BBC Urdu

صفحۂ اول > فن فنکار

اردو تجرباتی افسانہ، شاعری اور طنز و مزاح

فیس بُک ٹِوِٹر گوگل
14 جولائ 2013 07:43 PST

انور سِن رائے

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


’نمک پارے‘ مبشر علی زیدی کے تجرباتی افسانوں کا اور ’چٹیکیاں‘ ذوالفقار علی احسن کے طنز و مزاح پر مبنی مضامین ہیں۔ ’خواب نما‘ محمد علی منظر کی اردو شاعری کا اور ’یاد سہاگن ہوئی‘ اخلاق عاطف کی پنجابی شاعری کا مجموعہ ہے۔ چاروں کتابیں اپنی الگ الگ دنیائیں رکھتی ہیں۔

نام کتاب: نمک پارے

مصنف: مبشر علی زیدی

صفحات: 160

قیمت: 250

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

E-mail:www.scheherzad.com

اردو میں بھی مختصر ترین کہانیاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اردو فکشن پڑھنے والا شاید ہی کوئی ہو جس نے سعادت حسن منٹو کی ’سیاہ حاشیے‘ نہ پڑھی ہو۔

میرے ذہن میں کافکا کا نام رہتا ہے۔ پہلے تو فیشن کے طور پر اختیار کیا اور پڑھا، زیادہ پڑھنے سے بھی کافکا اثر کم نہیں ہوا۔ اُس کے ترجمے بھی کرتا رہا ہوں اور نقل کرنے کو کوشش بھی۔ سیکھنے کا مجھے یہی طریقہ آتا ہے۔ گزشتہ صدی کے آٹھویں دھے کے آخر میں کئی کہانیاں کافکا کے تقلید میں لکھیں۔ ایک تھی:

چوہے کی حمد

شکر رب کا جس نے مجھے انسان نہ بنایا۔

اس حوالے کا یہ مطلب ہرگز نہیں، اس نوع کی پہل میں نے کی۔ یہ پہل تو منٹو نے ہی کی۔ لیکن جو کام مبشر نے کیا ہے وہ کچھ اور ہے۔

میرا ارادہ تھا کہ آپ کو ان کے اس کام کا پس منظر اور ان مختصر کہانیوں کی کہانی سناؤں گا، کچھ فیلش، سڈن، شارٹ شارٹ اور پوسٹ کارڈ فکشن کے بارے میں یا مائیکرو سٹوری کے بارے بتاؤں گا لیکن مبشر زیادی نے اپنی اس کتاب کے آخر میں ساری ضروری تفصیل ایسے بیان کر دی ہے کہ میں اسے دہرانے کہ سوا کچھ نہیں کروں گا۔

لیکن کچھ اور باتیں ہیں، وہ ایک کہانی کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ یہ کہانی فریڈرک براؤن کی ہے اور 1948 میں پہلی بار شائع ہوئی۔ مبشر نے کتاب میں انگریزی متن بھی دیا ہے۔ میں یہاں صرف اردو میں ہی دے رہا ہوں۔

زمین پر آخری آدمی کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، دروازے پر دستک ہوئی ۔ ۔ ۔

نو سال بعد رون سمتھ نے اس میں ایک لفظ تبدیل کیا اور knock کو lock یعنی دستک کو تالا کر دیا، کہانی یوں ہو گئی:

زمین پر آخری آدمی کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، دروازے پر تالا پڑا تھا ۔ ۔ ۔

اور میں بھی اس میں ایک لفظ تبدیل کر رہا ہوں:

زمین پر پہلا آدمی کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، دروازے پر تالا پڑا تھا ۔ ۔ ۔

