹرز نے ایک بار پھر وزیرِاعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ میں سینیٹر تاج حیدر نے پاناما کیس پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور قومی اداروں بشمول سپریم کورٹ آف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور بد نیتی پر مبنی حملے کی تحاریک پیش کیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مسلم لیگ ن کے سینٹرز کو مخاطب کر کے کہا کہ 'میں اپنی ذاتی حیثیت میں مشورہ دے رہا ہوں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف پر سنگین الزامات لگ گئے ہیں اور وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔‘

فرحت
AFP

سماعت کچھ دیر بعد

پاکستان کی سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا آج مسلسل پانچواں دن ہے۔ یہ کیس وزیراعظم ان ان کے بچوں کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ سماعت کا آغاز کچھ دیر میں ہو گا جبکہ اس وقت سپریم کورٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ روز پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی کر رہے ہیں نے کہا تھا کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