BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی یونیورسٹی کا تاریخی شعور
 
 اشتیاق حسین قریشی
اشتیاق حسین قریشی وزیرتعلیم رہے اور کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے
پنجاب یونیورسٹی خود کو ’دانشگاہ پنجاب‘ کہنا پسند کرتی ہے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کالج کے درجے سے بلند ہونے کے بعدخود کو انگریزی لفظ ’یونیورسٹی‘ ہی سے موسوم کیا، لیکن کراچی یونیورسٹی نے شروع ہی میں اپنا نام ’جامعہ کراچی‘ رکھ لیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اس کا خاکہ تیار کرنے میں ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی والے ڈاکٹر ذاکر حسین کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمود حسین بھی شامل تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کل وہاں برقعوں کی بہتات دیکھ کر کبھی کبھی جامعہ حفصہ کا شبہ ہونا ناگزیر ہے۔

مذکورہ اسکیم میں وائس چانسلر کو ’شیخ الجامعہ‘ اور یونیورسٹی ٹاؤن کو ’مدینتہ الجامعہ‘ کے القاب دیے گئے تھے جن کا مقصد بظاہر قابل استعمال اصطلاحات وضع کرنے سے زیادہ اپنے ایمان کی سلامتی کا اظہارکرنا تھا۔(کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کی شائع کردہ ’تاریخ جامعہ کراچی‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فرانسیسی ماہرین تعمیر کنٹری کلب روڈ یعنی موجودہ یونیورسٹی روڈ پر نئے کیمپس کا ڈیزائن تیار کر رہے تھے توپاکستانی فیصلہ سازوں میں اس بات پر بھی اختلاف پیدا ہوا تھا کہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کا نقشہ مسجد نبوی کے مطابق بنایا جائے یا اندلس کی مسجد قرطبہ کے نمونے پر۔) اس سے پہلے کہ ہم کراچی یونیورسٹی کی پسندیدہ سرگرمی یعنی وضع اصطلاحات سے ہوتے ہوے اپنے اصل موضوع کی طرف آئیں جس کا تعلق پاکستانی معاشرے میں جدیدیت اور قدامت پسندی کی وسیع تر کشمکش میںکراچی یونیورسٹی (اور دوسرے تعلیمی اداروں) کے کردارسے ہے،اس ادارے کی تاریخ پر ایک مختصر نگاہ ڈال لینا غالباًدلچسپی کا باعث ہو گا۔

جب پاکستان قائم ہوا تو یہاں صرف تین یونیورسٹیاں تھیں: لاہور کی پنجاب یونیورسٹی، ڈھاکا یونیورسٹی اور کراچی کی نوزائیدہ سندھ یونیورسٹی۔ اس آخرالذکر یونیورسٹی کے قیام کی تیاریاں کئی سال پہلے سے چل رہی تھیں لیکن اپریل 1947میں جب اس نے سندھ مدرستہ الاسلام کی عمارت کے ایک حصے میں کام شروع کیا تو پروفیسر اے بی اے حلیم (جن کی عرفیت ’ابا حلیم‘ تھی) اس کے پہلے وائس چانسلر بنے۔ جولائی 1948میں جب کراچی کو وفاقی دارالحکومت قرار دے کر سندھ سے الگ کر دیا گیا اور سندھ کی صوبائی حکومت کوکراچی سے بے دخل کر کے حیدرآباد کا راستہ دکھایا گیا تو حکومت سندھ اور مرکزی حکومت کے درمیان اس یونیورسٹی پر کنٹرول کے معاملے پر رسہ کشی شروع ہو گئی۔ آخرکار 1951 میں سندھ یونیورسٹی کو بھی حیدرآباد کی راہ لینی پڑی۔ اسی سال کراچی یونیورسٹی قائم ہوئی اور پروفیسر حلیم کی خدمات اس نئی یونیورسٹی کو منتقل ہو گئیں۔ اس نئی یونیورسٹی یا جامعہ کا خاکہ تیار کرنے میں اشتیاق حسین قریشی نے کلیدی کردار ادا کیا جو اس وقت مہاجرین و آبادکاری کے وزیرمملکت تھے۔

اگرچہ اشتیاق حسین قریشی بعد میں وزیرتعلیم بھی ہوے اور وائس چانسلر کی حیثیت سے 1961 سے 1971تک کراچی یونیورسٹی کے سیاہ و سفید کے بھی مالک رہے، لیکن ان کی دلچسپیاں مہاجرین اور ان کی سیاسی و نفسیاتی آبادکاری پر ہی مرکوز رہیں۔