ان مختصر کہانیوں کو نئی شہرت لیڈیا ڈیوس سے ملی، جنھیں 2013 کا مین بُکر انٹرنیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔ لیکن ان کا معاملہ بھی مبشر سے اتنا متعلق نہیں کیونکہ انہوں نے ’نمک پارے‘ میں ہر کہانی سو لفظوں میں لکھی ہے، نہ کم نہ زیادہ، طبع زاد بھی اور ماخوذ بھی۔ یہ طریقہ بھی دنیا کی کئی زبانوں میں رائج ہو چکا ہے۔

ان کی کتاب میں سو کہانیاں ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب سو کا مربع ہے۔ اس انداز میں کہانی کہنے کے لیے لفظ چننے پڑتے ہیں۔ لفظوں کی کفایت اور انتخاب کی اس سے اچھی مشق اور کیا ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں اس حوالے سے ہمارے ہاں صورت حال زیادہ متنوع ہے۔

یہاں غزل کی بات کیوں نہ ہو، جس میں بحر منتخب ہوتی ہے تو لفظوں کی تعداد اوزان کی بنیاد پر طے ہو جاتی ہے، پھر قافیے اور ردیف کی پابندی اختیار کی جاتی ہے یا کم از کم قافیے کی پابندی تو کی ہی جاتی ہے اور ہر شعر ایک کہانی بھی ہوتا ہے۔ لیجیے ہو گئی گنے چُنے لفظوں میں کہانی جوفیلش، سڈن، شارٹ شارٹ، پوسٹ کارڈ فکشن اور مائیکرو سٹوری کی منشا پر بھی پوری اترتی ہے۔

غزل کی آمد کا قضیہ چھوڑ بھی دیں تو گنے چنے کی پابندی سے کہانیاں لکھنے کا طریقے کہیں قدیم ہے۔ ہو سکتا ہے کسی کہ ذہن میں ہائیکو کا خیال آ جائے لیکن غزل کا شعر اس سے مختصر بھی ہو سکتا ہے۔ پھر بھی اس گنتی والی بات نہیں آتی۔ ایک ہی بحر کے ہم وزن مصرعوں میں لفظوں کی تعداد کم زیادہ ہو سکتی ہے، ہوتی ہی ہے۔

مثال کے لیے ظفر اقبال ایک غزل کے شعر دیکھیں، لفظوں کی تعداد بریکٹ میں ہے:

آن تمھاری، بان تمھاری (4)/ سب سے اونچی شان تمھاری (5)

میں معذور گزر نہیں سکتا(5)/ آبادی گنجان تمھاری (3)

حقیقت تو یہ کہ لفظوں کی تعداد طے کر کے اس میں بات پوری کرنے کا خیال مبشر زیدی سے پہلے اردو میں کسی کو نہیں آیا۔ باقی باتیں ویسی ہی کج بحثی ہیں جو نثری شاعری کے حوالے سے بہت کی جا چکی ہے۔

یہاں ایک بات اور بتانا چاہتا ہوں کہ کچھ لوگوں نے انگریزی میں ایسی کہانیاں بھی لکھی ہیں جو واقعی مربع شکل کی ہیں اور انہیں آپ بائیں سے دائیں ہی نہیں اور سے نیچے بھی پڑھ سکتے ہیں تو اس طرح ایک کہانی میں کئی کہانیاں ہیں۔ ذرا اس کوشش بھی کوئی اردو میں کر دیکھے۔کہانیاں بنیں نہ بنیں دانت کھٹے ضرور ہو جائیں گے۔

اس تجربے کا 1950 کے لگ بھگ شروع ہونے اور دس ہی سال میں ختم ہو جانے والی کنکریٹ، شیپ یا ویژول پوئٹری سے بھی کوئی علاقہ ہے یا نہیں، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اگر میں غلط نہیں تو کنکریٹ شاعری کی کچھ کوششیں اردو میں ہوئی تھیں، شاید کچھ نظمیں شمس الرحمٰن فاروقی کے شب خون میں شائع ہوئی تھیں۔ لیکن اردو افسانے اور کہانیوں میں اسے لانے کے سارے عذاب ثواب کی ذمے داری مبشر زیدی پر عاید ہوتی ہے۔

