Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. • امریکی صدر ٹرمپ نے شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کا حکم دیا
  2. • 59 کروز میزائلوں نے حمص کے قریب واقع شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا
  3. • یہ کارروائی ادلیب میں شہریوں پر کیمیائی مادے سے مبینہ حملے کا ردعمل ہے
  4. • شامی فوج کے مطابق اس حملے میں نو افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
  5. • روس نے اس حملے کو خودمختار ملک کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے شام میں ایئر سیفٹی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

بریکنگامریکی حملہ بین الاقوامی مسلح تصادم ہے‘

icrc
BBC

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی ترجمان نے کہا ہے ’ایک ملک کی طرف سے بغیر دوسرے ملک کی رضا مندی کے فوجی کارروائی انٹرنیشنل آرمڈ کانفلکٹ یعنی بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتی ہے۔

’معلومات کے مطابق امریکہ نے شامی فوجی تنصیب پر حملہ کیا اور یہ بین الاقوامی مسلح تصادم کے زمرے میں آتا ہے۔‘ 

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا نے ٹویٹ میں کہا ہے: ’جن حالات میں ہم رہ رہے ہیں ان میں مشکل فیصلے لینے ضرورت ہے۔ میں اپنے والد پر فخر کرتی ہوں کہ انھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔‘  

The times we are living in call for difficult decisions - Proud of my father for refusing to accept these horrendou… twitter.com/i/web/status/8…

missile
BBC

بریکنگ’شام کے بحران کا حل صرف سیاسی طور پر نکالا جا سکتا ہے‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعلمال اور امریکی حملے نے ان کے اس یقین کی تعید کی ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف سیاسی طور پر نکالا جا سکتا ہے۔ 

لیبر پارٹی میں اختلافات

برطانیہ کی لیبر پارٹی میں امریکہ کا شام پر حملے کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربین نے امریکہ پر تنقید کی ہے جبکہ جماعت کے نائب ٹام واٹسن کا کہنا ہے کہ ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا یہ براہ راست اور متناسب جواب ہے۔‘

شیڈو وزیر خارجہ ایمیلی تھورنبری نے کوربین کے موقف کی حمایت کی ہے۔ تاہم لیبر جماعت کے جان وڈ کاک کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو امریکی کارروائی کی مکمل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ 

labour
PA

  روسی صحافی ایلکس پشن نے شام کے فضائی اڈے سے تصاویر انسٹاگرام پر ڈالی ہیں۔  

View more on instagram

روسی صحافی ایلکس پشن نے شام کے فضائی اڈے سے تصاویر انسٹاگرام پر ڈالی ہیں۔

View more on instagram

بریکنگ’کانگریس پر یہ ذمہ داری ہے کہ جنگ کا اعلان کرے‘

congress
AFP

ڈیموکریٹ جماعت کی نینسی پلوسی نے ایوان نمائندگان کے سپیکر پال رائن کو ایک خط میں کہا ہے کہ وہ کانگریس کا اجلاس طلب کریں۔ 

واضح رہے کہ جمعہ سے کانگریس میں دو ہفتے کی تعطیل ہو گی۔

انھوں نے لکھا ہے ’شام کے صدر بشار الاسد کے اقدامات نے ان کو انسانی رویے کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ آئین کے تحت کانگریس پر یہ ذمہ داری ہے کہ جنگ کا اعلان کرے۔ کانگریس کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایک خود مختار ملک کے خلاف فوجی ایکشن کی منظوری پر بحث کرنی ہو گی۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’اسد کی جانب سے اپنی ہی عوام پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اندوہناک ہے اور شامی بحران ایک رات کی فضائی کارروائی سے حل نہیں ہو گا۔ لوگوں کا قتل اس وقت تک بند نہیں ہو گا جب تک تشدد کو روکنے کے لیے جامع سیاسی حل نہیں نکالا جاتا۔‘

