Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

امریکہ کے صدارتی انتخاب پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج اپنے اختتام کو پہنچی۔ اب یہ صفحہ اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا اور مزید معلومات کے لیے بی بی سی اردو کے خصوصی ضمیمے سے استفادہ کریں۔

trump supporter
Getty Images

بریکنگامریکی ریاستوں نے کسے ووٹ دیا: انٹرایکٹو نقشہ

ہم مل کر کام کریں گے: ٹرمپ

trump
Reuters

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فتح کی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھی ابھی ہلیری کلنٹن نے فون کر کے ہمیں، ہم سب کو مبارک باد دی ہے۔‘

ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ’ہلیری کلنٹن نے بڑا سخت مقابلہ کیا اور میں امریکہ کے لیے ان کی کوششوں کی قدر کرتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے شروع ہی سے کہا تھا کہ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ تحریک تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے حصہ لیا جو چاہتے تھے کہ حکومت لوگوں کی خدمت کرے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم مل کر کام کریں گے اور امریکہ کو عظیم بنائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر منتخب

trump
BBC

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ ہلیری کلنٹن کو شکست دے کر امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

انھوں نے یہ فتح کئی کلیدی ریاستوں میں یک بعد دیگرے کامیابی کے بعد حاصل کی، حالانکہ گذشتہ کئی ماہ سے رائے عامہ کے جائزوں میں کلنٹن کو ان پر برتری حاصل تھی۔

فلوریڈا، اوہائیو اور شمالی کیرولائنا جیسی اہم سوئنگ سٹیٹس میں ٹرمپ کی کامیابی نے ان کی فتح کا راستہ ہموار کیا۔

عالمی مارکیٹوں میں اتھل پتھل جاری ہے اور ڈاؤ میں 800 پوائنٹس کی کمی واقع ہو گئی ہے۔

’ہلیری آج شب خطاب نہیں کریں گی‘

ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے سربراہ جان پوڈیسٹا نے کہا ہے کہ ہلیری آج شب خطاب نہیں کریں گی اور ان کے پاس آج کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ہر ووٹ اہم ہے۔ کئی ریاستوں میں سخت ترین مقابلہ ہے اس لیے ابھی میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں۔ میں اس ہال اور ملک بھر میں موجود ہر شخص کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی آواز اور جوش و جذبہ ان (ہلیری) اور ہم سب کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ ہمیں آپ پر فخر ہے اور ہمیں ہلیری پر بھی فخر ہے۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور وہ ابھی رکی نہیں ہیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ ان کے ساتھ رہے ہیں اور وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گی۔ شب بخیر۔

ریاست مین میں ووٹ منقسم

اے بی سی نیوز کے تخمینے کے مطابق ریاست مین میں ہلیری کلنٹن نے جیت کر چار میں سے تین الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیے ہیں، جب کہ ٹرمپ نے ایک ووٹ حاصل کیا ہے۔

اب ٹرمپ کے کل الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 245 ہو گئی ہے جب کہ ہلیری کلنٹن نے 218 ووٹ حاصل کر رکھے ہیں۔

روایتی طور پر مین خالص ڈیموکریٹ ریاست رہی ہے، اور 2008 میں اوباما نے یہاں 17 فیصد کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

مین کا شمار امریکہ کی ان دو ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں الیکٹورل ووٹ منقسم ہو سکتے ہیں۔ دوسری ریاست نیبراسکا ہے۔

سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ؟

بی بی سی کی کیٹی کے کہتی ہیں کہ ’جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ سیاست میں سب سے بڑا اپ سیٹ ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ وہ امیدوار ہیں جن کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا، جنھوں نے ’قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی، جنھوں نے رائے عامہ کے جائزوں اور تمام پیشن گوئیوں کو غلط ثابت کر دیا۔

ایوانِ نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کی برتری

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق رپبلکن پارٹی نے ایوانِ نمائندگان میں برتری حاصل کر کے اپنی چھ سالہ برتری میں توسیع کر لی ہے۔

ابھی ووٹوں کی گنتی جاری ہے لیکن رپبلکنز نے 218 نشستیں جیت کر برتری حاصل کر لی ہے۔

بعض رپبلکنز کو خدشہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی منقسمانہ امیدواری کی وجہ سے انھیں نقصان ہو گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