وہ پچاس لفظی اور پچیس لفظی کی بھی تقلید کریں گے یا یہ کام اوروں پر چھوڑ دیں گے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

اس کتاب میں جو سو کہانیاں ہیں وہ سب کی سب میرے لیے مبشر کی ہی ہیں۔ ان کی کوئی ایک کہانی بھی ایسی نہیں جو کچھ نہ کچھ کہتی نہ ہو، چند ایک کے سوا سب میں ایک خبریت سی ہے۔ جن میں سے ’سوگ‘ صفحہ 31 خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ کئی کہانیاں محض لطیفے کے قریب تک جا کر رہ جاتی ہیں۔

پھر بھی کلاکار، الہ دین، مردود، خوش نصیب، نیا ڈومین اور مہم جُو خاص طور قابلِ توجہ ہیں۔

میں اس تصور ہی کے خلاف ہوں کے اظہار کو پابند کیا جائے، ادب میں تو زبان ہی ذریعہ بھی ہے اور رکاوٹ بھی، اس پر اور شرطیں کس لیے۔

کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے۔قیمت مناسب کہی جا سکتی ہے۔

خواب نما کی شاعری

نام کتاب: خواب نما

مصنف: محمد علی مظفر

صفحات: 136

قیمت: 200 روپے

ناشر: ادارۂ روایت، اے 105، شمائل گارڈن، گلستانِ جوہر، بلاک 19، کراچی

محمد علی مظفر ایک معقول آدمی ہیں اور میرا خیال ہے کہ ایک معقول زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ وہ سندھ کے ضلع دادو میں پیدا ہوئے، اردو میں ایم اے کیا، خوش قسمتی سے نوکری بھی تدریس کی مل گئی، پہلے عمر کوٹ میں لیکچرر رہے اب کراچی میں اردو پڑھا رہے ہیں۔

غزل کہتے ہیں اور نظمیں۔ عتیق جیلانی کا کہنا ہے کہ اس مجموعے میں شامل ان کی شاعری میں ناصر کاظمی، منیر نیازی اور ثروت حسین کی گونج نمایاں ہے۔ کتاب میں شامل ان کا یہ مصمون نہ بھی ہوتا، تو ان کی 61 غزلیں اور 13 نظمیں بتا دیتیں کہ شاعری ان کا روگ نہیں شوق ہے اور شوق حد سے بڑھ بھی سکتا ہے۔

انھیں کیا کسی کو بھی شعر کہنے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کس وقت کس میں کیا تبدیلی آ سکتی ہے اور کب شوق روگ کا روپ دھار سکتا ہے۔

غزل میں اچھے شعر کا ہو جانا حیران کن نہیں لیکن اصل بات شاید یہ ہے کہ جو شعر اچھا نہیں ہوتا وہ بھی شاعر کے بارے میں بتاتا ہے، جب تک یہ بات پیدا نہیں ہوتی تب تک شاعر شاعری کا مشقی یا پریکٹیشنر ہی کہلائے گا۔ لیکن اگر کوئی کچھ اور کرنے کی بجائے شعر کہنے کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

اب ان کے شعر اور کچھ نظمیں دیکھیں:

صبح کا شام کے رنگوں سے جدا ہے منظر

کوئی اس کام پہ مامور نظر آتا ہے

پہلے جاتا ہے تیرے چہرۂ رنگیں کی طرف

دھیان پھر میرا گلستاں کی طرف جاتا ہے

سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گذر جاتے ہیں

اے محبت ترے ناکام کدھر جاتے ہیں

تم ہو تے تو ہو سکتا تھا

منظر اس سے بہتر سائیں

تنہائی کے جنگل میں

آگ لگائے سرد ہوا

یہ شعر میں نے ایسے ایک ہی نظر میں دیکھ کر آپ کو سنائے ہیں، ان دنوں جو ڈھیروں غزل کہی جا رہی ہے یہ اس میں شامل کر دیے جائیں تو الگ نہیں کیے جا سکتے کہ منظر کے ہیں۔

