Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر تین مقدمات
  2. مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر ایک مقدمہ
  3. حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کے آغاز کرنے کا حکم
  4. عدالت نے ان حسن اور حسین نواز کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے
  5. حسن نواز اور حسین نواز کا مقدمہ الگ سے ٹرائل کرنے کی استدعا منظور

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

اس بارے میں خبر کی تفصیل کے لیے اس لنک پر کلک کریں

بدمزگی کے بعد کارروائی ملتوی، فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

تحقیقات کا حکم

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری نے عدالت کے باہر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جج محمد بشیر چوہدری نے حکم دیا کہ ذمہ داری کے خلاف کارروائی کی جائے اور عدالت کو ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔

’ایسے مارا، جیسے کوئی دہشت گرد ہوں‘

سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے قبل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر وکلا پر ہونے والے تشدد کے بعد وکلا کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ انھوں نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری کو بتایا کہ جب عدالت نے وکلا کی آمد پر پابندی نہیں کی تو انھیں اندر کیوں نہیں آنے دیا گیا۔

نامہ نگار کے مطابق کمرہِ عدالت کے اندر بھی وکلا کا آپس میں جھگڑا ہو گیا۔ عدالت میں نعرے بازی اور شور شرابے کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت ہونے سے پہلے ہی سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت کے باہر احتجاج

نامہ نگار ذیشان حیدر کے مطابق اس وقت جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور وہ نعرے بازی کر رہے ہیں جبکہ پولیس اہلکار انھیں کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بریکنگسماعت بغیر کارروائی کے ملتوی

مریم نواز
BBC

احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تین مقدمات میں فردِ جرم عائد کیا جانا تھی تاہم سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے اندر احاطہِ عدالت میں داخل ہونے کے بعد جوڈیشل کمپلیکس کے دروازے بند کر دیے گئے تھے۔ تاہم عدالت کے اندر وکلا کی بڑی تعداد کے احتجاج کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی۔ مریم نواز واپس جا چکی ہیں۔

جوڈیشل کمپلیکس آمد

سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور ان کے شوہر محمد صفدر عدالت میں پیشی کے لیے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ دونوں الگ الگ گاڑیوں میں عدالت پہنچے۔ میڈیا کے نمائندوں نے محمد صفدر سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے میڈیا سے بات نہیں کی۔

مریم نواز
BBC
احتساب عدالت
bbc

نامہ نگار شیراز حسن کے مطابق اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کڑی سکیورٹی کے باعث اندورنی احاطے میں ماحول فی الحال کافی پرسکون ہے۔ مریم صفدر پیشی کے لیے روانہ ہو چکی ہیں تاہم اب تک عدالت نہیں پہنچیں۔ احتساب عدالت کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی نعرے بازی جاری ہے۔

احتساب عدالت
BBC

قانونی طور پر مقدمات میں عدالت کی جانب سے ملزم کی موجودگی میں فردِ جرم عائد کی جاتی ہے تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت مخصوص حالات میں ملزم کی عدم موجودگی میں بھی فردِ جرم عائد کر سکتی ہے۔

حسن، حسین نواز اشتہاری قرار

احتساب عدالت نے اس مقدمے میں نواز شریف کے دونوں بیٹے حسن نواز اور حسین نواز کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سماعت کے بعد مریم صفدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے بھائی پاکستان میں نہیں رہتے ہیں اس لیے اُن پر یہاں کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

نواز شریف کو استثنیٰ

نواز شریف
Getty Images

سابق وزیراعظم نواز شریف اس سے پہلے دو اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن انھوں نے اپنی اہلیہ کے علیل ہونے کے سبب گذشتہ سماعت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی تھی۔ جسے عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

نواز شریف کے وکلا نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ مقدمے کی سماعت پندرہ دن کے لیے ملتوی کر دی جائے، جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔

احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی

اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حفظتی انتظامات کے لیے پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

سکیورٹی
BBC

شریف خاندان کی لندن سے واپسی

مریم نواز
Getty Images

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر اور اُن کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر گذشتہ ہفتے لندن سے پاکستان آئے تھے جبکہ نواز شریف لندن میں ہی مقیم ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لندن میں ہیں جہاں اُن کی اہلیہ کلثوم نواز کینسر کے مرض کے باعث زیرِ علاج ہیں۔

لندن سے پاکستان واپس پہنچنے پر نیب کے اہلکاروں نے کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو اسلام آباد ایئر پورٹ سے گرفتار کر لیا تھا۔

گذشتہ ماہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر احتساب عدالت نے رواں ماہ کی دو تاریخ کو محمد صفدر کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ جس کے بعد نو اکتوبر کو مریم صفدر اور اُن کے شوہر احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

احتساب عدالت میں پیشی

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر اور اُن کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر آج احتساب عدالت میں دوبارہ پیش ہو رہے ہیں، جہاں اُن پر فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

پاناما لیکس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اُن کے بچوں، داماد اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