دوسری جانب سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو گھاٹے کا سامنا ہے اور وسکانسن، شمالی کیرولائنا، انڈیانا اور فلوریڈا میں رپبلکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔ 

capitol
Getty Images

کلنٹن کے ہیڈکوارٹر پر مایوسی کے بادل

کلنٹن
Twitter

ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ کلنٹن کے حامی ان کی بڑی کامیابی کی پیشن گوئیاں کر رہے تھے۔ لیکن آج رات کے نتائج نے انھیں غلط ثابت کر دیا ہے۔ بی بی سی کے کرس گبسن کہتے ہیں کہ نیویارک میں کلنٹن کے حامیوں پر مایوسی کا عالم طاری ہے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ آج کی خبروں سے انھیں متلی آ رہی ہے۔

نیواڈا میں کلنٹن فاتح

ہلیری
BBC

سوئنگ سٹیٹس میں شامل ریاست نیواڈا میں ہلیری کلنٹن نے کامیابی حاصل کر کے چھ ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔ اب ان کے ووٹوں کی تعداد 215 ہو گئی ہے، تاہم وہ اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے 244 الیکٹرول ووٹوں سے بہت پیچھے ہیں۔ گذشتہ نو انتخابات میں یہاں جو امیدوار جیتا ہے، وہی امریکی صدر بنتا ہے۔ 

امریکہ کے لیے عظیم رات: ٹرمپ کے مشیر

ٹرمپ کے سینیئر پالیسی مشیر کرٹس ایلس نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ زبردست رات ہے۔ یہ امریکہ کے لیے عظیم رات ہے۔ یہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے عظیم رات ہے۔‘

michigan
AFP

نتائج کا انتظار

بی بی سی اردو کی ارم عباسی ٹائمز سکوائر میں موجود تھیں جہاں انھوں نے عوام سے اب تک کے نتائج پر بات کی۔

View more on facebook

ہلیری کے حامیوں میں مایوسی

Hillary Clinton's supporters left in tears as Donald Trump leads #ElectionNight bbc.in/2eRIgDesnpy.tv/2fYU8Y6

جارجیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب

جارجیا میں 1996 سے رپبلکنز جیتے چلے آئے ہیں تاہم حالیہ انتخابات میں ان کی کامیابی کا تناسب کم ہوتا چلا جا رہا تھا، اس لیے ٹرمپ کو یہاں فتح سے خوشی ہو گی۔ اب ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 244 ہو گئی ہے جب کہ کلنٹن نے 209 ووٹ حاصل کر رکھے ہیں۔

کلنٹن کیمپ کو مشی گن کا انتظار

Clinton is edging closer in Michigan, but a win there won't matter if she loses Wisconsin, Arizona and New Hampshire

Clinton is edging closer in Michigan, but a win there won't matter if she loses Wisconsin, Arizona and New Hampshire

واشنگٹن میں کلنٹن، آئیووا میں ٹرمپ کامیاب

 اے بی سی نیوز کے مطابق ایک اور مغربی ریاست میں واشنگٹن میں ہلیری کلنٹن نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اس کے علاوہ آئیووا میں ٹرمپ نے فتح حاصل کی ہے۔ 

الیکٹورل ووٹوں کی تازہ ترین گنتی کے مطابق ٹرمپ نے 228، جب کہ کلنٹن نے 209 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ریاست اوریگن میں کلنٹن، یوٹا میں ٹرمپ کامیاب

اے بی سی نیوز نے مغربی ساحلی ریاست اوریگن میں ہلیری کلنٹن کی جیت کا اعلان کیا ہے، جب کہ یوٹا میں ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں۔

براک اوباما نے 2012 میں یہاں 12 فیصد ووٹوں کے فرق سے فتح حاصل کی تھی۔ یہ ریاست 1988 سے ڈیموکریٹ رہی ہے۔ 

دوسری جانب 2012 میں رپبلکن امیدوار رومنی یوٹا سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔

تازہ ترین نتائج کے مطابق ہلیری کلنٹن نے اب تک 197 جب کہ ٹرمپ نے 222 لیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

بریکنگاہم سوئنگ سٹیٹ فلوریڈا میں ٹرمپ کامیاب

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور اہم سوئنگ سٹیٹ فلوریڈا میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس ریاست سے ٹرمپ کو 29 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوں گے۔ یہاں 2008 اور 2012 میں اوباما جیتے تھے۔

اس فتح کے نتیجے میں ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 222 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہلیری کے ووٹوں کی تعداد 209 ہے۔

trump
BBC

کلنٹن کیمپ پرامید، ٹرمپ کے حامی پرجوش

trump camp
Reuters

کلنٹن کے ایک سینیئر مشیر نے اخبار وال سٹریٹ جرنل اخبار کو بتایا: ’ہمیں پینسلوینیا اور مشی گن سے اچھی توقعات ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ نیوہیمپشائر بھی ہمارے لیے اچھا ثابت ہو گا۔ 270 تک سفر کے لیے نیو ہیمپشائر یا نیواڈا کلیدی حیثیت کے حامل ہوں گے۔‘ 

دوسری جانب ٹرمپ اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنے ہیڈکوارٹر سے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ نائب صدارتی امیدوار مائیک پینس بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ 

بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق ٹرمپ کے کیمپ میں لوگوں کا جوش و خروش ہلیری کےکیمپ سے کہیں زیادہ ہے۔

بریکنگٹرمپ ایک اور اہم سوئنگ سٹیٹ میں کامیاب

trump
BBC

بریکنگکیلیفورنیا ہلیری کی، ٹرمپ شمالی کیرولائنا میں کامیاب

امریکہ کی 50 میں سے 35 ریاستوں کے انتخابی نتائج کا اعلان سامنے آ چکا ہے۔

اندازوں کے عین مطابق ہلیری کلنٹن آبادی کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ یہاں سے انھیں 55 الیکٹورل ووٹ ملے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 190 ہوگئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ بھی آئیڈاہو اور شمالی کیرولائنا میں جیت گئے ہیں اور اب ان کے ووٹوں کی تعداد 187 تک پہنچ چکی ہے۔

بریکنگپہاڑی ریاست کولوراڈو میں کلنٹن فاتح

colorado
BBC

اے بی سی نیوز کے مطابق امریکہ کی سب سے پہاڑی ریاست کولوراڈو ہلیری کلنٹن کے نام ہو گئی ہے۔

کولوراڈو بھی ایک سوئنگ سٹیٹ تصور کی جاتی ہے۔ 2008 اور 2012 میں یہاں براک اوباما نے کامیابی حاصل کی تھی۔

اب تک 31 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق ٹرمپ کو 168 جب کہ کلنٹن کو 131 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔

پال رائن کو ’امریکہ کے لیے اچھی رات‘ کی توقع

ایوانِ نمائندگان میں رپبلکن پارٹی کے سربراہ پال رائن نے اپنی آبائی ریاست وسکانسن میں کہا: ’یہ امریکہ کے لیے بہت اچھی رات ہو سکتی ہے۔‘

رپبلکن پارٹی کے سب سے اہم عہدے پر فائز پال رائن کے تعلقات اپنی ہی جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے سخت کشیدہ رہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ مہینے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کا دفاع نہیں کریں گے۔

رائن کو امید ہے کہ وہ ایوانِ نمائندگان میں اپنا عہدہ برقرار رکھیں گے۔ توقع ہے کہ ایوان میں رپبلکنز ہی کی اکثریت رہے گی۔

U.S House Speaker @SpeakerRyan wins re-election to Congress and thinks it could be a "good night" for Republicans snpy.tv/2fCtHDy

بریکنگورجینیا کلنٹن کے نام

virginia
BBC

ورجینیا میں جوں ہی ہلیری کلنٹن کی جیت کا اعلان کیا گیا، ان کے حامی خوشی سے اچھل پڑے۔ یہ کلنٹن کی بڑی فتح ہے، تاہم یہاں ٹرمپ نے سخت مقابلہ کیا۔

اب تک 30 ریاستوں کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے، جن میں ٹرمپ نے 168 جب کہ ہلیری کلنٹن نے122 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

بریکنگ’فتح گر‘ ریاست اوہایو میں ٹرمپ کامیاب

ohio
BBC

تازہ ترین نتائج کے مطابق ریاست اوہائیو میں ٹرمپ کی جیت کا اعلان کر دیا گیا ہے، جہاں سے انھوں نے 18 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں اور اب ان کے کل ووٹوں کی تعداد 168 ہو گئی ہے جبکہ ہلیری نے اب تک 109 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پچھلے 48 برسوں سے ریاست اوہائیو ہی امریکی صدر کو منتخب کرتی چلی آئی ہے، یعنی جو امیدوار یہاں سے جیتا ہے، وہی امریکی صدر بنا ہے۔

نیومیکسیکو میں کلنٹن، مزوری میں ٹرمپ فاتح

ابھی تک 28 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں جن کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 150، جب کہ ہلیری کلنٹن نے 109 الیکٹورل ووٹ حاصل کر رکھے یں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نیو میکسیکو میں کلنٹن جب کہ مزوری میں ٹرمپ کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

نیو میکسیکو ایک زمانے میں سوِنگ سٹیٹ کہلاتی تھی، لیکن حالیہ انتخابات میں وہ واضح طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب جھکی ہے۔ 2012 میں براک اوباما نے یہاں سے 53 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