نظم پچھتاوا:

آتش دان میں راکھ پڑی تھی

اور گل دان میں سجے ہوئے تھے

مرجھائے کچھ پھول

سوفوں اور تصویروں پر تھی

ہلکی ہلکی دھول

خاموشی کے وقفے نے جب کھینچا گہرا طول

لوٹ آیا یہ سوچ لیے میں

کیوں آیا تھا ملنے اس سے

ہو گئی کیسی بھول

اس نظم کی آخری لائن صرف منیر نیازی اور ثروت کی پیروی میں آئی ہے۔ نظم کو اس کی ضرورت نہیں، خاص طور پر عنوان کے بعد لیکن خارجی غنایت نے باندھا ہوا ہے، شاعر پہلے تین مصرعوں کا بند لکھ کر خاص آہنگ کا پابند ہو چکا ہے۔ پہلا اور دوسرا بند ایک ہی بات کہہ رہے ہیں۔ شاعر کو کم از کم سمجھ دار قاری ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ادب کا استاد بھی ہو تو اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

نئے شاعروں کو یہ کتاب یہ دیکھنے کے لیے پڑھنی چاہیے کہ جمالیاتی التباس غلطیاں کیسے کراتا ہے اور عام قاری کو اس لیے پڑھنی چاہیے انہیں ایسی شاعری پڑھنے کو ملے گی جو بہت اچھی نہ ہوتے ہوئے بھی اچھی ہے۔ ’علن فقیر کے لیے‘ اور ’ذیشان کی یاد میں‘ اچھی نظمیں ہیں۔ ذرا ذیشان والی نظم کو یوں بھی پڑھ کر دیکھیں:

ذیشان کا کمرہ

چڑیا بھی ہے چپ چاپ

تصویر ہے خاموش

ٹوٹو کی نگاہیں

اب تک ہیں سوالی

گل دان ہے خالی

بستر کے سرہانے

رکھی ہیں کتابیں

کتاب عمدہ چھپی ہے، اور قیمت انتہائی مناسب ہے۔

چٹکیاں

نام کتاب: چٹکیاں

مصنف: ذوالفقار علی احسن

صفحات: 128

قیمت: 120 روپے

ناشر: حق پبلی کیشن، 2-A سیّد پلازہ، چیٹر جی روڈ، اردو بازار۔ لاہور

میں کسی مضمون میں بھی خاص نہیں لیکن طنز و مزاح تو میں خاصا کورا ہوں۔ اچھے خاصے کھلے لطیفے بھی پہلے تو سر سے گزر جاتے ہیں لیکن پھر کسی وقت، کسی بات سے، اچانک اُن میں سے کوئی یاد آتا ہے تو ہنسنے لگتا ہوں۔ تب یہ بھی خیال نہیں رہتا کہاں ہوں۔ جہاں ہوں وہاں کیا بات چل رہی ہے، ہنسنے کا موقع ہے، نہیں ہے۔ یوں لطیفے یا مزاح سے بھری باتیں اور واقعات خود مجھے جیتے جاگتے مزاح یا لطیفے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

میرے کئی قریبی دوست یقینًا سمجھتے ہیں کہ میں کہیں نہ کہیں سے کھسکا ہوا ہوں، کوئی نہ کوئی چُول یا سکرو ڈھیلا ہے۔ اخلاقًا کہتا تو کوئی نہیں لیکن ان کے جسموں کی خاموش زبان اور اور آنکھوں کی رنگ بدلتی چمک سب بتا دیتی ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ مجھے مزاح سے ہمیشہ ایک ڈر سا لگتا ہے۔ مزاح سے پہلے اردو میں بالعموم طنز کا لفظ ضرور استعمال کیا جاتا ہے، شاید میرا ڈر اس لفظ کی وجہ سے ہے۔