یہ بات ایک چھوٹی سی تفصیل سے واضح ہو جائے گی۔ کراچی یونیورسٹی میں سندھی کا شعبہ 1972میں، یعنی یونیورسٹی کے قیام کے اکیس برس بعد اوراشتیاق حسین قریشی کے سبک دوش ہونے کے ایک سال بعد،اس عمارت میں قائم ہوا جو یونیورسٹی کی پرانی کینٹین تھی۔وائس چانسلری سے سبک دوش ہونے کے بعد قریشی صاحب کی کیا سرگرمیاں رہیں، اس کی کچھ تفصیل ڈاکٹر طارق رحمن نے لسانی سیاست کے موضوع پر اپنی انگریزی کتاب میں بیان کی ہے۔ جب 1972 میں سندھ اسمبلی میں سندھی زبان کی لازمی تعلیم کا بل پیش ہونے پر اردو کا جنازہ نکلا اور لسانی فسادات بھڑک اٹھے تو دونوں فریقوں کے درمیان سمجھوتے کی بات چیت اشتیاق حسین قریشی کی قیام گاہ پر انجام پائی۔ (جی نہیں، وہ عزیزآباد میں نہیں، مدینتہ الجامعہ میں رہتے تھے۔) ڈاکٹر رحمن یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ہنگاموں میں یونیورسٹی کے شعبۂ سندھی کو نذرآتش کر دیا گیا تھا۔

اشتیاق حسین قریشی کے اس تفصیلی ذکر کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ماہرتعلیم ہونے کے علاوہ ان کی ایک معروف حیثیت تاریخ نگار کی بھی ہے، اور پاکستان میں تعلیم کی تاریخ کے موضوع پر ان کی انگریزی کتاب کا ترجمہ کراچی یونیورسٹی کے جریدے میں ان دنوں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔ شمارہ 43 میں اس کے جس باب کا ترجمہ شامل ہے اس کے درج ذیل تین اقتباسات سے وہ نظریاتی پس منظر واضح ہو جائے گا جو اس یونیورسٹی میں (اورغالباً دیگر پاکستانی یونیورسٹیوںمیں بھی) مسلمہ سرکاری موقف کا درجہ رکھتا ہے۔ قریشی صاحب کہتے ہیں:

(1) ’...صرف ایک استثنائی واقعہ ایسا ہے کہ ڈھاکہ یونیورسٹی، جہاں قائداعظم نے پرزور انداز میں فرمایا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اور صرف اردو ہی ہو سکتی ہے تو مٹھی بھر طالبعلموں نے چلا کر کہا کہ بنگالی، بنگالی!“۔

(2) کچھ آگے چل کر مزید کہتے ہیں: ’مشرقی پاکستان میں اس ]بھارت[نے کامیابی سے ہندو اقلیت کو زبانی اور معاشی بدحالی کی بنیاد پر بے اطمینانی کے بیج بونے کیلئے اس وقت تک استعمال کیا جب تک علیحدگی کےلئے سازگار ماحول پیدا نہیں کر دیا۔ پھر آخری ڈرامہ کھیلا گیا اور مشرقی پاکستان بھارت ہی کی ایک مطیع ریاست بن کر رہ گیا۔ مغربی پاکستان میں یہی کھیل کھیلنے کے لئے سندھی ہندوؤں کو استعمال کیا اور اب تک استعمال کیا جا رہا ہے‘۔

(3) ’بہت سے اشتراکیت کے حمایتی قلمکار جو پاکستان یا اس کے نظریہ پر یقین نہیں رکھتے تھے، انکو ترغیب دے کر پاکستان کی طرف ہجرت کرائی گئی جہاں آ کر انہوں نے تقسیمِ ہند کی ضرورت کے خلاف بتدریج کھلے بندوں لکھنا شروع کر دیا‘۔

اگر آپ چاہیں تو اسے ہماری یونیورسٹیوں کا تاریخی اور سیاسی شعور کہہ لیجیے۔دانش گاہیں ہوں یا جامعات، یہی نقطۂ نظر سکہ رائج الوقت رہا ہے اور اب تک ہے۔

)جاری)

 
 
نقاطکتابیں اور رسالے
اردو ناول نگاری اور حسن منظر کا العاصفہ
 
 
اجمل کمال یہ ہماری اردو زبان
اردو اور بےچاری مقامی زبانیں، اجمل کمال کا کالم
 
 
اجمل کمال یہ ہماری اردو زبان
اردو اور ہندی کی باہمی چپقلش، اجمل کمال کا کالم
 
 
اسی بارے میں
یہ ہماری اردو زبان، چہارم
09 September, 2003 | صفحۂ اول
اردو میں ایک سنگ میل
21 July, 2002 | صفحۂ اول
جنگ، ادب اور صحافت
17.04.2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد