Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. برطانیہ میں 2017 کے عام انتخابات کا نتیجہ ایک معلق پارلیمان کی صورت میں نکلا ہے
  2. 650 میں سےاب تک 649 نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں
  3. کنزرویٹو پارٹی نے سب سے زیادہ 318 سیٹیں جیتی ہیں لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل نہیں کر سکی
  4. لیبر پارٹی نے 261 سیٹیں جیت لی ہیں
  5. اکثریت حاصل کرنے کے لیے دارالعوام کی کم از کم 326 سیٹیں جیتنا ضروری ہیں

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

برطانوی انتخابات کی لائیو کوریج ختم ہو گئی ہے۔ تفصیلی خبر کے لیے یہ خبر پڑھیے

ٹریزا مے کی ملکہ سے ملاقات، ڈی یو پی کے ساتھ حکومت سازی کے لیے تیار

بریکنگ’کنزرویٹو اور ڈی یو پی مل کر کام کریں گے‘

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو اور ڈی یو پی مل کر کام کریں گے اور کئی سالوں سے دونوں جماعتوں کے خاص تعلقات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بریگزٹ کے پرانے ٹائم ٹیبل پر بات چیت جاری رہے گی۔

ٹریزا مے نے وعدہ کیا کہ وہ دس روز میں شروع ہونے والے بریگزٹ مذاکرات میں ملک کے مفادات کا تحفظ کریں گی اور برطانوی عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالیں گی۔

may
AFP

بریکنگمیں حکومت بنا رہی ہوں: ٹریزا مے

ٹریزا مے نے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی کر رہی ہیں اور ان کی حکومت بے یقینی کو ختم کرے گی اور ملک کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرے گی۔

بریکنگٹریزا مے محل سے ڈاؤننگ سٹریٹ روانہ

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی بکنگھم پیلس میں ملکہ کے ساتھ ملاقات 20 منٹ جاری رہی۔ ملاقات کے بعد وہ واپس ڈاؤننگ سٹریٹ روانہ ہو گئی ہیں جہاں پرپریس بریفنگ کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

بریکنگ10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر پریس بریفنگ کے لیے تیاریاں

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کو بکنگھم پیلس آئے ہوئے 20 منٹ ہو گئے ہیں جبکہ ان کی ملکہ سے ملاقات زیادہ سے زیادہ 30 منٹ تک ہونی ہے۔

دوسری جانب 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر پریس بریفنگ کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

بریکنگٹریزا مے کی بکنگھم پیلس آمد

palace
AFP

وزیراعظم ٹریزا مے ملکہِ برطانیہ سے حکومت سازی کی اجازت مانگنے کے لیے بکنگھم پیلس پہنچ گئی ہیں۔

حتمی نتائج، کنزرویٹو ایوان کی سب سے بڑی جماعت

map
BBC

جیریمی کوربین نے ٹریزا مے سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں

مے
PA

وزیراعظم ٹریزا مے برطانوی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کریں جس میں وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت مانگیں گی۔

ان کو امید ہے کہ شمالی آئر لینڈ کے ڈیموکریٹک یونینسٹ ان کی حمایت کریں گے۔

اس وقت صرف ایک نشست کا نتیجے کا اعلان ہونا باقی رہ گیا ہے۔ کنزرویٹو جماعت 326 نشستوں سے آٹھ کم ہیں۔

لیبر جماعت کے سربراہ جیریمی کوربین نے ٹریزا مے سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں اور لیبر جماعت حکومت سازی کے لیے تیار ہے۔

کیا اس بار حکومتی اتحاد بنے گا؟

اقلیتی حکومت کو قابلِ عمل بنانے کے لیے کتنی نشستیں درکار ہوں گی؟

کوئی جماعت اکثریت حاصل کیے بغیر بھی اقلیتی حکومت چلا سکتی ہے۔

اسے ایک منقسم اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ اگر لیبر یا کنزرویٹو جماعت اقلیتی حکومت بناتی ہے تو کسی قانون کو روکنے کے لیے لبرل ڈیموکریٹس، ایس این پی، یوکیپ، پلیڈ سیمرو، گرینز اور ڈی یو پی، سب کو مل کر اس کے خلاف ووٹ ڈالنے پڑیں گے۔