زبانی اور لکھ کر مزاح پیدا کرنے والے سمجھتے ہیں کہ وہ مزاح کے ذریعے لوگوں، چیزوں اور حقیقت کا وہ پہلو سامنے لاتے ہیں جسے ویسے بیان کرنے سے تلخی، بدمزگی یا امن میں خلل کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے اور ان کے پاس اس عظیم فرض کی ادائی کے لیے بے حدود اجازت نامہ ہے۔

لیکن میری ناقص رائے میں یہ کام تیز دھار خنجر سے گدگدانے کا شیشہ گری ایسا نازک ہے۔ اس میں گدگدانے والے کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ ذرا سے بے احتیاطی اور توجہ کی کمی بیشی قانونی دست اندازی کا جواز بھی پیدا کر سکتی ہے۔

شاید یہی وجہ کہ مجھے جب کبھی ایسی کوئی تحریر پڑھنے کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے جس میں طنز اور مزاح کے ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں تو مجھے لکھنے والا ایسا تارا مسیح لگتا ہے جو اپنا کام سرے عام انجام دینے والا ہو اور ہر طرح کے احساسات تہی اس کا مقصد محض اپنی ہنر مندی کی داد حاصل کرنا ہو۔

یہی وجہ ہے کہ میں طنز و مزاح کو ہاتھ لگانے سے ڈرتا ہوں، پھر جو پڑھا ہے اس میں ابنِ انشا اور کرنل محمد خان کو سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ شفیق الرحمٰن کا نام بھی میرے ذہن میں آ رہا ہے لیکن بہت یاد کرنے پر بھی ان کی کوئی تحریر تازہ نہیں ہو رہی۔

پطرس بخاری،حاجی لق لق،رتن ناتھ سرشار،شوکت تھانوی،کنہیا لال کپور،مرزا فرحت اللہ بیگاور دوسرے بہت سے لوگوں کو سکول کے نصاب کے بعد میں کبھی ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کی۔

یہ سارح باتیں مجھے ذوالفقار علی احسن کی کتاب چٹکیاں پڑھتے ہوے یاد آتی رہیں۔ یہ ان کی پہلی کتاب نہیں ہے وہ ’اٹکھیلیاں‘ اور پھر ’چھیڑ چھاڑ‘ کے ذریعے ڈاکٹر وحید قریشی، وزیر آغا، ڈاکٹر خواجہ زکریا، عطالحق قاسمی جیسے بزرگوں سے داد اور شہہ پا چکے ہیں اور ڈاکٹر محمد فخرالحق نوری پر تو وہ مہمیز ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس کتاب میں بھی انہوں نے انور سدید اور ڈاکٹر سلیم اختر کو ساتھ رکھا ہے۔ انور سدید مشتاق یوسفی کو فن (طنز و مزاح) کے معیار کا مرکز اور ذوالفقار احسن کو مرکز گریز یعنی بظاہر فن سے گریزاں قرار دیتے ہیں اور اسی کو ان کی انفرادیت بیان کرتے ہیں۔ شاید سدید انھیں ایک مختلف نوع کا مزاح نگار کہنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زبان کی مخفی و ممکنہ کاررستانیوں پر نظر نہ ہونے کے باعث تعریف میں عدم تعریف کے پہلو پر نظر نہیں رکھ سکے۔

یہی وصف ذوالفقار میں بھی ہے۔ خاص طور پر اس کتاب میں انھوں نے بہت سے عام لطیفوں کو بھی محفوظ کیا ہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر کا انداز اس چھوٹے سے ٹکڑے میں، جو کتاب کی پشت پر چھپا ہے، خود ان کے اپنے انداز سے مختلف ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی تفصیل میں جائے بغیر لفظوں کے استعمال کے بارے میں ان سے کچھ سیکھنے کے لیے سوال ہے، ان کا جملہ ہے: ہم عہد منافقت میں زیست کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمیں ان سے یہ جاننا چاہیے کہ منافقت کے عہد کی جگہ عہدِ منافق کا اور زندگی کی جگہ زیست کا استعمال کیا کردار ادا کر رہا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