بریکنگ’شام پر حملہ ملکی سیاست کا نتیجہ‘

براک اوباما کے دور حکومت میں دفتر خارجہ کے مشیر جیریمی شپیرو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شام میں فضائی حملے اس لیے کیے ہیں کیونکہ وہ امریکہ میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام پر حملہ ’ملکی سیاست‘ کے باعث کیا گیا ہے جس کے باعث دور دراز ایک ملک میں لوگوں کی زندگیاں بہتر نہیں ہوں گے۔

کانگریس کے رکن جسٹن اماش: ’فضائی حملہ اعلان جنگ ہے۔ شام میں ہونے والا تشدد اس بات کو اجازت نہیں دیتا کہ آئین کے خلاف جایا جائے اور آئین کے مطابق آغازِ جنگ کی منظوری کانگریس دیتی ہے۔‘

Airstrikes are an act of war. Atrocities in Syria cannot justify departure from Constitution, which vests in Congress power to commence war.

سینیٹر رینڈ پال: آئین کے مطابق امریکی صدر کو فوجی کارروائی سے قبل کانگریس کی منظوری لینی ضروری ہے۔‘

The President needs Congressional authorization for military action as required by the Constitution.

سینیٹر رینڈ پال: ’ہم شام میں ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں لیکن امریکہ پر حملہ نہیں کیا گیا۔‘

While we all condemn the atrocities in Syria, the United States was not attacked.

کانگریس سیتھ مولٹن: ’امریکی صدر کو شامی عوام کی اتنی فکر ہے کہ 50 ٹوم ہاکس میزائل داغے جا سکتے ہیں لیکن اتنی فکر نہیں کہ اسد کے ہاتھوں متاثر ہونے والے افراد کو پناہ اور آزادی دی جائے۔‘  

So @POTUS cares enough about the Syrian people to launch 50 Tomahawks but not enough to let the victims of Assad find refuge & freedom here.

بریکنگاقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس

UN
Reuters

 شام کی صورتحال پر بحث کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس ساڑھے تین بچے جی ایم ٹی (ساڑھے آٹھ بجے پاکستان معیاری وقت کے مطابق) ہو گا۔  

’روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ہونے پر افسوس‘

شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملے کے تناظر میں روسی صدر پوتن نے روسی سکیورٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی جس میں شامی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

روسی خبر رساں ادارے انٹر فیکس نے صدارتی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’شام کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ واشنگٹن کا اقدامات ایک بار پھر جارحیت کے زمرے میں آتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔‘

خبر رساں ایجنسی کے مطابق اجلاس میں امریکی حملے کے باعث روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے خراب ہونے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں روسی ایرو سپیس فورسز کی شامی سکیورٹی فورسز کے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد کرتے رہنے پر بھی بات چیت ہوئی۔

بریکنگصدر ٹرمپ کے فضائی حملے حماقت ہیں: شامی صدر بشار الاسد

asad
SANA

شام کے صدر بشار الاسد کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے شامی فضائی اڈے پر حملے احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔‘

’ میزائل حملے کا فیصلہ امریکہ کی حماقت اور غیر ذمہ داری کا ثبوت ہے اور اس سے ان کی سیاسی اور عسکری بصارت میں کمی کا احساس ہوتا ہے کہ انھیں زمینی حقائق کا علم نہیں ہے۔‘ 

بریکنگامریکی حملہ قابلِ فہم ہے: میرکل

میرکل
EPA

 جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں حملہ ’ جنگی جرائم، معصوم عوام کی مشکلات اور سلامتی کونسل میں رکاوٹوں کے تناظر میں قابلِ فہم‘ ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ساتھ ہی ساتھ میں آج پہلے سے کہیں زیادہ زور دیتی ہوں کہ یہ درست اور اہم ہے کہ توجہ سلامتی کونسل اور جینیوا میں ہونے والی بات چیت پر مرکوز رکھی جائے تاکہ شام کے مسئلے کا سیاسی حل نکل سکے۔‘  