ایسا عملاً کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس صرف حکومت سے زیادہ سیٹیں ہونا کاقی نہیں ہے۔ ان کا ایک واضح متبادل اتحاد ہونا بھی لازمی ہے۔

حکومتی اتحاد کیا چیز ہے؟

پارلیمنٹ میں حکومتی اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ دو یا اس سے زیادہ سیاسی جماعتیں مل کر بطور ایک یونٹ حکومت کریں۔

اتحاد میں چھوٹی پارٹیوں کو بھی وزارتیں دی جاتی ہیں اور ایک مشترکہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے۔

ملکہ کا کردار کیا ہے؟

کسی جماعت کا/کی سربراہ ملکہ کو مطلع کر سکتا/سکتی ہے کہ ان کے پاس دارالعوام میں اکثریت ہے جس پر ملکہ انھیں حکومت سازی کی اجازت دیتی ہیں۔

روایتی طور پر ملکۂ برطانیہ جماعتی سیاست میں مداخلت نہیں کرتیں اس لیے ایسا کوئی امکان نہیں کہ وہ وزیراعظم کا انتخاب کریں۔

یہ امکان ضرور ہے کہ وہ حکومت نہ بننے کی صورت میں ایوان سے خطاب نہ کریں۔

کتنا عرصہ لگے گا؟

اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے کہ اتنے دن میں طے کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں اس عمل میں پانچ دن کا وقت لگا تھا لیکن اس بار اس بات کا امکان ہے کہ اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

فی الوقت پہلی ڈیڈ لائن تیرہ جون ہے جب نئی پارلیمان کا پہلا اجلاس منعقد ہو گا۔ ٹریزا مے کے پاس اس تاریخ تک حکومت سازی کے لیے اتحاد کرنے یا پھر مستعفی ہونے کے لیے وقت ہے۔

تاہم مستعفی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم پر واضح ہو کہ کوربن حکومت بنا سکتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ وہ حق رکھتی ہیں کہ دارالعوام میں اعتماد کا وووٹ لینے کی کوشش کریں۔

حکومت سازی کا موقع سب سے پہلے کسے مل سکتا ہے؟

کنزرویٹو پارٹی کی رہنما ٹریزا مے کو، جن کی جماعت کو تقریباً 318 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ دوسری جماعتوں کی مدد سے اکثریت حاصل کرنے تک وہ وزیراعظم کے عہدے پر برقرار بھی رہ سکتی ہیں۔

اگر یہ واضح ہو جائے کہ وہ اپنی ان کوششوں میں ناکام رہی ہیں اور جیریمی کوربن کو کامیابی مل سکتی ہے تو پھر ٹریزا مے مستعفی ہوسکتی ہیں اور کوربن وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کو ایسا کرنے کے لیے اس بات کا انتظار نہیں کرنا ہے کہ پہلے ٹریزا مے اپنی تمام کوششیں مکمل کر لیں پھر کوربن اپنی کوشش شروع کریں گے بلکہ دونوں ہی اپنی اپنی کوششیں ایک ساتھ ہی شروع کر سکتے ہیں۔

یہ دونوں ہی جس جماعت سے چاہیں اتحاد کے لیے بات کر سکتے ہیں۔

اب کیا ہوگا؟

معلق پارلیمان کی صورت میں بھی کنزرویٹو پارٹی کی حکومت قائم رہ سکتی ہے اور ٹریزا مے وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں اس وقت تک رہ سکتی ہیں جب تک یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ نئی حکومت کون تشکیل دے گا یا جب تک وہ خود ہی مستعفی نہیں ہوجاتیں۔

اس دوران ایک مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں اور ان کی ٹیموں کے درمیان بات چیت کا دور شروع ہو سکتا ہے جس میں اس بات پر غور و فکر ہو سکتا ہے کہ ٹریزا مے کو موقع دیا جائے یا پھر دوسر نمبر پر آنے والی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کو۔