لیکن ذوالفقار کی نثر ایسی نہیں ہے: کچھ لوگ اس وقت تک معزز لگتے ہیں جب تک خاموش بیٹھے رہیں۔، شبیر بھائی جب پیدا ہوا تب بھی اتنا ہی منحنی تھا۔ شبیر بھائی میں ارتقا نام نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

ایک ہی پیرا گراف میں یہ دو جملے ان کی نثری صلاحیت کو نمایاں کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پہلا جملہ ان میں مشاہدے کی صلاحیت کی دلیل ہے۔ دوسرے جملے میں، میں نے دو جملوں کو جمع کیا ہے اور کہنا صرف یہ چاہتا ہوں اس میں ارتقا کا استعمال اعلیٰ مزاح اور نثر کی شکل ہے۔ لیکن آگے چل کر وہ پھسل جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کرداروں کی زبان کا جغرافیہ تک بھول جاتے ہیں۔ انھیں یہ تک خیال نہیں آتا کہ ’ادھر آئیو‘ اور ’ادھر آنا‘ بولنے والے کو کہاں سے کہاں کا بنا دیتا ہے۔

ذوالفقار کے بارے میں یہ تو طے ہے کہ وہ آپ کو ہنسنے پر مجبور کر سکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اپنے تشکیل کردہ کرداروں سے ہم دردی نہیں ہے، جب کہ یہ ہمدردی ادب کی لازمی شرط ہے۔ میری ناقص رائے میں انھیں اب اپنے کرداروں کو خود پر قیاس کرنا چاہیے، زرا خود کو شبیر بھائی کی جگہ رکھ کر دیکھیں اور یہ بھی سوچیں کہ اس کی جو بھی مضحکہ خیزی ہے، وہ اگر فطرت کی مسلط کی ہوئی ہے تو؟

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ ان کی کتاب پڑھے جانے اور کئی بار پڑھے جانے کے لائق ہے۔ چھپی بھی بری نہیں لیکن کاغذ کچھ بہتر ہونا چاہیے تھا، ایسے نیوز پرنٹ پر انہی تحریروں کو چھاپا جانا چاہیے جن کی عمر خبر سے زیادہ ہونے کی توقع نہ ہو۔ لیکن یہ تو ایک سے زیادہ بار پڑھے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یاد سہاگن ہوئی

نام کتاب: یاد سہاگن ہوئی

مصنف: اخلاق عاطف

صفحات: 192

قیمت: عمدہ ایڈیشن 300 روپے، عام ایڈیشن 200 روپے

ناشر: پنجابی مرکز لاہور

یہ اخلاق عاطف کی پنجابی شاعری کا دوسرا مجموعہ ہے۔ انھوں نے ’یاد سہاگ دی مہندی‘ کے نام سے جو پیش لفظ لکھا ہے، اس سے پتا چلتا ہے کہ ان کا پہلا مجموعہ ’ساویاں ونگاں‘ یا ہری چوڑیاں اٹھارہ سال پہلے شائع ہوا تھا۔

انھوں نے اس پیش لفظ میں بہت سارے مسائل اٹھائے ہیں جو پنجاب اور پنجابی کی بطور زبان ضروریات کو نمایاں کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ ہیں جو اس پر زیادہ بہتر انداز سے بات کر سکتے ہیں، اور کرتے بھی ہیں۔

اس بات سے کسی اختلاف کو کوئی گنجائش نہیں کہ ہر بچے کو بے شک دوسری کوئی بھی زبان پڑھائی جائے لیکن اسے اس کی مادری زبان میں تدریس سے محروم کرنا غیر انسانیت اور حقوق سے محروم کیے جانے کے زمرے میں ہی آئے گا۔ لیکن اس کے لیے جس نوع کی تیاری اور بنیادی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے اس پر بات نہ کرنا اور اس میں اپنا حصہ ادا نہ کرنا، محض سستی مقبولیت اور جذبات سے کھیلنے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