بریکنگشام میں فضائی تحفظ کا معاہدہ معطل: روس

روسی نے امریکہ کے ساتھ شام میں فضائی تحفظ کے معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کیا گیا تھا تاکہ دونوں ملکوں کی فضائیہ شام کی حدود میں ایک دوسرے کو نشانہ نہ بنائیں۔

بریکنگ’باقی 36 میزائل کہاں گرے ہیں معلوم نہیں‘

 روس نے کہا ہے کہ یہ حملہ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور 59 میں سے صرف 23 میزائل فضائی اڈے تک پہنچ سکے اور باقی 36 میزائل کہاں گرے ہیں معلوم نہیں۔  

بریکنگ کئی شامی طیاروں کو نقصان پہنچا ہے اور کئی تباہ ہو گئے ہیں: پینٹاگون

پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’میزائل حملوں کو نتائج کو جانچا جا رہا ہے اور ابتدائی خبروں کے مطابق یہ معلوم ہوتا ہے کہ کئی طیارے تباہ اور کئی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی اڈے پر موجود سہولیات اور سامان کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی صلاحیت میں کمی پیش آئی ہے۔ 

’امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی‘

 روس کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’یہ صاف ظاہر ہے کہ امریکی میزائل حملوں کی تیاری پہلے ہی سے کی گئی تھی۔ کسی بھی ماہر کے لیے یہ واضح ہے کہ واشنگٹن نے حملوں کا فیصلہ ادلیب کے حملے سے پہلے کیا تھا اور ادلیب کا واقعہ بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘  

تمام ذمہ داری اسد پر عائد ہوتی ہے: نیٹو سیکرٹری جنرل

nato
Reuters

امریکی اور یورپی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو کی سیکریٹری جنل جینس سٹولٹین برگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حملے کی تمام ذمہ داری شامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ’کیمیائی ہتھیار کا استعمال قطعی قابل قبول نہیں اور اس کی سزا ملنا ضروری ہے اور ان حملوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جنرل جیمس میٹس نے جینس سٹولٹین برگ امریکہ کے میزائل حملے سے قبل آگاہ کیا تھا۔ 

ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے: چین

china
Reuters

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ’اب اس بات کی ضرورت ہے کہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مکمل خلاف ہیں چاہے وہ کوئی بھی ملک، ادارہ یا انفرادی حیثیت میں کوئی شخص کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرے۔‘

شام میں مظالم کے خاتمے کے لیے کوششیں کریں گے: یورپی یونین

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے ٹویٹ کے ذریعے شام پر کیے جانے والے امریکی حملے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا جس میں انھوں نے کہا کہ ’امریکی حملہ ظاہر کرتا ہے کہ شامی حکومت کے ہولناک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف ہمت کی ضرورت ہے اور یورپی یونین امریکہ کے ساتھ مل کر شام میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گا۔‘

مثبت پہل لیکن عالمی برادری کو ثابت قدم رہنے کی ضرورت: ترکی

ترکی نے شام کے خلاف امریکی حملے کو مثبت پہلو قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی برادری کو شامی حکومت کی بربریت کے خلاف اپنے موقف کو مستقل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرت المعاون نے ترکی میں فاکس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بشار الاسد کو عالمی سطح پر پوری طرح سے سزا دینا چاہیے اور شام میں امن کے عمل کو تیز تر کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’شام کے فضائی اڈے پر امریکی حملہ خوش آئند پیشرفت ہے اور ترکی ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جس سے شامی حکومت کا احتساب ہو سکے۔‘

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ترجمان نے ’شام کے اوپر نو فلائی زون اور سیف زون کے قیام‘ کا مطالبہ کیا۔ 

erdogan
AFP

امریکی حملے سے ہونے والی تباہی

روس کی جانب سے حمص کے قریب واقع اڈے پر ہونے والی تباہی کی فوٹیج جاری کی گئی ہے

View more on twitter

شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا: روس

روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شیرت فضائی اڈے پر امریکی میزائل حملے کے بعد شام کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جائے گا۔ 