واضح رہے کہ موجودہ صورت حال میں یہی دو رہنما وزارت عظمی کے عہدے کے دعویدار کہلائے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں کوئی ایک خود اپنا راستہ اختیار کرے اور دوسری چھوٹی جماعتوں کی مدد سے ایک اقلیتی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرے۔

معلق پارلیمان کیا ہے؟

جب کوئی بھی جماعت اتنی نشستیں حاصل نہیں کر پاتی کہ وہ اپنے بل بوتے اکثریتی حکومت قائم کر سکے تو کہا جاتا ہے کہ معلق پارلیمان ہے۔ یہی صورت حال 2010 کے عام انتخابات کے بعد بھی پیدا ہوئی تھی۔

انتخابات کیسے جیتے جاتے ہیں؟

وزیراعظم بننے کا آسان طریقہ تو یہ ہے کہ پارلیمان کے ایوان زیر یں یعنی دارالعوام میں اکثریت حاصل کی جائے۔ اکثریت حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ارکان کی تعداد دیگر تمام جماعتوں کے مجموعی ارکان پارلیمان کی تعداد سے زیادہ ہو۔

ظاہر ہے 650 میں سے اس کے لیے 326 ارکان کا تعلق آپ کی جماعت سے ہونا ضروری ہے۔

کسی بھی حکومت کے لیے ایوان میں قانون سازی کرنے اور حزب اختلاف کے ہاتھوں شکست سے بچنے کے لیے یہ تعداد کافی ہے۔ لیکن اگر اتنی تعداد میں کسی بھی ایک جماعت کو نشستیں حاصل نہیں ہوئیں تو پھر کہا جاتا ہے کہ پارلیمان معلق ہے۔

کیا سب سے زیادہ ارکانِ پارلیمان والی جماعت حکومت بنائے گی؟

یہ ضروری نہیں کہ جسے سب سے زیادہ نشستیں ملی ہوں وہی پارٹی حکومت تشکیل دے۔

تاہم عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ 650 نشستوں والی پارلیمان میں جس جماعت کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوتی ہیں اسی کو فاتح مانا جاتا ہے اور اسی جماعت کا رہنما عموما اگلا وزیراعظم بھی ہوتا ہے۔

لیکن شاید اس بار معلق پارلیمان کی صورت میں ایسا نہ ہو۔ یہ بہت ممکن ہے کہ جو جماعت دوسرے نمبر پر ہے وہ دیگر پارٹیوں کی مدد سے حکومت تشکیل دے پائے۔

بریکنگخواتین ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کا نیا ریکارڈ

westminster
AFP

برطانیہ کے ہاؤس آف کومنز یعنی دارالعوام میں اس بار 207 خواتین ممبران منتخب ہوئی ہیں۔ اس سے قبل اتنی زیادہ تعداد میں خواتین ممبران کبھی منتخب نہیں ہوئیں۔ انتخابات سے قبل 197 خواتین ممبران تھیں۔

اس بار انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں 30 فیصد خواتین تھیں جبکہ 2015 کے انتخابات میں یہ شرح 26 فیصد تھی۔

’ایسا لگتا ہے کہ ٹریزا مے نے اپنی پوزیشن بہتر کر لی ہے‘

downing street
Reuters

بی بی سی کی مدیر برائے سیاسی امور لارا کوئنسبرگ ڈاؤننگ سٹریٹ میں موجود ہیں اور وہ کنزویٹو جماعت کے ارکان سے بات چیت کر رہی ہیں۔

’ایسا لگتا ہے کہ ٹریزا مے نے اپنی پوزیشن بہتر کر لی ہے۔‘

’کنزرویٹو جماعت کے کئی ارکان نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ٹریزا مے کو وزیراعظم کی بجائے نگراں وزیراعظم تصور کریں گے۔‘

