Got a TV Licence?

You need one to watch live TV on any channel or device, and BBC programmes on iPlayer. It’s the law.

Find out more
I don’t have a TV Licence.

خلاصہ

  1. امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے
  2. فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کا بھی دارالحکومت ہے
  3. فلسطینیوں نے اس عمل کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ’موت کا بوسہ‘ قرار دیا ہے
  4. اس اعلان کے بعد امریکی سفارت خانہ بھی تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا جائے گا
  5. یہ فیصلہ برسوں پر محیط امریکی پالیسی اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے منافی ہے
  6. عرب مممالک کی جانب سے بھی فیصلے کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تشدد بھڑک اٹھنے کا انتباہ

لائیو رپورٹنگ

time_stated_uk

’صدر ٹرمپ کا دلیرانہ فیصلہ‘

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ ’ہم صدر ٹرمپ کے اس دلیرانہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مذمت

انتونیو گتریس نے اپنے بیان میں ڈھکے چھپے الفاظ میں صدر ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یروشلم شہر کے تنازع کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے میں روز اوّل سے مسلسل کسی بھی ایسے یکطرفہ حل کے خلاف بات کرتا رہا ہوں جس سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچ سکتی ہے۔‘

View more on twitter

بریکنگ’صدر ٹرمپ نے دو ریاستی حل کو تباہ کر دیا ہے۔‘

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دو ریاستی حل کی امید کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

’صدر ٹرمپ نے دو ریاستی حل کو تباہ کر دیا ہے۔‘

بریکنگامریکہ کا اعلان مصر نے مسترد کر دیا

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کو مصر نے مسترد کر دیا۔

’یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین کے خلاف ہے‘

ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’ہم امریکی انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دار بیان کی مزمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔‘

دو ریاستی حل کا کیا؟

بی بی سی کے رچرڈ کولبورن نے ٹرمپ کے اس دعوے پر روشنی ڈالی ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کے مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا۔

View more on twitter

امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے: فرانس

فرانسیسی صدر نے صدر ٹرمپ کے اعلان کے رد عمل پر کہا ہے کہ وہ امریکہ کے یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے جس میں اس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

’یہ فیصلہ افسوسناک ہے جس کو فرانس قبول نہیں کرتا اور یہ فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف جاتا ہے۔‘

’جلتی پر تیل‘

اس وقت امریکہ میں ٹوئٹر پر ’اسرائیل اور فلسطین‘ اور ’یروشلم‘ کے ہیش ٹیگ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ بہت سے ٹوئٹر صارفین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا اعلان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بھڑکائے گا۔

View more on twitter

’صدر ٹرمپ کے اعلان نے ہمارے لیے یہ ایک تاریخی دن بنا دیا ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
AFP
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اور آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے ہمارے لیے یہ ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔

بریکنگیروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے: نیتن یاہو

جھنڈے
AFP

یہ ایک تاریخی دن ہے۔ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت 70 سے ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔‘

بریکنگ’امن معاہدے کے عزم سے انحراف نہیں کر رہے‘

یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ امن معاہدے کے دیرینہ عزم سے انحراف کر گیا ہے۔ ہم امن معاہدہ چاہتے ہیں جو اسرائیل کے لیے بہت ضروری ہے اور ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے لیے بھی۔‘

بریکنگامریکہ دنیا کا پہلا ملک

امریکہ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے۔

بریکنگ’یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد میں تھا‘

وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔ ‘

22 سال تک امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کیوں نہیں ہوا؟

’یہ ہونا ضروری تھا‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے لیے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ وہ کام ہے جو ہونا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا میں امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں۔

turkey
AFP

’ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں‘

امریکی صدر کا کہنا تھا۔ امریکہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ اگر دونوں فریق اس بات پر راضی ہو جائیں۔ ہماری سب سے بڑی امید امن ہی ہے۔ ہم خطے میں امن اور سلامتی چاہتے ہیں۔ ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم اختلافات کے خاتمے کے بعد امن قائم کریں گے۔

فلسطینیوں کا احتجاج

یروشلم
AFP

israel
AFP

بریکنگیروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنی سفاتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

’یروشلم مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر‘

ترکی کے وزیرِ اعظم نے بھی تنبیہ کر رکھی ہے کہ ’یروشلم اسلامی دنیا کے لیے ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس حوالے سے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔ غلط اقدام اٹھانے کے صورت میں ناقابلِ تلافی نتائج سامنے آئیں گے۔ ‘ ترک صدر رجب طیب اروغان نے باور کروایا کہ یہ معاملہ مسلمانوں کے لیے ’سرخ لکیر ہے۔‘

