Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. استغاثہ کا کہنا ہے کہ برلن کی مارکیٹ میں حملے کے ملزم انیس عامری کو پولیس نے میلان میں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے
  2. پولیس کا کہنا ہے کہ اسے سیستو سان جیووانی کے علاقے میں معمول کی گشت کے دوران روکا گیا تھا
  3. جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ عامری کی انگلیوں کے نشانات پیر کے روز حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک کے اندر سے ملے تھے
  4. اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہو گئے تھے

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

پولیس اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے پر تنقید

بی بی سی کے جولیاں مگلیرینی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ انیس عامری کی ہلاکت کے آپریشن کے لیے اٹلی کے وزیرِ داخلہ مینیتی کی تحسین کی جا رہی ہے، لیکن بعض لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ اس دوران پولیس اہلکاروں کی شناخت کیوں ظاہر کی گئی ہے۔

برطانیہ میں سکیورٹی سخت کر دی گئی

لندن میں بکنگھم پیلس میں محافظوں کی تبدیلی کے وقت سڑکیں بند کر دی جائیں گی، جب کہ نیو کاسل، ایس مڈ لینڈ اور دوسرے شہروں میں مسلح پولیس اہلکار گشت کریں گے۔

UK security
Notts TV

میلان پولیس کو عامری کے بارے میں ’مخبری نہیں ہوئی تھی‘

میلان پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ شہر کی پولیس کو اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ انیس عامری وہاں موجود ہیں۔ 

اس سے قبل بعض اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ عامری شہر میں موجود ہیں جس کے بعد انھیں روکا گیا۔ تاہم اب انتونیو دے آیسو نے کہا ہے کہ جن پولیس اہلکاروں نے عامری کو روکا، وہ معمول کی گشت پر تھے۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں اس بات کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ وہ میلان میں ہو سکتے ہیں۔ انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا ورنہ وہ زیادہ احتیاط برتتے۔‘

ٹرک ڈرائیور کے خاندان کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ کا چندہ

پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ٹرک ڈرائیور لوکاچ اربان کے خاندان کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم نے اب تک 50 ہزار پاؤنڈ اکٹھے کر لیے ہیں۔ اربان پیر کے روز برلن حملے میں ہلاک مارے گئے تھے۔

یہ آن لائن چندہ مہم اربان کے ساتھی ٹرک ڈرائیور ڈیو ڈنکن نے برطانوی شہر ویسٹ یارک شائر شروع کی تھی، اور اس میں اب تک 3700 افراد نے شرکت کی ہے۔

کیا عامری کے ساتھ کوئی اور بھی تھا؟

جرمنی کے وفاقی استغاثہ افسر پیٹر فرینک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا ہے کہ تفتیش کار اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا انیس عامری کے ساتھ کوئی اور بھی برلن میں حملے میں ملوث تھا یا نہیں۔

’یہ بہت تکلیف دہ ہے‘

انیس عامری کی والدہ نے اپنے بیٹے کی ہلاکت پر یورپی حکام پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تیونس میں اپنے گھر میں نور الہدیٰ حسنی نے جرمن اخبار ڈوئچے ولے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’اٹلی اور جرمنی میں سکیورٹی سے متعلقہ افراد بھی اس کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔

 ’وہ اسے دو یا تین بار پہلے گرفتار کر چکے تھے (برلن حملے سے پہلے)۔ انھوں نے اسے واپس تیونس کیوں نہیں بھیجا؟ اس کو سزا کیوں نہیں دی؟ اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟‘

 ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘  

عامری
Reuters

اطالوی وزیراعظم کا خراج تحسین

اطالوی وزیراعظم پاؤلو گنٹلونی نے پولیس مقابلے میں شامل دو پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ لا سٹمپا ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے کہا ’اٹلی کو اپنی سکیورٹی فورسز پر فخر ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس آزمائش میں خاص طور پر کرسچین موویو کے شکر گزار ہیں جو زخمی ہوئے، اور ان کے ساتھی لوکا سکاٹا کے۔ ان اہلکاروں نے انتہائی ہمت اور پیشہ ورانہ کام کا مظاہرہ کیا۔‘

italy
AFP

انیس عامری کی ہلاکت، جائے وقوعہ کے مناظر

اطالوی شہر میلان میں پولیس اور انیس عامری کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد جائے وقوعہ کے مناظر

برلن حملے کے ملزم کی میلان میں ہلاکت

زخمی ہونے والے اطالوی پولیس اہلکار

اطالوی پولیس کی جانب سے جاری کردہ انیس عامری کی گولی سے زخمی ہونے والے پولیس اہکار کرسچین موویو کی تصویر

This is Cristian Movio - the police officer injured by #AnisAmri in shootout in #Milan - picture from… twitter.com/i/web/status/8…