ہمیں اپنا بھی احتساب کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ ہم سب جو مادری زبانوں کی پسپائی کے لیے کی جانے والی سازشوں کا سراغ لگاتے رہتے ہیں، درکار بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ کام حکومتوں کے کرنے کا ہے تو حکومتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا جا رہا ہے؟

اخلاق احمد کہتے ہیں کہ پنجابی اُن کی مادری زبان نہیں ہے۔ وہ اردو میں لکھتے ہوئے اپنے کچھ مہربانوں کی فرمائش پر پنجابی میں لکھنے کی طرف آئے۔ اس کی تفصیل پیش لفظ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس مجموعے میں اخلاق عاطف نے ایک کام تو ایسا کیا ہے جو اب بہت ہی کم لوگ کرتے ہیں یعنی کہ کسی کو وکیل نہیں کیا، نہ کوئی تعریفی مضمون ہے اور نہ ہی کوئی فلیپ۔ ایک پیش لفظ لکھا ہے تو اس میں بھی اس انداز اور طریقے سے اختلاف ہی کیا ہے۔ اتنا اعتماد تو ہونا ہی چاہیے۔

دوسری بات انہوں نے یہ کی ہے کہ کتاب میں فہرست کا تکلف بھی نہیں کیا۔ پہلے غزلوں کا حصہ ہے اور پھر نظموں کا۔ اور اس سبب کی وضاحت بھی نہیں کی۔

غزلوں میں اردو غزل کا مزاج پنجابی سے مل کر ایک نیا محسوساتی آہنگ ترتیب دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حمد کا ہی ایک شعر دیکھیں:

اڈن والے اُڈ جاندے نیں مان پراں تے کردے

میں پر ٹُٹیا کدھر جاواں، باجھوں تیرے در دے

لیکن اس کے باوجود کہ ان کی غزل پر اردو مزاج کا بہت اثر نہیں، پنجابی ثقافت اپنی ہمہ رنگی کے ساتھ دمکتی ہے۔

عمر گزاری رل کے، وتھاں مک نہ سکیاں

لکھاں کہیاں سُنیاں، گلاں مُک نہ سکیاں

سوچ دیا دیواراں دی

ہر اک اٹ کھنگرالی اے

عاطف اج وی ساڈے لئی

انھی سو سنتالی اے

حسن تےعشق دا سانگا ہے ازل توں، مینوں

اپنی اکھیاں دا انگوٹھا ہی لوا کے لے ونج

پیدل علموں عقلوں وی

سوچوں، بھلکے ننگے لوک

یہ چند ایک شعر میں نے یوں ہی دکھائے ہیں، کم و بیش ہر غزل میں ایسے شعر موجود ہیں۔ یہی صورت نظموں میں بھی ہے۔

شعر، زبان اور سماجیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ شعری مجموعہ ضرور پڑھنا چاہیے کیوں کہ جب مختلف قومیتی زبانوں والے اپنی مادری زبانوں پر اردو اور انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دے رہے ہوں تو ایک غیر پنجابی کا پنجابی میں اظہار کرنا مادری زبان کے سوال کا ایک نیا پہلو اجاگر کرتا ہے، کرتا ہے یا نہیں اس پر غور تو کرنا ہی چاہیے۔

یہ پہلی کتاب ہے جسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا ہے کہ زیادہ خوبصورتی کی کوشش بھی کتاب کو خراب اور وقار کو متاثر کر سکتی ہے، قیمت تو یقینی طور کم رکھی گئی ہے۔

ان کے ساتھ بُک مارک کریں

Email فیس بُک گوگل ٹِوِٹر