مزوری نے گذشتہ چار انتخابات میں رپبلکن امیدواروں کو جتوایا ہے۔ چار برس قبل یہاں سے مٹ رومنی نے براک اوباما کو شکست دی تھی۔

انتخابات
Twitter

ریاست مونٹانا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت متوقع

نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کا کہنا ہے کہ ریاست مونٹانا کے تین الیکٹورل ووٹ ٹرمپ جیت جائیں گے۔ 1992 میں بل کلنٹن کی جیت کے علاوہ یہ ریاست 1968 سے ریپلکن پارٹی کے حق میں رہی ہے۔

فیصلہ کن ریاستوں سے نتائج آنا باقی ہیں

26 ریاستوں کے نتائج آ چکے ہیں، جن کی بنیاد پر نیویارک ٹائمز اور دوسرے اداروں نے پیشن گوئی کی ہے کہ ٹرمپ جیت سکتے ہیں، تاہم یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ فیصلہ کن ریاستوں سے ابھی نتائج موصول نہیں ہوئے۔

فی الحال اوہائیو، پینسلوینیا، ورجینیا، فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا جیسی ریاستوں سے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

ٹرمپ
Twitter

ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کا امکان: نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے پیش گوئی کرنے کے لیے الگوردم کے مطابق ٹرمپ کے جیتنے کا امکان 53 فیصد ہے۔

The NYT algorithm is now predicting a 53 percent chance that Trump will win nytimes.com/elections/fore…

کلنٹن کے لیے قبل از وقت فتح کے آثار نہیں

ہلیری اور ٹرمپ
AFP

بعض مبصرین نے کہا تھا کہ اگر کلنٹن فلوریڈا جیسی اہم ریاست میں کامیابی حاصل کر لیں تو وہ رات کی ابتدا ہی میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ تاہم اس وقت ٹرمپ آگے ہیں اور جورجیا جیسی اہم ریاستوں کا فی الحال فیصلہ نہیں ہوا، اس لیے بظاہر نظر آتا ہے کہ فاتح کا پتہ چلنے میں ابھی وقت لگے گا۔

ٹرمپ کی کارکردگی اندازوں سے کہیں بہتر

نیویارک میں ہلیری کلنٹن کے کیمپ میں موجود بی بی سی کے برجیش اپادھیائے کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک ڈیموکریٹس کو ان کا گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں پریشان کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن ڈانواڈول ریاستوں میں ان کی کارکردگی اندازوں سے کہیں اچھی ہے۔ 

کنیکٹیکٹ میں ہلیری کی جیت

 امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے مطابق ریاست کنیکٹیکٹ سے ہلیری کلنٹن جیت گئی ہیں۔ یہ ریاست ماضی میں بھی ڈیموکریٹس کی حامی رہی ہے۔  

ہلیری کے حامی
Getty Images

ٹرمپ اور ہلیری کو منتخب کرنے والی ریاستیں

امریکی ووٹر
Getty Images
  • اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کرنے والی ریاستوں میں انڈیانا، الاباما، کینٹکی، مغربی ورجینیا، اوکلاہوما، ٹینیسی، جنوبی کیرولائنا، ٹیکسس، شمالی ڈکوٹا، جنوبی ڈکوٹا، کنسس، میسپسی، نبراسکا اور وائیومنگ  شامل ہیں۔
  • ہلیری کلنٹن کو ریاست ورمونٹ، ڈیلاویئر، میری لینڈ، میساچوسٹس، نیوجرسی، نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، میری لینڈ، الینوائے اور رہوڈ آئی لینڈ میں فتح ملی ہے۔

امریکی صدارتی انتخاب، ٹرمپ کی برتری

America
Getty Images

امریکہ میں صدارتی انتخاب میں پولنگ کے بعد 50 میں سے 25  ریاستوں کے ابتدائی نتائج آ گئے ہیں۔

رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد 137 ہے جبکہ ہلیری کلنٹن کے الیکٹورل ووٹ 104  ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں کامیب ہونے والے امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرے۔

رپبلکنز ایوانِ نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب

JUST IN: Republicans will retain control of the House, @ABC News projects. abcn.ws/2fAMcvL #Election2016

صدارتی انتخاب اور عالمی معیشت

دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کی نظریں امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج پر ہیں۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق ہلیری کی کامیابی کی خبر پر امریکی ڈالر کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب روس کے تجزیہ کاروں کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر بننا چاہیے۔ ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس کا ذرائع ابلاع ٹرمپ کی تعریف کر رہا ہے۔