فرانس سے میلان کا سفر

اطالوی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق انیس عامری سے ملنے والی ریلوے ٹکٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ فرانس کے جنوب مشرقی شہر چیمبری سے تورین اور پھر میلان گئے تھے۔  

وہ لمحہ جب ٹرک کرسمس مارکیٹ سے ٹکرایا

برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ میں ٹرک کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا۔ اب حملے کے وقت کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ایک گاڑی کے ڈیش کیمرے سے بنائی گئی اس ویڈیو میں ٹرک کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اطالوی وزیرِ اعظم نے جرمن چانسلر کو فون کر کے مطلع کیا

اطالوی وزیرِ اعظم پاؤلو جینتیلونی نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا ہے کہ انھوں نے جرمن چانسلر انگلیلا میرکل کو فون کر کے انیس عامری کی ہلاکت کے بارے میں بتایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

gentiloni
APTN

سکیورٹی اچھا کام کر رہی ہے: اطالوی وزیر

اطالوی وزیرِ داخلہ مارکو منیتی نے پولیس اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’جونھی یہ شخص ہمارے ملک میں داخل ہوا وہ یورپ کا سب سے مطلوب شخص تھا۔ ہم نے فوراً ہی اسے شناخت کر کے اسے ختم کر دیا۔ اس کا مطلب ہے ہماری سکیورٹی بہت اچھا کام کر رہی ہے۔‘

milan
EPA

شوٹنگ کے بارے میں مزید تفصیلات

اطالوی پولیس نے کہا ہے کہ جب عامری کو روکا گیا تو انھوں نے بیک پیک میں سے پستول نکال لیا، اور ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے گولی چلا دی جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔ ایک اور پولیس اہلکار نے عامری پر گولی چلا کر انھیں ہلاک کر ڈالا۔ اس اہلکار کو پولیس کی نوکری شروع کیے ابھی صرف نو ماہ ہوئے تھے۔ 

اخباروں میں سرخیاں چھپ گئیں

جرمن اخباروں نے انیس عامری کی ہلاکت کی خبر نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ ٹیبلوئڈ بلڈ نے لکھا: ’معاملہ ختم! دہشت گردی کا ملزم انیس عامری میلان میں مارا گیا۔‘  

amri
Bild

میلان بھی برلن حملے کی تفتیش میں شامل ہو گیا

میلان میں پولیس مقابلے کے مقام پر صحافی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ عامری 2015 میں جرمنی جانے سے قبل اٹلی میں مقیم تھے۔ انھوں نے جرمنی جا کر وہاں پناہ کی درخواست دی تھی۔

milan
AP

’جب عامری کو روکا گیا تو وہ اکیلا تھا‘

میلان میں موجود بی بی سی کے پروڈیوسر جولیان مگلیرینی نے کہا ہے کہ عامری فرانس سے اٹلی آنے کے بعد بظاہر اکیلے جا رہے تھے کہ انھیں پولیس نے شبے کی بنا پر ریلوے سٹیشن کے قریب روکا۔

انگلیوں کے نشانات سے شناخت

انیس عامری کو جمعے کو تین بجے کے قریب اٹلی کے شہر میلان میں پولیس نے روکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس کی انگلیوں کے نشانات سے معلوم ہوا کہ وہ پیر کو برلن میں ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے کا ملزم تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد سے جرمنی میں ہائی الرٹ نافذ تھا۔

اس سے قبل جرمن پولیس نے اوبرہاؤزن شہر میں دو افراد کو حملے کی منصوبہ بندی کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔

جرمن حکام نے تصدیق کی ہے کہ انیس عامری کی انگلیوں کے نشانات اس ٹرک کے اندر موجود تھے جس کو برلن میں 12 افراد کو ہلاک اور 49 کو زخمی کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

خود کو پولیس کے حوالے کر دیں: اہلِ خانہ کی اپیل

اس سے پہلے برلن ٹرک حملے میں مبینہ طور پر ملوث انیس عامری کے اہل خانہ نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیں۔

انیس عامری کے بھائی عبدالقادر عامری نے کہا ہے کہ ان کو پورا یقین ہے کہ ان کا بھائی بےقصور ہے اور اگر نہیں ہے تو 'یہ خاندان والوں کے لیے بے عزتی کا باعث ہے۔'

عبدالقادر نے تیونس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا 'اگر میرا بھائی مجھے سن رہا ہے تو میں اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دے۔ ہم خاندان والوں کو بھی چین ملے گا۔'

انھوں نے مزید کہا 'اگر اس نے وہ کیا ہے جس کا الزام اس پر لگایا جا رہا ہے تو اس کو سزا ملے گی۔ مجھے یقین ہے کہ میرا بھائی بے قصور ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس نے گھر معاشی حالات کے باعث چھوڑا، کام کرنے کے لیے، خاندان کی مدد کرنے کے لیے اور وہ دہشت گردی کرنے کے لیے نہیں گیا تھا۔'

عامری
BKA / HANDOUT