بریکنگٹریزا مے حکومت سازی کی اجازت مانگیں گی

بی بی سی کی مدیر برائے سیاسی امور لارا کوئنسبرگ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ٹریزا مے برطانوی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کریں جس میں وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت مانگیں گی۔

britain
EPA

بریکنگبرطانوی انتخابات میں 24 پاکستانی اور انڈین نژاد رہنما بھی کامیاب

بریکنگبرطانوی انتخابات کے تازہ ترین نتائج اور پارٹی پوزیشن

نتائج کا نقشہ
BBC

بریکنگ’لیبر پارٹی کی اقلیتی حکومت کا امکان موجود ہے‘

لیبر پارٹی کے شیڈو چانسلر جان میکڈونل
BBC

لیبر پارٹی کے شیڈو چانسلر جان میکڈونل کا کہنا ہے کہ انھیں افسوس ہے کہ ان کی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکی تاہم انھوں نے کہا کہ لیبر پارٹی کی اقلیتی حکومت کا امکان موجود ہے۔

جان میکڈونل کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہم ایک مستحکم حکومت بنا سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی کسی ڈیل یا اتحاد کے بارے میں غور نہیں کر رہی۔ ’لوگ سیدھی بات اور ایمانداری کی سیاست چاہتے ہیں۔ وہ پس پردہ ڈیلز اور اتحاد نہیں چاہتے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ٹریزا مے کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں اور انھیں امید ہے کہ وزیراعظم مے یہ بات سمجھ جائیں گی کہ ان کا اقتدار جاری نہیں رہ سکتا۔

بریکنگ’مے کہیں نہیں جا رہیں‘

Have heard from senior Tory who has spoken to May - she is not going anywhere, sense they are rallying round but v fluid

برطانوی تاریخ میں سب سے زیادہ خواتین اراکینِ پارلیمان

  • ان انتخابات میں برطانیہ کی تاریخ کی سب سے زیادہ خواتین اراکین منتخب ہوئی ہیں۔
  • آئندہ آنے والے برطانوی پارلیمان میں 200 سے زیادہ خواتین ہوگی۔ 2015 میں یہ تعداد 196 تھی۔
  • اس کے علاوہ ان انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تعداد 30 فیصد تھی جو کہ 2015 میں 26 فیصد تھی۔
  • چنانچہ اوسط کے لحاظ سے خواتین امیدوار بڑھی ہیں مگر خواتین امیدواروں کی اصل تعداد 1036 سے کم ہو کر 983 رہ گئی ہے۔

’خود اپنے پیر میں نہیں بلکہ سر میں گولی ماری ہے‘

کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمان نائجل ایونز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج ان کی جماعت کے لیے تباہ کن رہے ہیں۔ ایونز ربل ویلی سے اپنی نشست جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کنزرویٹو پارٹی نے اپنے کلیدی حامیوں یعنی بزرگ ووٹرز پر ہی ’حملہ کر دیا تھا‘۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے خود اپنے پیر میں نہیں بلکہ سر میں گولی مار لی ہے۔‘

بریکنگ’لوگوں نے امید کو ووٹ دیا‘

لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جماعت کے لیے ناقابلِ یقین نتائج ہیں کیونکہ لوگوں نے امید کو ووٹ دیا ہے۔ کل نوجوان اور بوڑھے سب اکٹھے ہو گئے تھے۔

بہت زیادہ لوگ ووٹ دینے نکلے۔ لیبر کے ووٹ میں بہت اضافہ ہوا اور کی وجہ یہ تھی کہ وہ چیزیں مختلف طریقے سے ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ ایک پرامید زندگی چاہتے ہیں

جیریم کوربنرہنما لیبر پارٹی

بریکنگمعلق پارلیمان کی تشکیل کے بعد کیا ہو گا؟

بریکنگبرطانوی انتخابات کے نتائج کا نقشہ

بریکنگزیک گولڈ سمتھ رچمنڈ پارک کی نشست سے کامیاب

کنزرویٹو پارٹی کے رہنما زیک گولڈ سمتھ رچمنڈ پارک کی نشست سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ اسی نشست پر ضمنی انتخاب میں لبرل ڈیموکریٹ امیدوار سے ہارے تھے تاہم اس وقت انھوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا تھا۔