ترجمان ااور کوناشینکوو نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’شام کے انتہائی حساس مقامات اور اڈوں کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامت لیے جائینگے تاکہ ان کی قابلیت اور صلاحیت میں بہتری آسکے۔‘

حملہ جارحیت ہے: روس

روس کے صدر ولاد میر پوتن کے ترجمان دیمتری پیسکوؤف نے شام کی شائرات ایئر بیس پر حملے کو 'ایک خود مختار ملک کے خلاف جارحیت قرار دیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن اس حملے کو عراق میں امریکی کارروائی میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں اور ’اس سے امریکہ اور روس کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچختا ہے۔‘

روسی پارلیمان کے ایوان بالا میں دفاعی اور سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ وکٹر وزیروف کا کہنا تھا کہ روس اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کا فوری اجلاس طلب کرنے مطالبہ کرے گا۔

روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’اس (حملے) کو اقوام متحدہ کے ایک رکن ملک کے خلاف امریکی جارحیت بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔‘

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل ایک خصوصی ہاٹ لائن کے ذریعے روسی حکام کو اس حملے کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔ 

putin
EPA

حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں: نتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی پوری طرح سے حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’صدر ٹرمپ نے الفاظ اور ایکشن سے ایک مضبوط اور واضح پیغام دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا ان کے پھیلاؤ کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔‘

شام اور خطّے میں حالات مزید پیچیدہ ہوں گے: ایران

ایران نے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

ایرانی نیوز ایجنسی آئی ایس این اے نے وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس طرح کے اقدامات سے شام اور خطّے میں حالات کو مزید پیچیدہ کر دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران اس یکطرفہ حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں سے شام میں دہشت گردوں کو پروان ملے گا۔‘

rouhani
AFP

بریکنگحملے میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں: شامی سرکاری میڈیا

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق شامی حکومت کے حمص کے نزدیک واقع فضائی اڈے پر امریکہ کے میزائل حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد نو ہو گئی ہے جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والے شہری فضائی اڈے کے نزدیک گاؤں کے رہنے والے تھے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ ان مرنے والوں میں وہ چھ افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شامی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ چار شامی فوجی اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو فوجی گمشدہ ہیں اور چھ شدید زخمی ہیں۔

ٹوماہاک میزائلوں سے حملے

  امریکی محکمۂ دفاع کے مطابق ٹوماہاک کروز میزائل امریکی بحری جہازوں یو ایس ایس پورٹر اور یو ایس ایس راس سے داغے گئے اور یہ جنگی جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں موجود ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ میزائلوں سے طیارے کھڑے کرنے کے مقامات، ایندھن اور اسلحے کے ڈپو، ایئر ڈیفینس نظام اور ریڈاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ محکمۂ دفاع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس حملے میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کی ہرممکن کوشش کی گئی  

ٹوماہاک میزائل
BBC

امریکی حملے، باغیوں کا خیرمقدم

امریکہ کی جانب سے کروز میزائل حملوں کا شامی حزب اختلاف کے گروہ سیریئن نیشنل کولیشن نے خیر مقدم کیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان احمد رمضان نے خبر رساں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم مزید حملوں کی امید کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ محض ایک آغاز ہے۔'

’مہذب ممالک شام کے تنازعے کے حل میں مدد دیں‘

  امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہی اس شامی فضائی بیس پر حملے کا حکم دیا تھا جہاں سے منگل کو شامی فضائیہ نے حملے کیے تھے۔ امریکی صدر نے اس موقع پر 'تمام مہذب ممالک' سے شام میں تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔  

ٹرمپ
Reuters

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے اس سکیورٹی فورس کو نشانہ بنایا ہے جس کو شامی صدر بشار الاسد خود کمانڈ کرتے ہیں۔

شامی اڈے پر 59 کروز میزائلوں سے حملہ

امریکہ نے شام میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں شامی فوج کی جانب سے مشتبہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی اڈے پر میزائلوں سے حملے کیے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں بحری بیڑے سے 59 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شام کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی میزائل حملہ
BBC