اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’اسلحے کی فراہمی متاثر ہوگی‘

کابل میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند کے بقول پاکستان کی سٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ پاکستان اس پالیسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے جب افغانستان میں بھارت کے کردار کے بارے میں بیانات دیے جاتے ہیں تو اس پر افغانستان میں شدید ردعمل ہوتا ہے کہ یہ پاکستان کیوں طے کرے کہ افغانستان کے بھارت کے ساتھ کیسے تعلقات ہوں گے۔ افغانستان ایک آزاد ملک ہے وہ اپنے فیصلے خود کر سکتا ہے۔

رستم شاہ مہمند نے کہا کہ پاکستان نے اگر کسی ایک گروہ کا ساتھ دینے کے بجائے افغانستان میں تمام لوگوں پر سرمایہ کاری کی ہوتی تو یہ نتائج نہ ہوتے۔