زیک گولڈ سمتھ
BBC

بی بی سی کے نائب سیاسی مدیر جان پنر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاتا کہ ٹریزا مے مستعفی ہوں گی یا نہیں۔

اگر وہ نہ جانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو جس طریقے سے وہ حکومت چلاتی ہیں اس میں تبدیلی دیکھی جائے گی۔

ہم دیکھیں کہ وزیراعظم کو اب عمومی طور پر اپنے ارکانِ پارلیمان کی بات غور سے سننی ہوگی۔

تاہم لیبر پارٹی کے لیے صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔

برطانوی پاؤنڈ رات میں گرا مگر اب مستحکم

منڈیوں میں گذشتہ شب برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں کمی ہوئی تاہم اب بظاہر اس کی قیمت مستحکم ہوگئی ہے۔

After a quick fall in the £ against the $, things have levelled out. Traders waiting to see the final seat totals… twitter.com/i/web/status/8…

بریکنگمے کی کابینہ کے نو وزرا کو شکست

ان انتخابات میں اب تک برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے کی کابینہ کے نو وزرا کو شکست ہوئی ہے۔

ان میں وزیرِ خزانہ جین ایلیسن، کیبینٹ آفس کے وزیر بین گرمر، ڈیفڈ کے وزیر جیمز وارٹن، وزیرِ صحت نکولا بلیک وڈ، وزیرِ تعلیم ایڈورڈ ٹمپسن کے علاوہ گیون بارویل، راب ولسن، سائمن کربی اور ڈیوڈ مواٹ شامل ہیں۔

’ٹریزا مے کا الیکشن کروانا غلطی تھی‘

کنزرویٹوو پارٹی کو 313 سیٹیں ملی ہیں جبکہ لیبر پارٹی نے 260 سیٹیں جیتی ہیں۔

بی بی سی کے ڈیوڈ ڈمبلبی کا کہنا ہے کہ ایسا ’کوئی راستہ نہیں‘ کہ کنزرویٹیو پارٹی اکثریت کے لیے درکار 236 سیٹیں جیت سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ٹریزا مے آئندہ سالوں میں یقین اور اعتماد کے لیے الیکشن کروا رہی تھیں اور اس میں وہ ناکام ہوگئی ہیں۔‘

چند ہفتے قبل جب انھوں نے اس الیکشن کا اعلان کیا تھا تو ان کے پاس 17 سیٹوں کی اکثریت حاصل تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔‘

اگر کوئی بھی اکثریت حاصل نہ کرے تو کیا ہوگا؟

برطانوی پارلیمان
Reuters

کنزرویٹو پارنی نے دارالعوام میں اپنی اکثریت کھو دی ہے تاہم وہ اب بھی ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔

اگر کوئی بھی جماعت انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ سکے تو کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ جماعت حکومت بناتی ہے جس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہوں؟

ایسا نہیں ہے۔ وہ جماعت جو 650 کے ایوان میں سب سے زیادہ نشستیں جیتے گی یقیناً الیکشن کی فاتح قرار دی جائے گی اور اس کا رہنما ہی تقریباً ہمیشہ ملک کا نیا وزیراعظم بنتا ہے۔

تاہم اس مرتبہ شاید ایسا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جماعت جو دوسرے نمبر پر آئی ہے دیگر جماعتوں کی مدد سے حکومت بنائے۔

سٹی بینک کے ماہرین کی ٹریزا مے کے استعفے کی پیش گوئی

عالمی بینک سٹی گروپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ٹریزا مے آج وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دیں گی۔

ان انتخابات میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں جہاں حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کو 12 نشستیں کم ملی ہیں وہیں لیبر پارٹی کو29 نشستوں کا فائدہ ہوا ہے

بریکنگکوئی بھی جماعت سادہ اکثریت نہیں حاصل کر سکی

برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد دارالعوام کی 650 میں سے 640 سے زیادہ نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