ترکی
Reuters

بریکنگ’چار دسمبر سے 20 دسمبر تک غیر ضروری سفر نہ کیا جائے‘

یروشلم
Reuters

امریکی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارخانوں کو کیبل بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 20 دسمبر تک اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کا غیر ضروری طور پر سفر نہ کیا جائے۔

روئٹرز کے مطابق کیبل میں کہا گیا ہے ’تل ابیب سفارتخانے اور یروشلم میں قونصل خانے سے استدعا ہے کہ اسرائیل، یروشلم اور مغربی کنارے کے چار دسمبر سے 20 دسمبر تک غیر ضروری سفر اختیار کرنے سے اجتنات کیا جائے۔‘

بریکنگ’ہماری تاریخی شناخت کو پہچان مل رہی ہے‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کا ذکر تو نہیں کیا تاہم انھوں نے بدھ کو اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہماری تاریخی اور قومی شناخت کو پہچان مل رہی ہے خاص طور پر آج۔‘

israel
AFP

تشدد کا خطرہ

مسلمان ممالک نے یروشلم کے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے نتیجے میں تشدد بھڑک اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

یروشلم
BBC

رفع شہرمیں فلسطینیوں کا احتجاج

یروشلم
Reuters
rafah
Reuters

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس 'مقدس' شہر پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس کا تنازع بہت پرانا ہے۔

یروشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔

پیغمبر حضرت ابراہیم سے اپنا سلسلہ جوڑنے والے تینوں مذاہب یروشلیم کو مقدس مقام کہتے ہیں۔.

یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے اس شہر کا نام مسلمان، یہودیوں اور عیسائیوں کے دلوں میں آباد ہے۔ یہ شہر عبرانی زبان میں یروشلایم اور عربی میں القدوس کے نام سے معروف ہے جبکہ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا، مسمار کیا گیا اور پھر سے آباد کیا گیا۔ یہی سبب ہے کہ اس سرزمین کی تہوں میں ایک تاریخ موجود ہے۔

یروشلم
Reuters

ترکی کی تنبیہہ

ترکی کے صدر رجپ طیپ اردوان نے متنبہ کیا ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت مسلمانوں کے لیے خطرے کی حد کی طرح ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس خطرے کی حد کے عبور ہونے کی صورت میں ترکی اسرائیل سے قطع تعلق بھی کر سکتا ہے۔

بریکنگفلسطینیوں کا احتجاج

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے عندیے کے بعد فلسطینیوں نے احتجاج کیا۔ رفع شہر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی تصاویر نذر آتش کی گئیں۔

فلسطین
EPA

مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے: ایران

یروشلم
Reuters

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے متوقع اعلان کو ’مسلم دنیا کے خلاف‘ ایک نیا منصوبہ قرار دیا ہے۔

ایرانی صدر کی ویب سائٹ پر جاری کردہ پیغام کے مطابق 'آج، دشمنوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے اور انھوں نے قدس (یروشلم) کی آزادی کے عظیم مقصد کو نشانہ بنایا ہے‘۔

ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے رہنماؤں کو فون

امریکی صدر نے منگل کو متعدد علاقائی رہنماؤں کو فون کر کے بتایا کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے امریکی رہنما کو بتایا کہ ایسا کوئی بھی اقدام دنیا بھر کے مسلمانوں کو اشتعال دلا سکتا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے یا یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے ’دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو سکتا ہے۔‘

’موت کا بوسہ‘

برطانیہ میں فلسطین کے نمائندے مینوئل حسسیان نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ کی یروشلم کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی دو ریاستی حل کے لیے کی جانے والی امن کی کوششوں کے لیے ’موت کا بوسہ‘ ہے اور ’اعلان جنگ‘ جیسا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آخری تنکا ہے جو اونٹ کی کمر توڑ دے گا‘۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا مطلب روایتی جنگ نہیں ہے بلکہ سفارت کاری کے حوالے سے جنگ ہے‘۔

امریکہ پہلا ملک ہو گا

اگر امریکہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتا ہے تو وہ ریاست کے سنہ 1948 میں قیام سے لے کر اب تک ایسا کرنے والا پہلا ملک ہو گا۔

مسلمانوں کے خلاف نیا منصوبہ

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

بریکنگ’یروشلم پر فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت عرصے پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔

’میرے خیال میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے۔ کئی صدور نے کہا کہ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے نہیں کیا۔‘